جسم قید اور نظریہ آزاد

تحریر: غمخوار بلوچ

مظلوم کو انصاف کے بدلے حق کی آواز بلند کرنے کی سزا دینا، کبھی نہ کبھی ظلم اور جبر کے حساب کا باعث ضرور بنے گا۔

جب ظلم عروج پر ہوتا ہے تو مظلومیت کی صدا سے آسمان بھی پھٹ جاتا ہے، اور پھر عنقریب حق کی آواز سے ظالم کا تخت بھی پلٹ جاتا ہے۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے، عدل و انصاف کی بات کرنے کے جرم میں بلوچستان کی بیٹی، بلوچستان کی آواز اور بلوچ قوم کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنانا یقیناً بلوچ قوم پر ظلم و جبر کی انتہا ہے۔

جس طرح بلوچ قوم کے ساتھ دہائیوں سے ظلم و جبر جاری ہے، انصاف مانگنے کے بجائے بلوچ قوم کو لاٹھی چارج، فورتھ شیڈول، لاپتہ کرنا، پھانسی دینا، ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانا، نامعلوم قبروں میں دفن کرنا اور نسل کشی جیسے حالات کا سامنا ہے۔

اب بلوچستان کی آوازوں کو عمر قید کی سزا دینا اس بات کی علامت ہے کہ ریاست بلوچ قوم سے کانٹوں کے بدلے پھول اور ظلم کے بدلے خاموشی کی توقع رکھتی ہے، جو ریاست پاکستان کی سب سے بڑی بھول ہے۔

کیونکہ ظلم جتنا زیادہ ہوگا، بلوچ قوم اتنا ہی سینہ تان کر ظلم کے خلاف کھڑی ہوگی۔

ریاست اپنے طاقت کے زور پر عدلیہ کو قابو کر سکتی ہے، فیصلے بدل سکتی ہے، لیکن وہ بلوچ قوم کو اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے نہیں روک سکتی، اور نہ ہی بلوچستان میں جاری ظلم و جبر کو ہمیشہ کے لیے چھپا سکتی ہے۔

بلوچستان کی آواز ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو قید کرنا، بلوچ قوم کے لیے ایک ایسا صدمہ ہے جس کے اثرات شاید نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

اب ریاست پاکستان کو سمجھنا چاہیے کہ ظلم اور جبر سے کبھی بھی حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

آج ہر بلوچ بلوچستان میں ہونے والے ظلم اور جبر کے خلاف سینہ تان کر کھڑا ہے۔ دنیا نے بھی دیکھ لیا ہے کہ بلوچستان میں ریاستی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو قید و بند کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جب بلوچ قوم اسلام آباد جا کر ریاست کے سامنے عدل اور انصاف کا مطالبہ کرتی ہے، تو اسی آواز کو جرم قرار دے کر گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس کا بلوچ قوم دہائیوں سے سامنا کر رہی ہے۔

لیکن اب بلوچ قوم نہ ظلم کے سامنے جھکے گی اور نہ ہی خاموشی اختیار کرے گی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر اس شخص کو جس کے دل میں انسانیت کی محبت اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ ہے، اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔

آخر بلوچ رہنماؤں کو کس قانون اور کس جرم کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی؟ اگر انصاف مانگنا جرم ہے، ظلم روکنے کا مطالبہ جرم ہے، اور ریاست کے اپنے بنائے ہوئے آئین کی بات کرنا جرم ہے، تو یہ صرف آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔

بلوچ قوم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ظلم و جبر کے خلاف کھڑی ہوگی، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بلوچستان کی سرزمین پر جتنا ظلم ہوا، بلوچ قوم کے بیٹے اور بیٹیاں اتنے ہی مضبوط حوصلے کے ساتھ میدان میں آئے ہیں۔

جب تک ظلم اور جبر ختم نہیں ہوگا، بلوچ قوم اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

یقیناً ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بلوچ قوم کو جو نظریہ دیا ہے، اور جو بلوچ قوم کی فطرت ہے، وہ یہی ہے کہ ظلم کے خلاف ہر آنے والے دن پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر کھڑا ہونا ہے۔

آج بھی بلوچ قوم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر حق کی آواز بلند کر رہی ہے اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت ان کے ساتھیوں کی سزا کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے۔

جسم قید اور نظریہ آزاد

تحریر: غمخوار بلوچ

مظلوم کو انصاف کے بدلے حق کی آواز بلند کرنے کی سزا دینا، کبھی نہ کبھی ظلم اور جبر کے حساب کا باعث ضرور بنے گا۔

جب ظلم عروج پر ہوتا ہے تو مظلومیت کی صدا سے آسمان بھی پھٹ جاتا ہے، اور پھر عنقریب حق کی آواز سے ظالم کا تخت بھی پلٹ جاتا ہے۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے، عدل و انصاف کی بات کرنے کے جرم میں بلوچستان کی بیٹی، بلوچستان کی آواز اور بلوچ قوم کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنانا یقیناً بلوچ قوم پر ظلم و جبر کی انتہا ہے۔

جس طرح بلوچ قوم کے ساتھ دہائیوں سے ظلم و جبر جاری ہے، انصاف مانگنے کے بجائے بلوچ قوم کو لاٹھی چارج، فورتھ شیڈول، لاپتہ کرنا، پھانسی دینا، ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانا، نامعلوم قبروں میں دفن کرنا اور نسل کشی جیسے حالات کا سامنا ہے۔

اب بلوچستان کی آوازوں کو عمر قید کی سزا دینا اس بات کی علامت ہے کہ ریاست بلوچ قوم سے کانٹوں کے بدلے پھول اور ظلم کے بدلے خاموشی کی توقع رکھتی ہے، جو ریاست پاکستان کی سب سے بڑی بھول ہے۔

کیونکہ ظلم جتنا زیادہ ہوگا، بلوچ قوم اتنا ہی سینہ تان کر ظلم کے خلاف کھڑی ہوگی۔

ریاست اپنے طاقت کے زور پر عدلیہ کو قابو کر سکتی ہے، فیصلے بدل سکتی ہے، لیکن وہ بلوچ قوم کو اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے نہیں روک سکتی، اور نہ ہی بلوچستان میں جاری ظلم و جبر کو ہمیشہ کے لیے چھپا سکتی ہے۔

بلوچستان کی آواز ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو قید کرنا، بلوچ قوم کے لیے ایک ایسا صدمہ ہے جس کے اثرات شاید نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

اب ریاست پاکستان کو سمجھنا چاہیے کہ ظلم اور جبر سے کبھی بھی حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

آج ہر بلوچ بلوچستان میں ہونے والے ظلم اور جبر کے خلاف سینہ تان کر کھڑا ہے۔ دنیا نے بھی دیکھ لیا ہے کہ بلوچستان میں ریاستی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو قید و بند کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جب بلوچ قوم اسلام آباد جا کر ریاست کے سامنے عدل اور انصاف کا مطالبہ کرتی ہے، تو اسی آواز کو جرم قرار دے کر گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس کا بلوچ قوم دہائیوں سے سامنا کر رہی ہے۔

لیکن اب بلوچ قوم نہ ظلم کے سامنے جھکے گی اور نہ ہی خاموشی اختیار کرے گی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر اس شخص کو جس کے دل میں انسانیت کی محبت اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ ہے، اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔

آخر بلوچ رہنماؤں کو کس قانون اور کس جرم کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی؟ اگر انصاف مانگنا جرم ہے، ظلم روکنے کا مطالبہ جرم ہے، اور ریاست کے اپنے بنائے ہوئے آئین کی بات کرنا جرم ہے، تو یہ صرف آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔

بلوچ قوم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ظلم و جبر کے خلاف کھڑی ہوگی، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بلوچستان کی سرزمین پر جتنا ظلم ہوا، بلوچ قوم کے بیٹے اور بیٹیاں اتنے ہی مضبوط حوصلے کے ساتھ میدان میں آئے ہیں۔

جب تک ظلم اور جبر ختم نہیں ہوگا، بلوچ قوم اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

یقیناً ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بلوچ قوم کو جو نظریہ دیا ہے، اور جو بلوچ قوم کی فطرت ہے، وہ یہی ہے کہ ظلم کے خلاف ہر آنے والے دن پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر کھڑا ہونا ہے۔

آج بھی بلوچ قوم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر حق کی آواز بلند کر رہی ہے اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت ان کے ساتھیوں کی سزا کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے۔

حق کی آواز ہمیشہ زندہ رہے گی، اور تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے محل ہمیشہ قائم نہیں رہتے۔حق کی آواز ہمیشہ زندہ رہے گی، اور تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے محل ہمیشہ قائم نہیں رہتے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ