کچھ اَن کہی یادوں کی کہانیتحریر: وسیم زہری

تحریر: وسیم زہری

آج کی اس تیز ترقی کے دور میں انسان اپنی خواہشات اور دنیا سے خود کو جوڑنے کی رفتار کے ساتھ چلتے چلتے اتنا آگے نکل گیا ہے کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے کا وقت بھی نہیں ملتا۔ اسی بھاگ دوڑ سے نکلنے کے لیے میں نے کچھ وقت کے لیے کوئٹہ سے اپنے گاؤں جانے کا فیصلہ کر لیا، وہ گاؤں جہاں اب بھی لوگ سادگی، مہر و محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ سکون سے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

میں صبح نکل پڑا اپنی منزل کی جانب، اور آخری موڑ پر جب گاڑی بائیں طرف مڑی تو ہم گاؤں میں داخل ہوئے۔ شیشہ کھولتے ہی ایک ہلکی سی ٹھنڈی ہوا نے جیسے مجھے خوش آمدید کہا، جیسے کئی زمانوں سے بچھڑے ہوئے دوست ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہوں۔

کچی سڑکوں کو پار کرتے ہوئے جب گھر پہنچے تو میں نے سکون کی سانس لی اور بیٹھ گیا۔ میری خواہش تھی کہ صبح جلدی اٹھ کر صبح کی ٹھنڈی ہوا، جسے ہم “آفسرک” کہتے ہیں، کو محسوس کروں۔ گاؤں کے بزرگ روزمرہ کے اپنے کاموں کے لیے دھوپ نکلنے سے پہلے ہی صبح سویرے نکل جاتے ہیں۔ وہ احساس ہی کچھ اور ہوتا ہے جو کہیں اور محسوس نہیں ہوتا۔

کچھ دن اسی طرح لوگوں کے ساتھ مل جل کر گزر گئے۔ ایک دن تپتی دھوپ کی وجہ سے میں باغ کی چھاؤں میں بیٹھنے کے لیے نکل گیا۔ وہاں میرے پہنچنے سے پہلے ہی کچھ بچے اپنی بچپن کی دنیا میں مگن ہو کر زندگی کے سب سے خوبصورت دنوں کا لطف اٹھاتے ہوئے کھیل رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی اور میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔

سب کے نام پوچھنے کے بعد ہم دوست بن گئے اور ایک دوسرے سے مذاق کرنے لگے۔ وہ بھی مجھے “دوست” کہہ کر پکارتے تھے۔ ہم سب کچھ دیر اسی مگن اور مستی کے عالم میں تھے کہ اچانک اس تپتی دھوپ میں دو نوجوان لڑکے ہماری طرف آتے ہوئے دکھائی دیے۔ میں نے انہیں دور سے ہی دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ کون لوگ ہیں، اور خود کو اَن دیکھا کرنے کا سوچا۔

اتنے میں بچوں نے مجھے آواز دی:
“دوست، وہ دیکھو! کچھ لوگ ہماری طرف آ رہے ہیں۔”

جب وہ ہمارے پاس آئے تو مجھے پہچان کر بولے:
“قربان! کیسے ہو؟”
اور گلے لگ گئے۔

میں نے انہیں درختوں کی چھاؤں میں بیٹھنے کو کہا۔ ان کے سفر کا حال احوال پوچھنے کے بعد انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا:
“قربان، ہمارا پانی ختم ہو گیا ہے، پیاس لگی تھی، اس لیے تمہارے پاس آ گئے۔”

میں نے ان کی بوتلیں لے کر پانی بھر دیا۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ اٹھے اور اپنی منزل کی طرف “رُخصت اف اوارُن، قربان” کہتے ہوئے روانہ ہو گئے۔

ان کے جانے کے بعد ایک بچے نے معصوم نگاہوں سے مجھے مخاطب کر کے پوچھا:
“دوست، یہ خطرناک لوگ کون تھے؟ ان کے بال کتنے لمبے تھے، اور ان کے پاس کتنی بڑی بڑی بندوقیں تھیں! تمہیں ڈر نہیں لگا؟”

یہ وہ وقت تھا جب کچھ کہنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایک لفظ بھی تمہیں نقصان پہنچا سکتا تھا۔ وہ دور تھا جب خاموشی ہماری مجبوری بن گئی تھی۔ وہ وقت تھا جب تم چیخنا چاہتے تھے مگر زبان ساتھ نہیں دیتی تھی۔

ایسا خوف کا ماحول تھا کہ تمہارے ہر قدم پر لوگوں کی نظریں جمی ہوتی تھیں۔ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ تمہارا اپنا سایہ بھی تمہارا ساتھ چھوڑ رہا ہے۔

میں بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر کچھ کہہ نہ سکا۔ اور وہ بچے سوال پر سوال کیے جا رہے تھے۔ میں جیسے ایک گونگا انسان ان کے بیچ میں بیٹھا تھا، زبان پر تالا لگا کر صرف سن رہا تھا۔

کچھ دیر بعد میں خاموشی سے وہاں سے نکل کر گھر کی طرف لوٹ گیا، مگر وہ سوال وہیں کے وہیں رہ گئے، جو جواب کے منتظر تھے۔ جیسے پیچھے مڑ کر ان کی طرف دیکھنا بھی کوئی جرم بن گیا ہو، اور وہ مناظر اب بھی میری طرف دیکھ رہے ہوں۔

میں نے اپنے اس کمزور دل کو تسلی دے کر آگے بڑھنا ہی مناسب سمجھا، لیکن وہ انسان ان سوالوں کا جواب کیسے دے سکتا ہے جو خود کئی بار انہی لمبے بال رکھنے کی وجہ سے باتیں سن چکا ہو؟

ایک دن کسی مریض کے لیے دوائی لینے کی غرض سے میں اور ایک دوست ساتھ نکلے۔ ہمارے قریب والا میڈیکل اسٹور بند ہونے کی وجہ سے ہم کچھ فاصلے پر موجود ایک اور میڈیکل اسٹور چلے گئے۔ وہاں پہنچ کر ڈاکٹر سے سلام دعا کرنے کے بعد جب میں نے اپنی چادر سر سے اتاری تو ڈاکٹر نے حیران آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا:
“میں نے تمہیں پہلے یہاں نہیں دیکھا، تم کون ہو؟”

میں نے اپنا تعارف کروایا تو وہ پہچاننے کے بعد میرے انکل کی تعریف کرنے لگا اور ساتھ ہی یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ تمہارے گھر والے پڑھے لکھے لوگ ہیں، پھر تمہارا حلیہ چوروں کی طرح کیوں ہے؟

میں خاموشی سے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے بولا:
“صحیح کہہ رہے ہیں، ڈاکٹر صاحب۔”

اور وہاں سے نکلنے کا ارادہ کیا، مگر اس نے کافی باتیں سنانے کے بعد آخرکار دوائی دی، اور ہم جلدی جلدی وہاں سے نکل آئے۔

راستے میں میں اپنی کیفیت اپنے دوست کو بیان بھی نہ کر سکا۔ یہ وہ طبقہ ہے جو پڑھ لکھ کر خود کو اعلیٰ سمجھتا تو ہے، مگر اسے میری اپنی پہنی ہوئی ثقافت سے اس قدر نفرت ہو چکی ہے کہ اس کی آنکھوں کی حیرانی نے مجھے یہ احساس دلایا کہ جیسے آج کالونائزر کی زبان ایوانوں سے نکل کر میرے گھر تک پہنچ چکی ہے، اور وہی الفاظ ادا کر رہی ہے جو ایک استعماری ذہنیت کرتی ہے۔

اگر وہ تمہیں مزاحمتی چادر اوڑھے دیکھیں تو انہیں چڑچڑاہٹ ہوتی ہے، اور اگر تم اپنی بلوچی چوٹ کے ساتھ ان سے ملو تو وہ تمہیں کمتر محسوس کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

گھر پہنچ کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ اپنی قوم کے معصوم بچوں کو کیسے سمجھاؤں کہ آج جن کے لمبے بال دیکھ کر تم ان سے ڈر رہے ہو، وہ کسی کرسی پر بیٹھ کر استعمار کے لباس پر فخر کرنے والوں سے کہیں زیادہ باشعور ہیں۔ وہ لوگ جو جعلی ڈگریوں کے نام پر کالونائزر کی زبان میں ہمیں کم ظرف اور جاہل ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ ان سے بھی زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔

یہ وہی لوگ ہیں جو ہماری فکر میں، تپتی دھوپ میں، ایک گولی جیب میں رکھ کر پیاسے گھوم رہے ہیں۔ اور جو استاد سوٹ کوٹ پہن کر ریاست کے بنائے ہوئے سرداروں کی تعریف میں مصروف رہتے ہیں، یہ انہی سے تمہیں بچانے کے لیے دن رات پیدل سفر کرتے ہیں۔

شاید اس وقت میرا خود سے مکالمہ کرنا کوئی اثر یا نتیجہ نہ دے سکا، اور نہ ہی اس زبان نے کچھ کہنے کی ہمت جتائی، مگر ایک امید، یا شاید یقین، کے ساتھ میں اس خاموشی میں آگے بڑھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ہم اس گھٹن جیسے ماحول کو توڑ دیں گے۔

یہ معاشرہ جو منافقت کی سیڑھیوں پر چڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، ہم اسے روک دیں گے۔ وہ سوچ جو بندوق کو کندھے پر رکھ کر غریبوں پر حکم چلا رہی ہے، ہم اسے ضرور سزا دیں گے۔ وہ نائب جو گھر گھر گھوم کر سردار کا پیغام پہنچا رہا ہے، ہم اسے اس معاشرے سے نکال دیں گے۔

آج میری یہ خاموشی شاید ان بچوں کو ان کے سوالوں کا جواب نہ دے سکی ہو، یا کسی کی نظروں میں مجھے کمزور یا ڈرا ہوا دکھا رہی ہو، مگر کل یہی خاموشی ایک چیخ بن کر ابھرے گی، اور کالونائزر کی دی ہوئی زبان کو کاٹ کر جڑ سے اکھاڑ دے گی۔

اور وہ سوال پھر سوال نہیں رہیں گے، بلکہ جواب بن کر ریاست پر ٹوٹ پڑیں گے۔ وہ کسی فدائی کی صورت میں ان کیمپوں کو تباہ کر دیں گے، یا پھر قاضی بن کر قہر کی طرح اچانک آسمان سے اتر کر ان کے سینوں کو چیر دیں گے۔

یہ بچے غلامی کے اثرات میں دم گھٹ کر نہیں مریں گے، بلکہ ایک ہیروفی لشکر بن کر اپنے وطن میں آقا کے دماغ میں گھس کر اسے مفلوج کر دیں گے، اور اسے حرکت کرنے نہیں دیں گے۔

شاید یہ سوال پیدا ہی نہ ہوتے اگر ان وطن زادوں کو پیاس نہ لگی ہوتی۔ یہ وہ پیاس ہے جو سوال بن کر ابھری ہے اور جواب میں خون کی ہولی کھیل رہی ہے۔

کچھ دن بعد وہ بچہ میرے پاس آ کر بولا:
“دوست، وہ لمبے بال والے جو اس دن ہمارے پاس آئے تھے، ان میں سے ایک کی تصویر گردش کر رہی ہے، ساتھ میں وہی بندوق بھی ہے… مگر اس کی نلی اس نے اپنی طرف کیوں کی ہوئی ہے؟”

کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے اپنی خاموشی توڑ دی اور اس بچے کے تمام سوالوں کے جواب دیتے ہوئے اسے اس نظریے کا مفہوم سمجھایا۔ تب اس نے مجھ سے کہا:
“دوست، جب تم پانی لینے گئے تھے تو اس نے مجھ سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ اس نے مجھے اپنی بندوق دکھا کر کہا کہ اب ہم دوست ہیں، اگر کل کو مجھے کچھ ہوا تو یہ تمہاری امانت ہے، اسے لینے ضرور آنا۔”

یہ وہ لمحہ تھا جب آج مجھے اس بچے سے ایک سوال کرنا پڑا۔ میں نے پوچھا:
“تو پھر تم اپنی امانت لینے جاؤ گے؟”

اس نے خوش ہوتے ہوئے کہا:
“ضرور جاؤں گا، نہیں تو میرا دوست مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔”

میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکراتے ہوئے کہا:
“بیٹے، تم ابھی بہت چھوٹے ہو، جب بڑے ہو جاؤ گے تو ضرور اپنے دوست کی دی ہوئی راہ پر چلنا۔”

یہ کہہ کر میں گاؤں سے واپس شہر کی طرف لوٹ آیا، اور حالات اپنی ضرورت کے مطابق بدلتے رہے، کبھی سرد، کبھی گرم۔

کئی سال گزرنے کے بعد میرے گاؤں سے خبر آئی کہ نامعلوم مسلح افراد نے نورگامہ سمیت مختلف علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور صبح سے فورسز کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔ میں نے خوش ہو کر ایک دوست سے اس خبر کی تصدیق کی تو اس نے جواب دیتے ہوئے کہا:
“ہئو قربان، زہری ننا دوٹی اے داسہ۔”

یہ سن کر میں نے سکون کی سانس لی اور اس سفر میں بچھڑے ہوئے دوستوں کو یاد کرنے لگا۔ آج ان کی قربانی کے فلسفے سے ہماری تحریک پہاڑوں سے نکل کر گاؤں تک پہنچ گئی ہے، اور یہ مزید آگے بڑھ کر اپنے صحراؤں سے لے کر سمندر تک پہنچ جائے گی۔

آج ہمارے خواب حقیقت میں بدلتے ہوئے دکھ رہے ہیں۔ کل جس جگہ ہم گھٹن جیسی ہواؤں میں سانسیں لے رہے تھے، آج اسی جگہ لوگ آزاد فضائیں محسوس کر رہے ہیں

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

لعل بخش رسول عرف درپشان

ہفتہ مئی 23 , 2026
تحریر: شولان بلوچ تاریخ کچھ لوگوں کو یاد کرکے فخر محسوس کرتی ہوگی، جنہوں نے تاریخ کو خون سے رقم کیا۔ (سلمان حمل) جب میں آپ پر کچھ لکھنے کا سوچتا ہوں تو میں حیران ہوتا ہوں کہ کیا لکھوں۔ شاید سچ کہتے ہیں لوگ کہ جو سب سے زیادہ […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ