کوئٹہ: وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6144ویں روز بھی جاری، مختلف طبقات کا اظہارِ یکجہتی

کوئٹہ میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6144ویں روز بھی جاری رہا۔

کیمپ کی قیادت تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کی، جبکہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کر کے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا اور جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔

شرکاء نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اس عمل کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیاں انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہیں اور ایسے اقدامات کے خلاف ہر باشعور فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ آواز بلند کرے۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور معاشرے کے دیگر طبقات سے اپیل کی کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف متحد ہو کر مؤثر آواز اٹھائیں تاکہ اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے اور لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی ممکن بنائی جا سکے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

‏خدیجہ بلوچ سمیت بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں ناقابلِ برداشت ہیں۔ بی ڈبلیو ایف

جمعرات اپریل 23 , 2026
‏بلوچ وومن فورم کے ترجمان کے جانب جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بی ڈبلیو ایف بلوچستان میں بلوچ خواتین کی پے در پے جبری گمشدگیوں، بالخصوص کوئٹہ سے نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ کے لاپتہ کیے جانے، پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ