“سوچ کی جنگ اور حقیقت کا سامنا”

تحریر: ھانی بلوچ

میں مرنے کے لیے تیار ہوں، مگر پاکستان سے محبت کرنے کے لیے نہیں۔ یہ جملہ محض ایک ردِعمل نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت کا اظہار ہے جو برسوں کے مشاہدے، تکلیف اور شعور سے جنم لیتی ہے۔ یہ ایک سوال بھی ہے، ایک احتجاج بھی، اور ایک اندرونی سچ بھی، جو ہر اُس دل میں پلتا ہے جو حالات کو محض دیکھتا نہیں بلکہ سمجھتا بھی ہے۔

آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں حقیقت کو براہِ راست پیش کرنے کے بجائے اسے خوبصورت الفاظ، رنگین تقریبات اور بظاہر مثبت سرگرمیوں کے پردے میں چھپایا جا رہا ہے۔ یہ دور بظاہر ترقی اور خوشحالی کا دعوے دار ہے، مگر اس کے اندر ایک خاموش جنگ جاری ہے؛ سوچ کی جنگ، شعور کی جنگ۔

گزشتہ کچھ عرصے میں مختلف قسم کے فیسٹیولز، پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد میں تیزی آئی ہے۔ یہ سب کچھ صرف تفریح یا ثقافت کے فروغ کے لیے نہیں لگتا، بلکہ ایک مخصوص بیانیہ قائم کرنے کی کوشش محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو عوام کی توجہ کو اصل مسائل سے ہٹا کر وقتی خوشیوں میں الجھا دے۔

ان سرگرمیوں کا دائرۂ کار بھی محدود نہیں۔ کبھی طلبہ کو ہدف بنایا جاتا ہے، کبھی تعلیم یافتہ طبقے کو، کبھی مزدوروں کو، اور کبھی عام شہریوں کو۔ ہر طبقے کے لیے الگ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، مگر مقصد ایک ہی ہوتا ہے: سوچ کو قابو میں رکھنا اور سوال اٹھانے کی صلاحیت کو کمزور کرنا۔

مگر یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے—کیا واقعی سوچ کو خریدا جا سکتا ہے؟ کیا چند انعامات، وقتی سہولیات یا خوبصورت تقریبات کسی انسان کے شعور کو بدل سکتی ہیں؟ شاید وقتی طور پر کچھ لوگ متاثر ہو جائیں، مگر وہ لوگ جو حقیقت سے واقف ہیں، انہیں اس طرح کے طریقوں سے تبدیل کرنا ممکن نہیں۔

لوگ ناواقف نہیں ہیں۔ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں، سمجھ رہے ہیں اور یاد بھی رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں ان پالیسیوں کا علم ہے جو ان کے حقوق کو محدود کرتی ہیں، انہیں ان واقعات کی خبر ہے جو انصاف کے تقاضوں کے خلاف جاتے ہیں، اور وہ ان رویّوں سے بھی واقف ہیں جو ان کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔

یہی شعور ایک خاموش مزاحمت کو جنم دیتا ہے۔ ایک ایسی مزاحمت جو سڑکوں پر نظر نہیں آتی، مگر دلوں اور ذہنوں میں زندہ رہتی ہے۔ یہ وہ مزاحمت ہے جو سوال کرتی ہے، جو ماننے سے انکار کرتی ہے، اور جو ہر بیانیے کو پرکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

جب کسی معاشرے کو مسلسل نظرانداز کیا جائے، اس کے مسائل کو دبا دیا جائے اور اس کے زخموں کو نظرانداز کیا جائے، تو وہاں محبت کے بجائے فاصلے پیدا ہوتے ہیں۔ محبت ایک فطری جذبہ ہے؛ یہ زبردستی پیدا نہیں کی جا سکتی، نہ ہی اسے کسی نعرے یا حکم کے ذریعے مسلط کیا جا سکتا ہے۔

جو لوگ واقعی اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں، انہیں اس کا اظہار سکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کی محبت ان کے عمل، ان کی نیت اور ان کے تعلق میں خود بخود ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن جب محبت کے بجائے جبر، خوف اور بےاعتمادی ہو، تو وہاں تعلق کمزور پڑ جاتا ہے۔

آخر میں، یہ وقت ہے کہ ہم خود سے سوال کریں: ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟ ہمیں کیا دکھایا جا رہا ہے؟ اور حقیقت ان دونوں کے درمیان کہاں کھڑی ہے؟ اندھی تقلید کے بجائے شعور کو اپنائیں، ہر بات کو پرکھیں، اور سچ کو تلاش کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ اصل آزادی سوچ کی آزادی سے شروع ہوتی ہ

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ