۲۸ مئی یوم تکبیر یا ظلم کبیر

تحریر : نصیر بلوچ

۲۸ مئی ۱۹۹۸ء کو پاکستان نے بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کے سامنے اپنے آپ کو ایک طاقتور ریاست کے طور پر پیش کیا۔ اس دن کو “یومِ تکبیر” کا نام دیا گیا، اور ریاستی بیانیے نے اسے محض ایک سائنسی کامیابی یا دفاعی پیش رفت کے بجائے “اسلامی دنیا کی فتح” بنا کر پیش کیا۔ گویا اب ایک ایسا “اسلامی بم” وجود میں آ چکا تھا جو پوری امتِ مسلمہ کے وقار، تحفظ اور طاقت کی علامت بننے والا تھا۔ ریاستی ذرائع ابلاغ نے اس واقعے کو ایک مقدس کارنامے کی شکل دے دی۔ قوم پرستی، مذہب، اور عسکری طاقت کو اس انداز سے آپس میں جوڑا گیا کہ عام انسان کے لیے سوال اٹھانا بھی گویا “قومی جرم” بن گیا۔ ملک بھر میں جشن کا سماں تھا۔
مٹھائیاں بانٹی گئیں، گلیوں میں بھنگڑے ڈالے گئے، اور لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے جیسے کوئی تاریخی فتح حاصل ہو گئی ہو۔ اخبارات کی سرخیاں “پاکستان زندہ باد”، “یومِ تکبیر”، اور “اسلامی ایٹمی طاقت” جیسے نعروں سے بھری ہوئی تھیں۔ ٹی وی پروگراموں میں فتح کے ترانے گائے جا رہے تھے، اور مسلسل یہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ اب پاکستان ناقابلِ تسخیر بن چکا ہے، اب بھارت کو “منہ توڑ جواب” مل چکا ہے، اور اب اسلامی دنیا کا دفاع ایک “آہنی حصار” کرے گا۔ مگر ان نعروں، ترانوں اور جشن کے شور میں ایک خطہ ایسا بھی تھا جہاں خاموشی ماتم بن کر پہاڑوں سے لپٹی ہوئی تھی — وہ بلوچستان تھا، جس کی سرزمین کو اس ایٹمی تجربے کے لیے استعمال کیا گیا، مگر جس کے عوام کو کبھی اس فیصلے میں شریک نہیں کیا گیا۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے:
کیا واقعی ایٹمی دھماکے قوموں کو عظیم بنا دیتے ہیں؟
کیا طاقت صرف بارود، میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں کا نام ہے؟
یا پھر طاقت کا اصل معیار انسان، علم، انصاف، کردار، تہذیب، اخلاق، اور انسانیت ہوتی ہے؟ اگر ایٹمی ہتھیار ہی عظمت کی آخری علامت ہوتے، تو دنیا کی بڑی طاقتیں انسانیت کے لیے امن، انصاف اور احترام کی مثال ہوتیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ بارود صرف خوف پیدا کر سکتا ہے، احترام نہیں۔ بندوقیں خاموشی تو مسلط کر سکتی ہیں، مگر دلوں پر حکمرانی نہیں کر سکتیں۔ طاقت وہ نہیں جو زمین کو جلا دے، بلکہ طاقت وہ ہے جو انسان کو شعور دے، انصاف دے، اور اسے باوقار زندگی جینے کا حق دے۔ ریاستِ پاکستان کی یہ حرکت ہمارے لیے کوئی نئی یا حیران کن بات نہیں تھی۔ ہم دہائیوں سے اس ریاست کی ہنر بازیاں، سیاسی شعبدہ گریاں، اور قومی فریب کاریاں قریب سے دیکھتے آئے ہیں۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے قیام کے ابتدائی دنوں ہی سے بیرونی سہاروں، قرضوں، عسکری اتحادوں، اور امداد کی بیساکھیوں پر کھڑی رہی۔ ایک ایسی ریاست جس کی بنیاد ہی خون ریزی، جبر، لوٹ مار، اور تاریخی جھوٹ پر رکھی گئی۔ ایک ایسی ریاست جو آج تک اپنے عوام کو ایک حقیقی جمہوری، فکری، اور انسانی شناخت نہ دے سکی۔ جس کے پاس نہ کوئی واضح قومی کردار ہے، نہ ایسا اجتماعی اخلاقی معیار جس پر دنیا اسے عزت کی نگاہ سے دیکھے۔ یہاں قومی ہیروز بھی وہ تخلیق کیے جاتے ہیں جنہیں عوام صرف نصابی کتابوں، ریاستی بیانیوں، اور سرکاری پروپیگنڈے کے ذریعے جانتے ہیں — نہ کہ ان کے علم، کردار، انسان دوستی یا اخلاقی عظمت کی بنیاد پر۔ اس معاشرے میں تاریخ بھی سچائی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ریاستی ضرورت کے مطابق لکھی جاتی ہے۔ یہاں فاتح وہی قرار پاتا ہے جس کے ہاتھ میں طاقت ہو، چاہے اس کے قدموں تلے ہزاروں انسانوں کی لاشیں کیوں نہ دبی ہوں۔ مثلاً محمود غزنوی کی فتوحات اور سومنات پر حملے کو سرکاری تاریخ “اسلامی عظمت” اور “فتح” کے طور پر پیش کرتی ہے، مگر ان حملوں کے نیچے دفن چیخیں، جلتے ہوئے شہر، قتل ہونے والے انسان، لٹی ہوئی تہذیبیں، اور بکھرتی ہوئی زندگیاں کبھی نصاب کا حصہ نہیں بنتیں۔ طاقت ہمیشہ اپنی تلوار دکھاتی ہے، مگر اس تلوار سے ٹپکتے خون کو چھپا لیتی ہے۔ تاریخ کے خاموش گوشوں میں آج بھی وہ سسکتی ہوئی روحیں موجود ہیں جنہیں طاقت کے جشن میں ہمیشہ فراموش کر دیا گیا۔
۲۸ مئی کے ایٹمی دھماکے بھی اسی ریاستی نفسیات کا تسلسل تھے۔
ایک ایسا عمل جسے “قومی عظمت” کہا گیا، مگر اس کے اثرات بلوچ سرزمین اور وہاں کے عام انسانوں نے اپنے جسموں، پانیوں، فضاؤں، اور نسلوں میں محسوس کیے۔ چاغی کے پہاڑ صرف ایٹمی دھماکوں سے نہیں لرزے تھے، بلکہ اس دن ایک پوری قوم کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ ریاست طاقت کے نشے میں کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، اور مقبوضہ سرزمینوں کو محض تجربہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جسے ریاستی جشن ہمیشہ چھپا لیتا ہے۔
قوموں کو نعروں، مذہبی جذبات، اور جنگی جنون میں اس قدر الجھا دیا جاتا ہے کہ وہ یہ پوچھنا بھول جاتی ہیں کہ آخر اس طاقت کا فائدہ عام انسان کو کیا ملا؟
کیا غربت ختم ہوئی؟
کیا انصاف آیا؟
کیا علم عام ہوا؟
کیا انسان محفوظ ہوا؟
یا صرف طاقتور حلقوں کی طاقت مزید مضبوط ہو گئی؟ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ شعور، علم، انصاف، اجتماعی اخلاق، اور انسان دوستی سے عظیم بنتی ہیں۔ ایٹمی دھماکے شاید پہاڑوں کو ہلا سکتے ہیں، مگر وہ کسی قوم کے اندر موجود خوف، غلامی، جہالت، اور ناانصافی کو ختم نہیں کر سکتے۔
اصل مسئلہ صرف حکمران نہیں ہوتے، بلکہ وہ سوچ ہوتی ہے جو قتل کو عبادت، لوٹ مار کو مقدس جنگ، اور طاقت کو انسانیت سے بڑا بنا دیتی ہے۔ کیونکہ جب ظلم کو تقدس کا لباس پہنا دیا جائے تو سب سے پہلے انسانیت کی آواز قتل ہوتی ہے۔ پھر کسی مظلوم کی چیخ سنائی نہیں دیتی، کسی ماں کے آنسو نظر نہیں آتے، اور کسی تباہ شدہ سرزمین کی خاموشی محسوس نہیں کی جاتی۔ ایسے معاشروں میں سچ بولنے والا باغی کہلاتا ہے، سوال اٹھانے والا غدار ٹھہرتا ہے، اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونے والا ریاستی بیانیے میں “خطرہ” بن جاتا ہے۔ پھر رونے اور ہنسنے کا مفہوم بھی طاقتور طے کرتے ہیں۔
وہی فیصلہ کرتے ہیں کہ کون محبِ وطن ہے اور کون غدار۔
کون شہید کہلائے گا اور کون دہشت گرد۔
وہی تاریخ لکھتے ہیں، وہی نصاب بناتے ہیں، اور وہی قوموں کے شعور کی سمت متعین کرتے ہیں۔ طاقت صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کرتی بلکہ ذہنوں پر بھی قبضہ کر لیتی ہے۔ اور جب ذہن غلام ہو جائیں تو قومیں اپنی زنجیروں کو بھی مقدس سمجھنے لگتی ہیں۔
لیکن سوال اب بھی باقی ہے: اگر ۲۸ مئی واقعی ایک قومی عظمت کا دن تھا، تو پھر بلوچستان آج بھی محرومی، فوجی آپریشنوں، جبری گمشدگیوں، خوف، خاموش قبروں، اور اجتماعی اذیت کی سرزمین کیوں ہے؟
جن پہاڑوں نے ایٹمی دھماکوں کا بوجھ اٹھایا، کیا وہاں کے لوگوں کو کبھی زندگی، ترقی، انصاف، صحت، تعلیم اور اختیار بھی دیا گیا؟
یا پھر ہمیشہ کی طرح وسائل بھی ان کے، زمین بھی ان کی، قربانی بھی ان کی — مگر جشن کسی اور کا؟ یہی وہ سوال ہے جسے ریاستی شور ہمیشہ دبا دیتا ہے۔
کیونکہ طاقت کے ایوانوں میں جشن منانا آسان ہوتا ہے، مگر مظلوم قوموں کے زخموں کو محسوس کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگ صرف دھماکوں کی گونج سنتے ہیں، مگر ان پہاڑوں کی خاموش چیخیں نہیں سنتے جن کے سینے چیر دیے گئے۔ وہ فتح کے نعرے سنتے ہیں، مگر ان ماؤں کی سسکیاں نہیں سنتے جنہوں نے آنے والی نسلوں کے خوف کو اپنی آنکھوں میں دفن کیا ہوا ہے۔
پاکستان کا بھارت کے ردِعمل میں ایٹمی طاقت بننا صرف ایک دفاعی حکمتِ عملی نہیں تھا، بلکہ ایک ریاستی تماشا بھی تھا جسے “قومی عظمت” اور “اسلامی وقار” کے نام پر عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ ریاست نے ایٹمی دھماکوں کو اس طرح پیش کیا جیسے اب تمام قومی مسائل حل ہو جائیں گے، جیسے غربت ختم ہو جائے گی، جیسے انصاف عام ہو جائے گا، اور جیسے عوام کو عزت، تحفظ اور خوشحالی مل جائے گی۔ مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ایک ایٹمی طاقت بن جانے کے باوجود یہ ریاست نہ اپنے عوام کو عزت، خوشحالی اور انصاف دے سکی، اور نہ ہی عالمی دنیا میں کوئی ایسا اخلاقی مقام حاصل کر سکی جس پر قومیں اعتماد کرتی ہیں۔ کل بھی یہ ملک قرضوں، امدادوں، اور بیرونی سہاروں پر کھڑا تھا، آج بھی اس کی معیشت دوسروں کے رحم و کرم پر زندہ ہے۔ وہ ریاست جو دنیا کے سامنے خود کو ناقابلِ تسخیر ظاہر کرتی ہے، وہی عالمی مالیاتی اداروں، طاقتور ملکوں، اور بیرونی سرمایہ دار قوتوں کے سامنے جھکی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ عرب ممالک، جنہیں کبھی “برادر اسلامی ممالک” کہا جاتا تھا، اب خود اس سے فاصلے اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح “پاک-چین دوستی” کے نام پر بلوچستان کی سرزمین، ساحل، وسائل، اور خصوصاً گوادر کو عالمی طاقتوں کے معاشی اور عسکری مفادات کے حوالے کر دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود ریاست مسلسل قرضوں، امدادوں، اور نئی سرپرستیوں کی تلاش میں دربدر پھرتی رہی ہے۔ گویا ایک ہاتھ میں ایٹمی طاقت کا دعویٰ ہے اور دوسرے ہاتھ میں کشکول۔
یہ تلخ حقیقت اب دنیا کے سامنے واضح ہو چکی ہے کہ اس ریاست کے ایٹمی ہتھیار اور اس کے کشکول میں کوئی بنیادی فرق نہیں رہا؛ ایک ہاتھ میں “قومی سلامتی” کا نعرہ ہے، جبکہ دوسرے ہاتھ میں کشکول ،قرضوں اور امداد کی درخواست۔ اگر واقعی یہ ریاست اتنی خودمختار، طاقتور، اور ناقابلِ تسخیر تھی، تو پھر دنیا نے بارہا اس کی خودمختاری کو کیوں روند ڈالا؟ یہی ملک دنیا کے لئے دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے ۔اسی سرزمین پر اسامہ بن لادن کو امریکی افواج فوجی اکیڈمی کے سائے میں آپریشن کرکے لے گئیں، اور ریاست محض تماشائی بنی رہی۔
ریمنڈ ڈیوس لاہور کی سڑکوں پر پاکستانی شہریوں کو گولیاں مار کر واپس امریکہ پہنچ گیا، جبکہ ریاست “قومی سلامتی” کے نعرے دہراتی رہی۔ یہ وہ تضاد ہے جہاں طاقت کے دعوے اور عملی بے بسی ایک دوسرے کے سامنے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف ایٹمی طاقت ہونے کا غرور، اور دوسری طرف عالمی طاقتوں کے سامنے مکمل بے اختیاری۔
اب اگر “یومِ تکبیر” کی بات کی جائے تو بلوچ قوم کے لیے یہ دن کسی جشن کا نہیں بلکہ اجتماعی زخم، تاریخی اذیت، اور قومی توہین کا دن ہے۔ شاید ریاست کے لیے یہ “یومِ فتح” ہو، لیکن بلوچ قوم کے لیے یہ اپنی سرزمین، ماحول، اور آنے والی نسلوں کے خلاف ایک ایسے عمل کی یاد ہے جس میں بلوچ عوام کی مرضی، رائے، اور زندگی کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ پنجاب کی زمین کو محفوظ رکھتے ہوئے بلوچستان کی سرزمین کو ایٹمی دھماکوں کے لیے منتخب کیا گیا۔ چاغی کے پہاڑوں کو جلا دیا گیا، اور وہاں کے باشندوں کو نسل در نسل مختلف موذی بیماریوں، خوف، اور ماحولیاتی تباہی کے حوالے کر دیا گیا۔ مگر دوسری طرف ریاست آج بھی “یومِ تکبیر” کے جشن مناتی ہے، گویا ایک قوم کے زخم دوسری قوم کے لیے فتح کا جشن ہوں۔
ریاستی ایٹمی دھماکے دراصل بلوچ قوم کے لیے ایک خاموش انتباہ تھے — ایک ایسا پیغام کہ قابض ریاست بلوچستان کی سرزمین پر بلوچوں کی مرضی، زندگی، وسائل، اور مستقبل کو نظر انداز کرتے ہوئے کچھ بھی کر سکتی ہے۔ چاغی کے پہاڑوں میں کیے گئے ایٹمی دھماکے صرف پتھروں کو نہیں چیرتے تھے، بلکہ انہوں نے بلوچ قوم کے شعور، ماحول، صحت، اور آنے والی نسلوں پر بھی گہرے اثرات چھوڑے۔ اور سب سے بڑا سوال آج بھی وہی ہے: کیا بلوچستان کے عوام سے کبھی پوچھا گیا کہ ان کی زمین کو ایٹمی تجربہ گاہ بنایا جائے؟
کیا وہاں کے مقامی لوگوں، قبائلی عمائدین، یا بلوچستان کی منتخب نمائندہ قیادت سے کوئی پیشگی اجازت لی گئی؟
کیا ان لوگوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین اور اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کر سکیں؟ تو کیا اس کے بعد پیدا ہونے والے انسانی، ماحولیاتی اور طبی اثرات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا؟
کیا کسی نے یہ سوچا کہ تابکاری کے اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکتے ہیں؟ جواب نفی میں ہے۔کیونکہ بلوچستان کو ہمیشہ سے ایک ایسی خاموش کالونی سمجھا گیا ،جہاں انسانوں کی جان کی قیمت ریاستی مفادات کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتا ۔حالانکہ بلوچ سیاسی و سماجی حلقے، انسانی حقوق کے کارکنان، اور مقامی رہائشی مسلسل یہ دعویٰ اور فریاد کرتے رہے ہیں کہ ان دھماکوں کے بعد چاغی اور گردونواح میں خطرناک بیماریوں میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ ہیپاٹائٹس، خون اور جلد کے کینسر، تھیلیسیمیا، اور بچوں میں پیدائشی نقائص جیسے مسائل نے مقامی آبادی کو شدید متاثر کیا ہوا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، بلکہ ان ماؤں کی خاموش چیخوں کا سوال ہے جو معذور بچوں کو جنم دیتی ہیں، ان خاندانوں کا سوال ہے جو علاج کی سہولت کے بغیر موت کا انتظار کرتے ہیں، اور ان بستیوں کا سوال ہے جہاں غربت اور بیماری ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔ اسی بنیاد پر مقامی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں برسوں سے مطالبہ کرتی آ رہی ہیں کہ چاغی اور متاثرہ علاقوں میں وفاقی یا بین الاقوامی سطح پر آزاد طبی تحقیقات اور تابکاری کی اسکریننگ کروائی جائے، تاکہ حقیقت دنیا کے سامنے آسکے اور متاثرین کو علاج و سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ لیکن آج تک نہ کسی جامع سرکاری میڈیکل بورڈ نے مکمل تحقیقات کیں، اور نہ ہی کسی بین الاقوامی ادارے نے وسیع پیمانے پر آزاد معائنہ کیا۔
یہ خاموشی خود ایک سوال ہے۔ بلوچ قوم کے نزدیک یہ محض غفلت نہیں بلکہ ایک مسلسل انسانی المیہ ہے — ایک ایسی خاموش نسل کشی، جس میں صرف ریاستی طاقت ہی نہیں بلکہ عالمی اداروں اور عالمی طاقتوں کی بے حسی بھی شریک دکھائی دیتی ہے۔
یہی حقیقت ہے کہ نوآبادیاتی ذہنیت ہمیشہ زمین کو وسائل سمجھتی ہے، انسانوں کو نہیں۔ ایسے نظاموں میں مقبوضہ سرزمینیں صرف نقشے پر موجود علاقے ہوتی ہیں، جہاں کے انسانوں کی خواہشات، خوف، زندگیاں، اور آنے والی نسلیں کبھی ریاستی ترجیحات کا حصہ نہیں بنتیں۔ کیونکہ جب مظلوم قوموں کے دکھ عالمی مفادات سے ٹکرا جائیں، تو انصاف اکثر خاموش ہو جاتا ہے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کچھ اَن کہی یادوں کی کہانیتحریر: وسیم زہری

ہفتہ مئی 23 , 2026
تحریر: وسیم زہری آج کی اس تیز ترقی کے دور میں انسان اپنی خواہشات اور دنیا سے خود کو جوڑنے کی رفتار کے ساتھ چلتے چلتے اتنا آگے نکل گیا ہے کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے کا وقت بھی نہیں ملتا۔ اسی بھاگ دوڑ سے نکلنے کے لیے میں نے […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ