تحریر: شولان بلوچ

تاریخ کچھ لوگوں کو یاد کرکے فخر محسوس کرتی ہوگی، جنہوں نے تاریخ کو خون سے رقم کیا۔ (سلمان حمل)
جب میں آپ پر کچھ لکھنے کا سوچتا ہوں تو میں حیران ہوتا ہوں کہ کیا لکھوں۔ شاید سچ کہتے ہیں لوگ کہ جو سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں، اُن پر لکھنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ جب بھی میں آپ کو یاد کرتا ہوں تو اپنے آپ کو ایک مہربان دوست، ایک عظیم انسان اور ایک سچے وطن دوست سے محروم پاتا ہوں۔ شاید آج جو میرے دل میں احساسات (feelings) ہیں، وہ میں ان قلم کے نیچے لفظوں میں بیان نہ کر سکوں، اور مجھے نہیں پتا کہ جو میں لکھ رہا ہوں وہ آپ جیسے عظیم کردار کے ساتھ کتنی بڑی ناانصافی ہوگی۔
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں شاید میں دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان ہوں جسے آپ کے ساتھ اتنا وقت گزارنے کا موقع ملا۔ بچپن میں ہوش سنبھالتے ہی آپ کو ہمیشہ اپنے اردگرد پایا ہے۔ میں بچپن ہی سے آپ سے سیکھتا آ رہا ہوں۔ آپ ہمیشہ سے میرے لیے استاد کی مانند رہے۔ بچپن ہی سے آپ ایک پُرجوش وطن دوست اور ایک انقلابی شاعر تھے، اور کیوں نہ ہوں، جو ایک ایسے گھر میں پیدا ہوئے جو اپنے آپ میں ایک مزاحمتی یلغار کی مثال ہے۔
زندگی کے ابتدائی دور میں آپ ایک عظیم ڈاکٹر بننا چاہتے تھے اور ہمیشہ قومی خدمت میں ایک ایسا نام رقم کرنا چاہتے تھے جو تا ابد یاد رکھا جائے، لیکن وقت، حالات اور قومی ضروریات آپ کو ایک ایسے راستے پر لے گئے جو کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ آپ کے علم، شعور، دانائی اور کتاب دوستی نے آپ کو کرکی جیسے پسماندہ علاقے سے اٹھا کر ہربوئی اور شور پارود جیسے محاذوں تک پہنچایا۔ فخر کرتا ہوگا وہ چھوٹا سا گاؤں کرکی، جس کی گلیوں میں آپ جیسے اور نہ جانے کتنے لوگوں نے اپنے بچپن کے دن گزارے، اور انہی گلیوں میں جوان ہوکر آزادی کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے، زمین کی ننگ و ناموس اور قومی بقا و شناخت کے لیے اپنی ذاتی زندگی ترک کرکے ہمیشہ کے لیے جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوگئے۔ لیکن آپ کی فخر انگیز سوچ اور دی ہوئی تعلیم آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی، ایک سرمچار کی شکل میں، ایک وطن دوست کی شکل میں، ایک غازی کی شکل میں، اور آپ کے نام “درپشان” (جس کے معنی ہیں روشنی کا چاروں طرف پھیل جانا) کی طرح درخشاں رہے گی، آزادی کی راہ پر چلتی رہے گی اور نمیران رہے گی۔
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں، سمندر میں اُتر جاؤں گا
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا
میں ہر وقت آپ سے پوچھتا تھا، کبھی بےوقوفی والے تو کبھی دانائی والے سوالوں کا انبار لگاتا تھا۔ میں کبھی کبھی پوچھتا تھا: “لعلو! صرف جنگ ہی کیوں؟ کیا آزادی صرف جنگ سے ملتی ہے؟”
تو آپ ہر وقت مسکراتے اور نرم لہجے کے ساتھ جواب دیتے: “جی ہاں، آزادی صرف جنگ سے ہی ملتی ہے، لیکن جنگ کے لیے سیاست کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ یوں سمجھ لو، اگر جنگ دل ہے تو سیاست اس کی دھڑکن۔ جس طرح زمین پر ہر زندہ شے کو سانس لینے کے لیے آکسیجن (oxygen) کی ضرورت ہے، اسی طرح جنگ کو سیاست کی ضرورت ہے۔”
آپ ہر وقت افلاطون کے اس قول کو دہراتے تھے کہ:
“جب آپ سیاست کرنا چھوڑ دیتے ہو تو آپ سے کم تر لوگ آکر آپ پر حکومت کریں گے۔”
اور یہ نہ صرف بلوچوں کے ساتھ ہوا ہے بلکہ ہر اُس قوم کے ساتھ ہوا جس نے پڑھنے لکھنے میں دیر کردی اور سیاست میں دلچسپی نہیں رکھی۔ آج ان کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔ اس کی واضح مثال ہمیں تاریخ میں ملتی ہے۔ مغل، جو ایک وقت پورے ہندوستان پر راج کرتے تھے، اپنی عیاشیوں میں گم ہوکر اپنا سب کچھ انگریزوں کے ہاتھوں دے بیٹھے اور اپنی قومی شناخت ہمیشہ کے لیے کھو بیٹھے۔ دوسری مثال وائکنگز (Vikings) کی ہے، جو ایک وقت پورے ناروے (Norway) پر راج کرتے تھے، لیکن وقت کی ضروریات کو نظر انداز کرکے ہمیشہ کے لیے کتابی کہانی بن کر رہ گئے۔
یہ ان بلوچ بہادروں کی وقت اور حالات کو سمجھ کر فیصلہ لینے اور اپنے فیصلوں پر ڈٹ کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کی بدولت ہے کہ ہم آج بھی اس چھوٹے سے زمین کے ٹکڑے پر اپنی قومی بقا اور شناخت برقرار رکھ پائے ہیں۔ آج اگر بلوچوں کی مسلح جدوجہد اس حد تک پہنچی ہے تو اس کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ سیاست ہے۔ کون جانتا تھا کہ بابا مری کے اسٹڈی سرکلز سے اٹھ کر امیر بخش لانگو (سگار بلوچ) جیسے کردار نمودار ہوں گے اور ہمیشہ کے لیے امر کردار بن جائیں گے۔
اور آپ جنگ کے بارے میں ہمیشہ بابا مری کے اس قول کو دہراتے تھے کہ:
“جنگ بھی ایک سیاست ہی ہے، صرف بندوق اور قلم کا فرق ہے۔”
اور آپ ہمیشہ کہتے تھے: “جب دشمن قتل و غارت پر اتر آئے تو اس کے گلے میں پھولوں کا ہار اور گلدستے دینا سب سے بڑی بےوقوفی ہوگی۔ لوہے کو صرف لوہا ہی کاٹتا ہے، اور اسی طرح جنگ بھی جنگ سے ہی ختم ہوتی ہے۔”
ایک ایسے دور میں جب ہم ایک ایسی کشمکش میں ہیں کہ جنگ کے سوا کوئی راستہ بچتا ہی نہیں، اگر یہاں سے ایک قدم بھی ہم پیچھے ہٹے تو ہم اپنا سب کچھ کھو دیں گے؛ اپنی بلوچی عزت، قومی بقا، شناخت، زمینی حق اور قومی حیثیت، جو ہم ہرگز نہیں چاہتے۔ بحیثیت بلوچ ہمیں جنگ اور جنگ کے علاوہ ہر اُس محاذ پر لڑنا چاہیے جہاں اس کی ضرورت ہے۔ مثلاً آج کل ففتھ جنریشن وارفیئر (Cyber War) کا دور ہے، جو سوشل میڈیا کے ذریعے لڑی جاتی ہے۔ اس میں مختلف طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرکے دشمن کی نفسیات سے کھیلا جاتا ہے اور اسے خوف و ہراس میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ فیک اکاؤنٹس پر دشمن کے خلاف مختلف طرح کی بیان بازی سے لے کر فیک ویڈیوز اور تصاویر ایڈٹ کرکے اس کے مورال اور اعتماد (confidence) کو چُور چُور کیا جاتا ہے، پھر اس پر قہر بن کر گرا جاتا ہے اور اسے ہمیشہ کے لیے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ اور یہ ہم سب، خاص کر پڑھے لکھے نوجوانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان چیزوں میں جتنا ہو سکے حصہ لیں اور اپنا قومی فرض ادا کریں۔
مجھے اچھی طرح یاد تو نہیں، شاید 25 دسمبر کی سرد رات تھی اور ہم ہیٹر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کچھ تحریر کر رہے تھے، شاید استاد اسلم پر؟ تو میں نے آپ سے پوچھا کہ جنگ میں آپ بلوچ عورتوں کے کردار کو کس نظریے سے دیکھتے ہو؟
تو آپ نے تھوڑا غصہ ہوکر مجھ سے کہا: “جب بھی میں کچھ لکھ رہا ہوتا ہوں تو تم یہ بےوقوفیوں والے سوال کرکے مجھے ڈسٹرب کیوں کرتے ہو؟”
اور کچھ دیر خاموشی کے بعد آپ نے مجھے ایک ویڈیو دکھائی جس میں چیئرمین بشیر زیب عورتوں کے کردار کے متعلق بتا رہے تھے کہ صرف جینڈر (Gender) کے علاوہ کوئی فرق نہیں ہے۔ جس طرح ہر بلوچ مرد پر قربانی دینا فرض ہے، برابر فرض عورت پر بھی ہے۔
پھر آپ نے موبائل بند کرکے مجھ سے کہا: “بلوچ تو یہ فرق کرتے بھی نہیں تھے۔ اگر ہم بلوچوں کی تاریخ کے ہر پہلو میں دیکھیں تو ہمیں ایسے ہزاروں کردار ملیں گے جو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور جنگ لڑتے رہے۔ سدگنج اور بانڈی ان کی واضح مثالیں ہیں، اور بلوچی پرانی کہانیوں میں ہمیں گوہر اور سمو جیسی مالدار عورتوں کی داستانیں ملتی ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ بلوچ کتنے سیکولر (secular) تھے۔”
اس کے بعد میں نے آپ سے پوچھا: “اگر ہم آزاد ہوگئے، جو کہ لازمی ہونی ہے، اتنے شہیدوں نے جو قربانی دی ہے، اگر مذہبی مسائل اور خانہ جنگی شروع ہوئی تو پھر کیا ہوگا؟”
تو آپ نے تھوڑا مسکراتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان کے اندر کبھی مذہبی مسائل ہوئے ہی نہیں۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو قتل کرنا اور بلوچوں کو آپس میں لڑانا پاکستانی پالیسی ہے، جو اپنی حاکمیت کو مضبوط کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ اور جب پاکستان ختم ہو جائے گا تو یہ مسئلے خود بخود ختم ہو جائیں گے۔
“کیا تمہیں پتا ہے جب 1839 میں انگریزوں نے بلوچستان پر قبضہ کیا تو اُس وقت وزیر خزانہ کون تھا؟ وہ دیوان مل تھا، جو ایک ہندو تھا۔ اگر بلوچ مذہبی ہوتے تو اُس وقت ہندوؤں کو اتنی عزت کیسے ملتی؟ دراصل بلوچ نہ پہلے مذہبی تھے اور نہ آج ہیں۔”
“اور بات جب خانہ جنگی کی ہو تو میں قطعاً اس بات کے حق میں نہیں ہوں کہ بلوچوں کے درمیان خانہ جنگی ہوگی، کیونکہ آج کے بلوچ اور اُس وقت کے بلوچوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پہلے بلوچ نہ پڑھتے تھے اور نہ لکھتے تھے، بس اپنی پرانی روایات پر چل رہے تھے۔ ہاں، یہ بات درست ہے کہ آج بھی ہم بلوچی روایات نہیں بھولے ہیں اور نہ کبھی بھولیں گے، لیکن روایات کے ساتھ علم کی روشنی سے اپنی پرانی تمام غلطیوں سے سیکھ کر اپنی سب سے بڑی کمزوری کو ہتھیار بنائیں گے اور ترقی کی منازل طے کرتے رہیں گے۔”
“اگر تمہاری بات درست ہوئی بھی تو میرے خیال میں یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوگا، کیونکہ جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ہزاروں ممالک کی خانہ جنگیوں کی مثالیں ملتی ہیں، جو لڑ کر سیکھے اور آج دنیا پر راج کرتے ہیں۔ مثلاً 1917 میں روس میں خانہ جنگی شروع ہوئی جو آٹھ سال تک چلتی رہی، جس میں دو لاکھ پچاس ہزار لوگ مارے گئے، لیکن روس نے وہیں سے ترقی کی وہ منازل طے کیں کہ خانہ جنگی کے فوراً بعد سوویت یونین کا آغاز ہوا۔ اسی طرح 1861 میں امریکہ میں خانہ جنگی شروع ہوئی، جو چار سال تک چلتی رہی، جس میں تین لاکھ پینسٹھ ہزار لوگ مارے گئے۔ اس کے باوجود بھی امریکہ کمزور نہیں ہوا بلکہ اور مضبوط بنتا گیا اور ترقی کرتا رہا، اور آج امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے۔”
“کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آپس کے معاملات، آپس میں بات چیت اور مذاکرات سے حل ہوتے ہیں۔ وہ اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا باہر سے آنے والے دشمن پہنچاتے ہیں۔ بلوچ کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ آزادی ہے، جو ایک بار مل گئی تو باقی مسائل اتنے بڑے نہیں رہیں گے۔”
آپ آنے والے وقتوں میں جنگ کے ایک انمول ہیرا تھے، اور نہ کبھی تھکنے والے اور نہ کبھی رکنے والے انسان تھے۔ آپ کے حوصلے پہاڑ جتنے بلند اور سورج کی کرنوں کی طرح روشن تھے، لیکن وقت نے آپ کو اپنی اصل خوبیوں کو دکھانے کا اتنا موقع نہیں دیا۔ آپ ایک ہیرو کی طرح شہید ہونے کا اعزاز اپنے سینے میں سجا کر ہمیشہ کے لیے نمیران ہوگئے۔
