شہید شیہک جان، ایک امر کردار

تحریر: دل مراد بلوچ

جون دو ہزار پندرہ کی تیس تاریخ، صبح کی پہلی ہلکی روشنی ابھی پہاڑوں کی چوٹیوں پر نمودار ہو رہی تھی کہ مشکے کے علاقے میہی میں اسپیتین کئور نامی ندی میں گمسان کی جنگ بھڑک اٹھی۔ پاکستان فوج نے سرمچاروں کے ایک گروہ کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ چاروں طرف آگ اور بارود کی بارش تھی۔ دشمن کی بندوقیں آگ اگل رہی تھیں اور بلوچ سرمچار اپنی جانوں کی بازی لگا کر مقابلہ کر رہے تھے۔

طاقت کے نشے میں مست فوج ایک مخصوص مقام سے آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔ حملہ رات کی تاریکی میں منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا تھا، اسی لیے کئی سرمچار اچانک فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہو چکے تھے۔ مگر جن جن کے ہاتھ سلامت تھے، بندوقیں اب بھی نشانہ باندھ رہی تھیں۔ ایک طرف ریاستی فوج،  کثیر تعداد، جدید اسلحہ، بھاری گولہ باری۔ دوسری طرف محض کلاشنکوف سے لیس سرمچار، مگر ہمت اور بہادری کے وہ دھنی کہ تاریخ کے اہم معرکے کے گواہ بن کر لڑ رہے تھے۔ چند سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہو چکے تھے، کچھ زخمی تھے مگر لڑائی جاری تھی۔

جب اس جنگ کی خبر دوسرے سرمچاروں کے دوسرے ٹولی تک پہنچی تو وہ بھی محاذ کی جانب دوڑے چلے آئے، قریب پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ پاکستانی فوج کی محاصرہ کئی پرتوں میں سختی سے قائم ہے۔ مگر عشقِ وطن کی آگ میں یہ سرمچار پروانوں کی مانند آتش و آہن کے حصار توڑتے ہوئے اپنے ساتھیوں تک پہنچ گئے۔ یہاں جنگ نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ دشمن پسپا ہونے لگتا ہے مگر پہلے حملے میں ساتھیوں نے کافی نقصان اٹھایا تھا۔

سرمچاروں کے اس گروپ کے کمانڈر شہید زخمی ہے، بچنے کا امید کم ہے، وہ ساتھیوں کو نکل کر خود شہید ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔

صرف پاجامے میں ملبوس، خون سے نہایا زخمی کمانڈر شہادت سے پہلے اپنا آخری لافانی پیغام ریکارڈ کرانے کا حکم صادر کرتا ہے، وہ ویڈیو ہم تک پہنچا اس میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ کلاشنکوف کا سہارا لیے زخموں سے چور ایک نوجوان اپنا آخری پیغام ریکارڈ کر رہا ہے، پس منظر میں گولیوں کی آواز اور کیمرہ مین کے ہچکیاں سنائی دیتی ہیں،

خون سے تر لباس، زخموں سے چور جسم اور ہاتھ میں اب بھی بندوق کا سہارا۔ مسلسل بہتے ہوئے لہو نے اس کے چہرے کی رنگت مدھم کر دی تھی، مگر نگاہوں میں عجیب سی ٹھہراؤ باقی تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وقت اس کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے۔ ساتھیوں کو جنگ جاہ سے محفوظ مقام کی جانب رہنمائی کے بعد گولیوں کی بوچھاڑ میں یہ بہادر کمانڈر اپنا پیغام ریکارڈ کرنا شروع کرتا ہے۔ ویڈیو کے پس منظر میں گولیوں کی آوازیں مسلسل گونج رہی ہیں اور کیمرہ تھامنے والے کی سسکیاں بھی صاف سنائی دیتی ہیں۔ ان سب کے درمیان وہ اپنی ٹوٹتی ہوئی سانسوں کو سمیٹ کر اپنے آخری الفاظ تاریخ کے سپرد کرتا ہے۔

کمانڈر اپنے آخری لافانی الفاظ ورثہ کے طور پر رقم کرکے کہتا ہے۔

"ساتھیو، میں گولی کھا چکا ہوں۔ اگر شہید ہو جاؤں، دشمن سے جنگ چل رہا ہے، بلوچستان اور اس کی آزادی آپ پر فرض ہے۔ آج ساتھیوں نے قربانی دی ہے اور دے رہے ہیں۔ ان قربانیوں کو (ملحوظ نظر رکھ کر) میں پارٹی لیڈرشپ سے دست بندی ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے پارٹی کو نقصان پہنچے یا جہد رک جائے۔ ہر ساتھی دشمن کے ہر حربے کو ناکام کرنے کی کوشش کرے۔ شاید مجھ میں زیادہ بات کرنے کی سکت نہیں، وقت بھی کم ہے۔ بلوچستان زندہ باد، بی ایل ایف زندہ باد، آزاد بلوچستان زندہ باد… سلام علیک۔"

زیادہ لہو بہنے سے وہ نڈھال ہو جاتا ہے۔ چند لمحے سانسیں سنبھالتا ہے، پھر اپنی بچی کچی قوت مجتمع کرکے دوبارہ ریکارڈنگ شروع کرتا ہے۔ اب مخاطب اس کی ماں اور خاندان ہے۔

"میری لمہ… میرے لیے قطعی پریشان نہ ہونا۔ میں نامردی میں نہیں مر رہا۔ اگر مروں گا تو مردی سے مر رہا ہوں۔ میرے بچے مجھ پر فخر کریں۔"

اسی دوران دشمن کی جانب سے گولیوں کی آواز آتی ہے۔ وہ ایک لمحے کو رک کر دائیں بائیں دیکھتا ہے اور پوچھتا ہے:

"کیا اوپر والے فائر کر رہے ہیں؟"

ساتھی جواب دیتا ہے: "جی ہاں، اوپر والے مار رہے ہیں۔"

فائرنگ جاری ہے، مگر کمانڈر اپنا پیغام جاری رکھتا ہے۔

"میرے بچے مجھ پر فخر کریں کہ میں نے قوم کے لیے جنگ کی اور جنگ میں سامنے سے گولی کھائی۔ میری ماں میرے لیے پریشان نہ ہو۔ میری بہنیں میرے لیے پریشان نہ ہوں۔ میں اچھے مقصد کے لیے کام آیا ہوں۔ میں نے ایسا کام نہیں کیا ہے کہ آپ کل ملامت ہوں… سلام علیک۔"

ویڈیو ختم ہو جاتی ہے۔ مگر اس کی خاموشی آج تک بلوچستان کے پہاڑوں، شہروں اور دیہاتوں میں بول رہی ہے۔ چند لمحے پہلے جو آواز گولیوں کی گونج میں اپنے پیاروں اور ساتھیوں کے نام آخری الفاظ چھوڑ رہی تھی، زخموں اور درد کی شدت سے نڈھال بہادر انسان متعدد بار مسکرانے کی کوشش کرتا ہے، اب وہ مسکراہٹ اور یہ استقامت اب ہمیشہ کے لیے نظروں سے اوجھل ہو رہی تھیں۔

یہ سلیمان بلوچ المعروف شہیک جان کا آخری ریکارڈ شدہ لافانی پیغام تھا۔ نام سلیمان تھا، مگر شیہک جان کے نام سے ایسی پہچان پائی کہ تاریخ کی چٹان جیسی سخت پیشانی پر اپنا نام کندہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

شہید شیہک جان پر بہت لکھا جا چکا ہے اور بہت لکھا جائے گا۔ کیونکہ شیہک جان ایک منفرد کردار تھا، ایک نفیس اور بہادر انسان، ایک ایسی مالا جس میں سرمچار تسبیح کے دانوں کی طرح پروئے ہوئے تھے۔

شیہک کے کردار کا ایک عکس ان کے آخری پیغام میں جھلکتا ہے۔ میں یہ ویڈیو متعدد بار دیکھ چکا ہوں۔ جب بھی دیکھتا ہوں، اشک سیل رواں بن جاتے ہیں۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ شیہک جان اور بھی بہت کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن وقت نے ساتھ نہ دیا، مجھے آج بھی شیہک جان کے اُن الفاظ کی تلاش ہے جو اس ویڈیو کا حصہ نہ بن سکے۔

InfoSecBNM

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ