
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان، جہاں بڑے پیمانے پر غیر ملکی منصوبے جاری ہیں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جبکہ ماورائے عدالت قتل اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں، جنہیں انہوں نے منظم طرز عمل قرار دیا۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافیوں، طلبہ، وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنان کو رائے کے اظہار پر ہراسانی، گرفتاری اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کئی رہنما، بشمول ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، طویل عرصے سے زیر حراست ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کا آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔
