
تحریر: دل مراد بلوچ
کاکروچ واقعی عجیب مخلوق ہے۔ یہ ہر مشکل ماحول میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے جب احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو طنزاً "کاکروچ” کہا تو نوجوانوں نے اسی طنز کو اپنا ہتھیار بنا لیا اور اپنی احتجاجی جماعت کا نام "کاکروچ جنتا پارٹی” رکھ دیا۔
لیکن اس پورے واقعے نے مجھے کاکروچ سے بھی زیادہ دلچسپ مخلوق یاد دلائی یعنی پاکستانی دانشور۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کاکروچ ہر ماحول میں زندہ رہتا ہے جبکہ پاکستانی دانشور کے نظریات صرف اس ماحول میں زندہ رہتے ہیں جہاں ریاستی "قومی سلامتی” کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ باقی دنیا میں وہ آزادی، مزاحمت، انقلابی سیاست اور انسانی حقوق کا سب سے بڑا وکیل بنتا دکھائی دیتا ہے۔ چی گویرا، نیلسن منڈیلا اور لیلیٰ خالد اس کے ہیرو ہوتے ہیں۔ فلسطین اس کا درد ہوتا ہے، کشمیر اس کی شہ رگ۔ مگر جیسے ہی بلوچستان یا کشمیر کے جدوجہد کا نام آتا ہے، اس کے تمام انقلابی نظریات اچانک سانس لینا چھوڑ دیتے ہیں۔
پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ہو، لاہور جیسا اشاعتی مرکز ہو یا کوئی اور شہر، دانشوروں، صحافیوں، لبرل حلقوں، ترقی پسندوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی یہاں کمی نہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں اگر آزادی، جمہوریت یا ترقی پسندی کے نام پر کوئی تحریک اٹھے تو پاکستانی دانشور اس کی حمایت میں قلم اٹھانے میں دیر نہیں کرتا۔ شرط صرف اتنی ہے کہ وہ تحریک پاکستانی ریاست کی مقرر کردہ سرخ لکیر کے اُس پار ہو۔ جیسے ہی وہ لکیر بلوچستان، سندھ یا کشمیر سے گزرتی ہے، آزادی کی تعریف بدل جاتی ہے، انسانی حقوق کی لغت تبدیل ہو جاتی ہے اور ترقی پسندی قومی سلامتی کے عسکری آغوش میں سمٹ جاتی ہے۔
کسی بھی تحریک آزادی و ترقی پسندی کی تعریف میں پیش پیش پاکستانیوں نے حالیہ انڈین جین زی تحریک کو خوب خوب سپورٹ کیا۔ ایک طنز، سوشل میڈیائی میم سے جنمے حکمران جماعت بی جے پی کے پیروڈی پارٹی یعنی کاکروچ جنتا پارٹی کی کامیاب احتجاج اور کامیابی پر شدید پاکستانی بڑھ چڑھ کر بول رہے ہیں، داد دے رہے ہیں، ان میں کم ہی لوگوں کو معلوم ہوگی لیکن جس نیہا ووہرا کی تعریف میں رطب السان ہیں یہ ایک کال، ایک واقعہ کے ردعمل سے سامنے آنے والے اسٹوڈنٹ لیڈر نہیں بلکہ یہ ہندوستانی بائیں بازو کی طلبا سیاست کے لیڈر ہیں، وہ بائیں بازو کی سیاست جو پاکستان میں دائیں بازو کی سیاست سے کہیں زیادہ متصب ایک بدبودار گٹر بن کر دم توڑ چکا ہے، شہرت پانے والے ابجیت دیپک یا دیپکے پہلے عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام کرچکے ہیں، سونم وانگچک تعلیم و ماحولیات کے میدان میں اپنے کارناموں پر دنیا جہاں کی ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ پاکستانی دانشوروں کو ان شخصیات کے سیاسی پس منظر میں کوئی دلچسپی نہیں۔ دلچسپی صرف اس بات میں ہے کہ مودی سرکار کو ایک دھچکا لگا ہے۔ اگر وہ ذرا ٹھہر کر نیہا ووہرا، دیپک یا سونم وانگچک کے سیاسی سفر کو دیکھتے تو اس کی روشنی میں شاید انہیں اپنے سیاست و سماج کا جائرہ لینے کا موقع ملتا لیکن انہیں اپنے سماج چہرے کو دیکھنے کی توفیق اس لیے نہیں ہوتا کیونکہ اس کا چہرہ بہت بھیانک بن چکا ہے، اس سے انسانی صفات کب کے رخصت ہوچکے ہیں۔
پاکستانی فلسطین کے لیے بے چین رہتے ہیں، کشمیر ان کی شہ رگ ہے، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے نوجوانوں کی تحریکوں پر بھی خوش ہوتے ہیں، اور حالیہ بھارتی نوجوانوں کی کامیابی پر شاید سب سے زیادہ داد دینے والوں میں بھی یہی پاکستانی دانشور اور انٹلکچوئل طبقہ شامل ہے۔ یہ خاصا منافق اور بہروپیا طبقہ ہے، شروع کے دنوں میں یہ طبقہ بلوچ کے لیے حکومت حتی کہ ریاست پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں، حمایت کرتے رہے ہیں، کبھی کبھی تو ایسا ہوتا آیا ہے کہ مظلوم بلوچ کی دل میں ان کے ایک بڑا احترام پیدا ہوتا ہے، ایک حلقہ یہ سمجھ بیٹھتا کہ ہماری لیڈرشپ یا اسلاف نے غلط بیانی کی ہے کہ پاکستان صرف اور صرف دشمن ریاست ہے بلکہ پاکستان کا دانشور طبقہ ان کے حق میں جان ہتھیلی پر رکھ کر بول تو رہے ہیں اور کیا کریں۔
بھارتی نوجوانوں کی یہ کامیابی اپنی نوعیت میں کوئی بڑی انقلابی کامیابی نہیں۔ ایک وزیر کا استعفیٰ کسی حکومت کا خاتمہ یا انقلاب کی کامیابی نہیں ہوتا چونکہ مودی سرکار کے خلاف یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا، اس لیے اس نے غیر معمولی توجہ حاصل کی۔ پاکستانیوں نے اس کامیابی کا خیر مقدم کیا، مجھے اس سے مسئلہ نہیں، سوال حمایت یا خوش ہونے کا نہیں بلکہ سوال اس خوشی کے معیار کا ہے۔
آج نیہا ووہرا اور ان کے ساتھی سنگی نوجوان پاکستانی دانشوروں کے محبوب ہیں۔ ان کی مزاحمت جمہوری شعور کی علامت ہے، ان کا احتجاج قابلِ تحسین ہے، ان کی آواز آزادی کی آواز ہے۔ مگر یہی پیمانہ بلوچستان پہنچتے پہنچتے بدل جاتا ہے۔ یہاں بلوچ نوجوان کی مزاحمت سازش بن جاتی ہے، قومی آزادی کا مطالبہ بیرونی ایجنڈا قرار پاتا ہے اور ہر اختلاف قومی سلامتی کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کل یہی نیہا ووہرا یا ان جیسے دوسرے رہنما اپنی ریاست کے حق اور پاکستان کے خلاف کوئی بات کرے تو بعید نہیں کہ یہی تعریفیں ملامت میں بدل جائیں، یہ بھی ہندو بنیاد پرست ٹھہریں گے، یہ بنیا اور بنیے کی ذہنیت کے نمائندے بنیں گے اور لعنت و ملامت کا اس سے کئی درجہ زیادہ شدید سیلاب پاکستان سے اٹھے گا اور لکھنے اور بولنے والے بھی یہی ہوں گے جو آج ان کے حق میں بول رہے ہیں۔
گزارش صرف اتنی ہے کہ پاکستانی دانشور کے نزدیک سب سے سپریم، اعلی و ارفع اور بالاتر اگر کوئی چیز ہے تو وہ "قومی سلامتی” ہے مگر قومی سلامتی بھی وہی جس کی تعریف، تشریح اور حدود پاکستانی فوج طے کرے۔ اس سے باہر قومی سلامتی کا کوئی تصور قابلِ قبول نہیں۔ اس نام نہاد قومی سلامتی کی قیمت کون ادا کر رہا ہے، کتنی قومیں اس کے نام پر اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو چکی ہیں، بلوچ، سندھی اور پشتون کا کس پیمانے پر نسل کشی ہو رہا ہے اور کتنی سیاسی تحریکوں کو اسی عنوان کے تحت کچلا گیا ہے اور آج بھی کچلا جا رہا ہے، یہ سوال پاکستانی دانشور کے لیے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ان کی آزادی پسندی، ترقی پسندی اور اصول پسندی بھی ایک غیر مرئی سرحد تک محدود رہتی ہے۔ جہاں قومی سلامتی کا پاکستانی بیانیہ شروع ہوتا ہے، وہاں اصول خاموش ہو جاتے ہیں۔
کیا پاکستانی واقعی ہر تحریکِ آزادی کے حمایتی ہیں؟ کیا وہ واقعی ہر ترقی پسند جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیا بلوچ قومی آزادی کی تحریک، آزادی کی تحریک نہیں؟ چلیے، مان لیتے ہیں کہ آج کی بلوچ قیادت پاکستان سے آزادی چاہتی ہے، پاکستان کی مخالف ہے، دشمن ہے۔ لیکن کیا میر غوث بخش بزنجو جیسے رہنماؤں کی جدوجہد بھی ترقی دشمن تھی؟ کیا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچوں کو پتھر کے دور میں لے جانا چاہتی تھیں؟
ایک وقت تھا جب پاکستانی دانشور بی وائی سی جیسی بنیادی انسانی حقوق کی تنظیم کے حق میں بول رہے تھے۔ وہ وقت تھا جب ریاست خود تجزیے، اندازے اور پروفائلنگ کے مرحلے سے گزر رہی تھی، اس لیے بی وائی سی پر براہِ راست ہاتھ ڈالنے سے گریز کر رہی تھی۔ اس خلا کو پاکستانی دانشور نے پُر کرنے کی کوشش کی۔ "ہم آپ کے ساتھ ہیں” کے نعرے بلند ہوئے۔ حامد میر، اعمار علی، مزمل اور چند دوسرے لوگ کھل کر بول رہے تھے۔
پھر ریاست نے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا۔ قیادت جیلوں میں پہنچا دی گئی، عسکری عدالتیں سرگرم ہو گئیں اور جرنیلوں کے لکھے ہوئے فیصلوں پر عدالتی مہریں ثبت ہونے لگیں۔ کل تک پرامن مزاحمت کی علامت سمجھی جانے والی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اچانک "دہشت گرد” قرار دے دی گئیں۔ حامد میر کے سوا بیشتر یوٹیوبی دانشوروں کو پہلی بار معلوم ہوا کہ ماہ رنگ، غفار لانگو کی بیٹی ہیں، ان کے والد پاکستان کے خلاف لڑ چکے ہیں اور وہ خود بھی بلوچ قومی آزادی پر یقین رکھتی ہیں۔ یوں پاکستانی یوٹیوبی دانشوروں کا یوٹرن بھی مکمل ہو گیا۔ آج انہی میں سے اکثر ایک زبان ہو کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف عسکری عدالتوں کے فیصلوں کا دفاع کر رہے ہیں۔
اگر پاکستانی دانشور کی آزادی پسندی اور ترقی پسندی کو ایک لطیفے کے پیرائے میں بیان کرنے کی کوشش کیا جائے تو شاید اس سے بہتر مثال نہ ملے کہ پاکستانی دانشوروں کے نزدیک آزادی کی حمایت بھی ویزے پر ملتی ہے۔ فلسطین کا ویزا منظور، کشمیر کا بھی منظور، بھارت کے نوجوانوں کا بھی منظور لیکن جیسے ہی آزادی کا پاسپورٹ بلوچستان یا پاکستانی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے نام سے جاری ہوتا ہے، پاکستانی دانشور امیگریشن افسر بن کر قومی سلامتی کے نام پر اس پر سرخ مہر ثبت کر دیتا ہے "درخواست مسترد۔”
اب ذرا پاکستانی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کو ہی دیکھ لیجیے۔ برسوں تک کشمیر کی نام نہاد "آزادی” کا ایسا چرچا کیا گیا کہ پاکستانی نصاب اور میڈیا پر انحصار کرنے والا عام آدمی آج بھی اسے ایک آزاد ریاست سمجھتا ہے لیکن حالیہ سالوں میں جب کشمیریوں نے مہنگی بجلی، ٹیکسوں، وسائل پر اختیار اور دیگر بنیادی شہری حقوق کے لیے احتجاج کیا تو کشمیر کی آزادی گولیاں بن کر ان کے سینوں میں اترنے لگے تو پہلی بار بہت سے لوگوں کو احساس ہوا کہ جسے وہ "آزاد کشمیر” سمجھتے تھے، وہ نام نہاد آزاد کشمیر کی حالت ہم بلوچوں سے بھی بدتر ہے، آزادی کے نعرے بدترین قبضہ اور غلامی کے پردے تھے اور بس، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے ہی کشمیریوں نے انہی بنیادی حقوق کا مطالبہ کیا، پاکستانی دانشوروں نے پل بھر میں انہیں "بھارت کے ایجنٹ”، "ہندوستانی منصوبے” اور "بیرونی سازش” کا حصہ قرار دینا شروع کر دیا جیساکہ پاکستانیوں وطیرہ ہے۔
آج بلوچ مزاحمت کر رہے ہیں اور حقیقی مزاحمت کرنے والے خواہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، ایک دوسرے کی مزاحمت سے فطری طور پر وابستگی محسوس کرتے ہیں۔ یقیناً بلوچوں کو بھی مودی جیسے بنیاد پرست طرزِ حکومت کے خلاف بھارتی نوجوانوں کی مزاحمتی تحریک اچھی لگی ہوگی لیکن کم از کم میں نے کسی بلوچ کو بھارتی جین زی کے حق میں نعرے لگاتے، اس کے لیے دیوانہ بنتے یا جذباتی وابستگی کا اظہار کرتے نہیں دیکھا۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آج کا بلوچ مثالیت پسندی سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ جب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا نوجوان طبقہ اور اس کا دانشور بلوچوں کے دکھ، درد اور المیے سے ناواقف یا شاید غافل ہے تو پھر بلوچ سے جذباتی وابستگی کی توقع بھی بے معنی ہے۔
بلوچ یہ بھی سمجھ چکا ہے کہ "بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ” بننے کا دور بہت ہو چکا۔ جب آپ کو میرے زخموں، میرے دکھ اور میری جدوجہد کی کوئی پروا نہیں، تو پھر مجھ سے بھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ میں ہر وقت آپ کے غم میں ہلکان رہوں۔کیا یہ بیگانگی ہے؟ نہیں، میرے خیال میں یہ بیگانگی نہیں، بلکہ سیاسی پختگی ہے۔ اپنے دکھ کو مرکز بنانا دوسروں کے دکھ سے بے حسی نہیں بلکہ یہ شعور ہے کہ یک طرفہ ہمدردی کبھی پائیدار یکجہتی میں تبدیل نہیں ہوتی۔
بلوچ نوجوانوں کے دل بھی دوسرے نوجوانوں کی طرح دھڑکتے ہیں۔ انہیں بھی بھارتی نوجوانوں کی کامیابی پر خوشی ضرور محسوس ہوئی ہوگی مگر جشن نہیں۔ بلوچ نے بھی سیکھ لیا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ مسلسل نظرانداز کیا جانے والا انسان آخرکار یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ ہمدردی بھی باہمی تعلق کا نام ہے۔ عشروں تک دوسروں کے دکھوں پر آواز بلند کرنے والے بلوچ کو جب اپنے زخموں پر بھارتی نوجوانوں اور وہاں کے دانشور طبقے کی طرف سے تقریباً مکمل خاموشی ملی تو جذبات اپنی جگہ، مگر ترجیحات تو بدل جاتی ہیں۔ یہ بے حسی نہیں، سیاسی بلوغت ہے۔