
تربت، 3 جولائی 2026: بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما سید بی بی شریف نے تربت پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) پر ہراسانی، غیر قانونی چھاپوں اور اہل خانہ کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
سید بی بی شریف کے مطابق گزشتہ شب سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ان کی رہائش گاہ پر تین مرتبہ چھاپے مارے، گھر کے دروازے توڑے اور سامان کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ صبغت اللہ شاہ کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف تربت میں احتجاجی ریلی کے اعلان کے بعد انہیں گھر سے گرفتار کرکے ایک روز تک وومن تھانے میں رکھا گیا، جبکہ رہائی کے کچھ ہی دیر بعد دوبارہ گرفتاری کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلسل گرفتاری کے خدشات اور چھاپوں کے باعث ان کے کمسن بچے شدید خوف کا شکار ہو گئے، جس کے باعث انہیں رات کے وقت گھر چھوڑنا پڑا۔ ان کے بقول، انہیں کہیں پناہ نہ ملنے پر اپنے دو بچوں کے ہمراہ پوری رات اپنے مرحوم شوہر کی قبر کے قریب قبرستان میں گزارنی پڑی۔
بی وائی سی رہنما نے مزید کہا کہ ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے اور وہ باقاعدگی سے ہر ہفتے سی ٹی ڈی تھانے میں پیشی دیتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ وہ کبھی پیشی سے غیر حاضر نہیں رہیں، اس کے باوجود انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران سید بی بی شریف نے سوال اٹھایا کہ انہیں اور ان کے بچوں کو کس بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ شب ان کی گرفتاری کے لیے ان کی والدہ، بیمار بھائی اور ہمسایوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پریس کانفرنس کے بعد دوبارہ سی ٹی ڈی تھانے جائیں گی اور کہا کہ اگر انہیں گرفتار یا لاپتہ کیا گیا تو اس کی ذمہ داری تربت پولیس اور سی ٹی ڈی پر ہوگی۔
