
جنیوا: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آزاد ماہرین نے بلوچ انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سنائی گئی دو مرتبہ عمر قید کی سزا پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے قوانین اور قتل کے الزامات کا استعمال پرامن احتجاج اور آزادیِ اظہار کو دبانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے، اور پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر زیرِ حراست انسانی حقوق کے کارکنوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
واضح رہے کہ جون کے مہینے میں بی این ایم چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کی قیادت میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے وفد نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے باسٹھویں اجلاس میں شرکت کی تھی، جہاں وفد نے کانفرنسز میں شرکت، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندگان اور انسانی حقوق کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں، خصوصا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قید، انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے غلط استعمال، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات سے آگاہ کیا گیا تھا۔
اس میٹنگ میں اقوام متحدہ کے حکام نے بی این ایم کے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ متعلقہ اسپیشل پروسیجرز کے ساتھ رابطہ کریں گے تاکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے ایک مشترکہ مراسلہ یا مشترکہ بیان جاری کرنے کے امکان کا جائزہ لیا جا سکے۔ یوں آج اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے ماہرین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ساتھیوں کی سزا کی واضح الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اس پیش رفت پر بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے فارن ڈیپارٹمنٹ نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ موقف بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ فارن ڈیپارٹمنٹ نے زور دیا کہ بلوچ انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں پر عالمی اداروں کی توجہ انصاف اور جوابدہی کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
بی این ایم فارن ڈیپارٹمنٹ نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ گزشتہ عرصے کے دوران اس نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مختلف میکانزم، خصوصی ماہرین اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے اور دستاویزی معلومات کے تبادلے کے ذریعے بلوچستان میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ہماری مسلسل سفارتی اور انسانی حقوق کی کاوشوں کے تناظر میں سامنے آنے والی پیش رفت کا حصہ ہے۔
بی این ایم نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کی نگرانی جاری رکھیں، انسانی حقوق کے کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں، اور پاکستان پر اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے وعدوں کی پاسداری کے لیے دباؤ بڑھائیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بلوچ کارکنوں کے خلاف عدالتی کارروائیوں پر متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی تشویش کا اظہار کر چکی ہیں اور ان مقدمات میں شفاف عدالتی کارروائی اور بنیادی حقوق کے احترام کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
