
چاغی: بلوچستان کے ضلع چاغی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، بڑی تعداد میں مسلح افراد نے شہر میں داخل ہو کر مختلف سرکاری تنصیبات، پولیس اسٹیشنوں، لیویز چوکیوں اور بینکوں پر کارروائیاں کی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی، جس کے باعث آمدورفت متاثر ہوئی۔ اطلاعات ہیں کہ بعض پولیس اسٹیشنوں اور لیویز چوکیوں پر قبضے کے بعد وہاں موجود سرکاری اسلحہ اور سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا گیا، جبکہ بعد ازاں متعدد سرکاری عمارتوں اور تنصیبات کو آگ لگا دی گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی دیکھی گئی، جبکہ سرکاری دفاتر، بینکوں اور دیگر سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔
چاغی، جہاں ریکوڈک کا عالمی شہرت یافتہ تانبے اور سونے کا منصوبہ واقع ہے، حالیہ برسوں میں بھی سکیورٹی سے متعلق واقعات کا مرکز رہا ہے۔ نومبر 2025 میں نوکنڈی میں ہونے والے ایک مربوط حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے قبول کی تھی۔
تاحال حکام کی جانب سے موجودہ صورتحال پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ کسی بھی تنظیم نے ان حالیہ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
