تحریر: مَستان سناڑی

انسانی تاریخ کا تسلسل محض سالوں، صدیوں یا زمانوں کے گزر جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ دراصل انسانی شعور، جدوجہد، نظریات اور بقا کی ان ان گنت جنگوں کا مجموعہ ہے جو مظلوم اور ظالم، غاصب اور محکوم کے درمیان ازل سے جاری ہیں اور ابد تک جاری رہیں گی۔
تاریخ کوئی بے جان کتاب نہیں جس کے صفحات پر ماضی کی داستانیں لکھ کر انہیں ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہو، بلکہ تاریخ ایک زندہ، متحرک اور انتہائی بے رحم عدالت ہے جو ہر لمحہ اپنا فیصلہ صادر کرتی رہتی ہے۔ اس عدالت کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ کسی عارضی طاقت، فرعونیت، یا کسی جابر کی وقتی بالادستی سے مرعوب نہیں ہوتی، کیونکہ وقت کا پہیہ جب گھومتا ہے، تو وہ بڑے سے بڑے تخت و تاج کو خاک میں ملا دیتا ہے اور سلطنتوں کے غرور کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔
لیکن اس پورے تاریخی عمل میں جو چیز مستقل اور لافانی رہتی ہے، وہ حق اور سچائی پر مبنی نظریہ اور وہ انقلابی شعور ہے جو انسان کو غلامی کی زنجیریں توڑنے پر مجبور کرتا ہے۔
جب ہم کسی قوم کی آزادی، خصوصاً بلوچ قومی تحریکِ آزادی کے تاریخی اور فلسفیانہ تناظر کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں نظر آتی ہے کہ آزادی محض ایک سیاسی نعرے یا جغرافیائی سرحدوں کی تبدیلی کا نام نہیں۔ آزادی بنیادی طور پر ایک کائناتی سچائی ہے، یہ انسان کے پیدائشی حق اور اس کی روح کی پکار کا نام ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ، ہر پرندہ اور ہر جاندار اپنے فطری ماحول میں آزاد رہنے کے لیے تڑپتا ہے۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کروڑوں انسانوں پر مشتمل ایک قدیم قوم، جس کا اپنا ایک منفرد تاریخی وجود ہے، جس کی اپنی زبان، ثقافت، روایات اور جغرافیہ ہے، اسے مستقل طور پر سنگینوں کے سائے میں غلام بنا کر رکھا جا سکے؟
انقلابی فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جبر اور استعمار کی عمر چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، وہ کبھی مستقل نہیں ہو سکتی۔ ظلم اپنی ساخت میں عارضی ہوتا ہے کیونکہ اسے برقرار رکھنے کے لیے مسلسل تشدد، جھوٹ اور مصنوعی ہتھکنڈوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، جبکہ آزادی اور حق اپنی ساخت میں مستقل ہوتے ہیں کیونکہ انہیں کسی بیرونی بیساکھی کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ تو عوام کے دلوں میں دھڑکتے ہیں۔
کسی بھی مظلوم قوم کی تحریکِ آزادی جب اپنے عروج کی طرف بڑھتی ہے، تو وہ اپنے ساتھ معاشرے کے اندر ایک گہرا فکری اور نظریاتی انقلاب لے کر آتی ہے۔ یہ انقلاب صرف بیرونی غاصب کے خلاف نہیں ہوتا، بلکہ یہ معاشرے کے اندر موجود ہر اس بوسیدہ سوچ، مفاد پرستانہ ذہنیت اور کمزوری کے خلاف بھی ہوتا ہے جو قوم کو آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔
انقلابی تحریک ایک ایسی بھٹی کی مانند ہوتی ہے جس میں پوری قوم کو تپنا پڑتا ہے۔ اس تپش کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کھرے اور کھوٹے کی تمیز بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ ایک طرف وہ سرفروش، مخلص اور نظریاتی فرزند (سرمچار) ہوتے ہیں جو تمام تر آسائشوں، ذاتی مفادات، خاندان اور اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر دھرتی کی حرمت پر قربان ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا خون دھرتی کے ضمیر کو زندہ رکھتا ہے اور جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنتے ہیں۔
مگر دوسری طرف، بدقسمتی سے اسی معاشرے کے بطن سے کچھ ایسے وجود بھی جنم لیتے ہیں جو فکری دیوالیہ پن، خود غرضی، لالچ یا محض بزدلی کا شکار ہو کر اپنے ہی وجود کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں۔
آج بلوچ قومی تحریک کے مدمقابل جو سب سے بڑا اخلاقی اور فکری المیہ ہمیں نظر آتا ہے، وہ "ڈیتھ اسکواڈز” کی شکل میں مقامی آلہ کاروں کی موجودگی ہے۔ استعماری اور غاصب قوتوں کا یہ کوئی نیا ہتھکنڈہ نہیں، بلکہ دنیا بھر کی استعماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کوئی جابر کسی قوم پر قابض ہوتا ہے، تو وہ اسے جسمانی طور پر تو مغلوب کر لیتا ہے، لیکن اس کی روح اور جذبہِ حریت کو شکست دینے میں ہمیشہ ناکام رہتا ہے۔
جب استعمار کے تمام براہِ راست حربے، اس کی جدید تربیت یافتہ فوج، اس کا جدید ترین میڈیا اور اس کی معاشی طاقت مظلوم قوم کے عزم کو توڑنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، تو وہ الٹرا نیشنلزم یا مقامی غداری کا کارڈ کھیلتا ہے۔ وہ مظلوم قوم کے اپنے ہی لوگوں کو خریدتا ہے، ان کے اندر کی کمزوریوں کو ابھارتا ہے، انہیں مراعات کا لالچ دیتا ہے اور انہیں اپنے ہی بھائیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
تاریخ کے اس سیاہ عمل کو ہم فرانسیسی سامراج کے خلاف الجزائر کی جنگ میں دیکھ سکتے ہیں، ویتنام میں امریکی جارحیت کے دوران پا سکتے ہیں، اور برصغیر میں برطانوی راج کے دور میں میر جعفر اور میر صادق کی شکل میں دیکھ چکے ہیں۔
ڈیتھ اسکواڈز کا حصہ بننا، دشمن کی صفوں میں کھڑے ہو کر اپنے ہی لوگوں پر بندوق تاننا، اور اپنی ہی ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کی تذلیل کا سبب بننا محض ایک عارضی سیاسی غلطی نہیں ہے۔ اگر ہم اس کا گہرا فکری اور فلسفیانہ تجزیہ کریں، تو یہ دراصل انانیت کی موت اور قومی خودکشی کا نام ہے۔
جو شخص اپنے دشمن کا آلہ کار بنتا ہے، وہ اپنی انفرادی اور قومی شناخت کھو بیٹھتا ہے۔ وہ دشمن کی نظر میں بھی کبھی قابلِ عزت نہیں ہو سکتا۔ استعمار کی یہ نفسیات رہی ہے کہ وہ اپنے وفادار غلاموں سے محبت نہیں کرتا، بلکہ ان سے نفرت کرتا ہے اور انہیں صرف ایک اوزار (ٹول) کے طور پر دیکھتا ہے۔ جب تک اس اوزار کی ضرورت ہوتی ہے، اسے استعمال کیا جاتا ہے، اسے فنڈز دیے جاتے ہیں، اسے مراعات اور سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے، لیکن جیسے ہی اس کا استعمال ختم ہو جاتا ہے، یا جیسے ہی وہ اوزار دشمن کے لیے بوجھ بن جاتا ہے، اسے کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ الجزائر کے "حرکیوں” (فرانسیسی فوج کا ساتھ دینے والے مقامی لوگ) کا انجام ہمارے سامنے ہے، جنہیں آزادی کے بعد فرانس نے سڑکوں پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود ان کے اپنے معاشرے نے انہیں ہمیشہ کے لیے رد کر دیا۔
آج جو لوگ ڈیتھ اسکواڈز کی چھتری تلے بیٹھ کر خود کو طاقتور اور محفوظ سمجھ رہے ہیں، وہ دراصل ایک انتہائی خطرناک سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ وقتی مراعات، چند بلٹ پروف گاڑیاں، سرکاری پروٹوکول اور اپنے ہی نہتے لوگوں پر ظلم کرنے کا یہ عارضی اختیار ایک ایسی ریت کی دیوار ہے جو وقت کی ایک ہی تیز لہر سے زمین بوس ہو جائے گی۔
نظریاتی بحث کا سب سے بڑا استدلال یہ ہے کہ طاقت کا سرچشمہ کبھی بھی کوئی بیرونی غاصب نہیں ہو سکتا، بلکہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام اور ان کا اجتماعی شعور ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم بیدار ہو جائے، جب اس کے نوجوان موت کو گلے لگانے کے لیے تیار ہو جائیں، اور جب اس کی مائیں اپنے بچوں کو وطن کی قربان گاہ پر پیش کرنے میں فخر محسوس کرنے لگیں، تو دنیا کی کوئی بھی سپر پاور یا اس کے بنائے ہوئے مقامی گروہ اس قوم کا راستہ نہیں روک سکتے۔ یہ کائنات کا اٹل قانون ہے کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے اور باطل کو مٹنا ہی ہوتا ہے۔
انقلابی اور فلسفیانہ نقطہِ نظر سے، ان آلہ کاروں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے حال کو اپنے مستقبل پر اور اپنی عارضی زندگی کو اپنی ابدی تاریخی شناخت پر ترجیح دی ہے۔ ایک انسان کی زندگی پچاس، ساٹھ یا ستر سال ہو سکتی ہے، لیکن ایک قوم کی زندگی ہزاروں سال پر محیط ہوتی ہے۔ جو لوگ آج چند سالوں کی عیاشی کے لیے اپنی قوم کے مستقبل کا سودا کر رہے ہیں، وہ دراصل اپنی آنے والی نسلوں کے چہروں پر غداری کا وہ داغ لگا رہے ہیں جسے تاریخ کا کوئی بھی دریا نہیں دھو سکے گا۔
کل جب تاریخ لکھی جائے گی—اور تاریخ ہمیشہ مظلوموں کے خون سے لکھی جاتی ہے، ظالموں کے فرامین سے نہیں—تو ان ڈیتھ اسکواڈز کے سرکردہ لوگوں کا نام اچھے لفظوں میں نہیں لیا جائے گا۔ ان کا ذکر تاریخ کے ان سیاہ ترین ابواب میں ہوگا جہاں انسانیت شرماتی ہے اور جہاں غداری کو عبرت کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی آزادی کی تحریکیں صرف زمین کے کسی ٹکڑے کو حاصل کرنے کی جنگ نہیں ہوتیں، بلکہ یہ ایک اعلیٰ انسانی اور اخلاقی سماج کی تشکیل کا عمل ہوتی ہیں؛ ایک ایسا سماج جہاں انصاف، برابری، عزتِ نفس اور انسانی حقوق کی بالادستی ہو۔ اس کے برعکس، استعمار جو سماج تشکیل دیتا ہے، وہ خوف، لالچ، منافقت اور اخلاقی پستی پر مبنی ہوتا ہے۔
ڈیتھ اسکواڈز دراصل استعمار کے اسی اخلاقی بگاڑ کا عملی مظاہرہ ہیں۔ جب کسی انسان کا ضمیر مر جاتا ہے، جب اس کے اندر سے اپنی دھرتی، اپنے کلچر اور اپنی قوم کی محبت ختم ہو جاتی ہے، تو وہ ایک ایسا روبوٹ بن جاتا ہے جس کا ریموٹ کنٹرول دشمن کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ وہ دشمن کے اشارے پر اپنے ہی بھائی کا گلا کاٹتا ہے، اپنے ہی پڑوسی کا گھر جلاتا ہے اور اس پر فخر بھی کرتا ہے۔ یہ اخلاقی پستی کی وہ آخری حد ہے جہاں انسان اور حیوان میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔
لیکن یہاں ایک انتہائی اہم اور گہرا فلسفیانہ نکتہ یہ بھی ہے کہ انقلابی تحریکیں انتقام پر نہیں، بلکہ انصاف اور تبدیلی پر یقین رکھتی ہیں۔ انقلاب کا مقصد صرف جابروں کو سزا دینا نہیں ہوتا، بلکہ اس نظامِ جبر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوتا ہے جو انسان کو انسان کا غلام بناتا ہے۔ اسی لیے، تاریخ کا یہ کٹہرا جہاں مجرموں کے لیے ایک عبرت ناک عدالت ہے، وہیں یہ گمراہ ہونے والوں کے لیے واپسی کا ایک آخری موقع بھی ہے۔ اب بھی وقت ہے، فیصلے کی یہ گھڑی تاریخ کا وہ نازک ترین موڑ ہے جہاں انسان اپنے مقدر کا فیصلہ خود کر سکتا ہے۔
استعمار کا آلہ کار بننے والے ان افراد کو سوچنا چاہیے کہ وہ کب تک دشمن کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہیں گے؟ کب تک وہ اپنے ہی لوگوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتے رہیں گے؟
آخر کار ایک دن اس جبر کی رات کو ختم ہونا ہے، کیونکہ کوئی بھی استعمار ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہا۔ رومن ایمپائر سے لے کر برطانوی سلطنت تک، سب کا زوال ہوا، تو اس جدید استعمار کا زوال بھی یقینی ہے۔
جب وہ دن آئے گا، جب آزادی کا سورج طلوع ہوگا اور جب عوامی عدالت لگے گی، تو ان تمام عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس دن ان کے پاس نہ کوئی عذر ہوگا اور نہ ہی کوئی پناہ گاہ۔
دشمن، جس نے آج انہیں شہ دی ہے، وہ انہیں بچانے نہیں آئے گا، کیونکہ دشمن کی فطرت میں وفاداری نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ وہ ان سب کو اپنے جرائم کا ذمہ دار ٹھہرا کر خود کو الگ کر لے گا۔ اس دن جب عوام، شہدا کے وارث اور دھرتی کے مظلوم بیٹے اور بیٹیاں ان سے حساب مانگیں گی، تو ان کی زبانیں گنگ ہوں گی اور ان کے سر شرمندگی سے جھکے ہوں گے۔ اس عبرت ناک انجام سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اب بھی ہوش کے ناخن لیں۔ دشمن کی صفوں کو چھوڑیں، اس کے استعمال کردہ ہتھکنڈوں کو سمجھیں اور اپنی دھرتی و اپنے عوام کی طرف لوٹ آئیں۔
نظریاتی طور پر، ایک سچی انقلابی تحریک ہمیشہ اپنے دروازے ان لوگوں کے لیے کھلے رکھتی ہے جو خلوصِ دل سے اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ یہ کمزوری کی نشانی نہیں، بلکہ نظریاتی پختگی اور اخلاقی برتری کی علامت ہے۔ دشمن چاہتا ہے کہ معاشرے کے اندر نفرت اور تقسیم اتنی گہری ہو جائے کہ لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے رہیں، کیونکہ اسی تقسیم میں استعمار کی بقا ہے۔ لیکن انقلابی شعور اس تقسیم کو مٹانے کا نام ہے۔ ہمیں اپنے لوگوں کو دشمن کے چنگل سے چھڑانا ہے، انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ ان کا اصل مقام دشمن کی مقتل گاہوں میں جلاد کا کردار ادا کرنا نہیں، بلکہ اپنی قوم کے شانہ بشانہ ایک آزاد اور خودمختار مستقبل کی تعمیر میں حصہ لینا ہے۔
تاریخ کا یہ کٹہرا ہر لمحہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور فیصلے کی گھڑی آ چکی ہے۔ جو لوگ آج بھی ڈیتھ اسکواڈز کا حصہ بنے ہوئے ہیں، انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ ان کا ہر ایک عمل، ان کا ہر ایک ظلم، اور قومی تحریک کے خلاف ان کی ہر ایک سازش تاریخ کے صفحات پر مستقل طور پر درج ہو رہی ہے۔ یہ حساب صرف اس دنیا میں نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے شعور میں بھی محفوظ رہے گا۔
تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی، اور خصوصاً ان لوگوں کو تو کبھی نہیں جو اپنی ماں جیسی دھرتی کا سودا دشمن کے چند ٹکڑوں پر کر دیتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ وہ دشمن کی صفوں سے نکل کر اپنے وجود کی پہچان کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور تاریخ انہیں ہمیشہ کے لیے مجرموں کی فہرست میں ڈال کر اپنا دروازہ بند کر دے۔
آزادی کی یہ انقلابی لہر ایک ایسا طوفان ہے جو تمام مصلحتوں، غداریوں اور جبر کے بتوں کو بہا لے جائے گا، اور صرف وہی لوگ سرخرو ہوں گے جو حق اور انصاف کے ساتھ، اپنی قوم کے ساتھ کھڑے رہے۔ پھر رعایت کا وقت نہیں ہوگا بلکہ عدالت اور فیصلے ہوں گے۔ تاریخ کا کٹہرا ہوگا اور شاید اس سے بھی بدتر حالات ہوں گے، پھر تمہاری فریاد سننے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔
