تحریر: سید اصغر شاہ سربراہ ایس آر اے

1. ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ کا پس منظر:
ستمبر 2023ء میں جی-20 (G-20) ممالک کا ایک اجلاس بھارت کے شہر دہلی میں ہوا تھا۔ اس اجلاس میں 10 ستمبر کو ایک نئی اقتصادی راہداری کی بنیاد رکھی گئی تھی، جس راہداری کا مقصد مڈل ایسٹ (مشرقِ وسطیٰ) کو یورپ کی مارکیٹ سے ملانا تھا۔ اس مقصد کے لیے اسرائیل کے شہر حیفہ (Haifa) کی بندرگاہ کو تجارتی مرکز بنایا گیا اور اس مرکز کو دبئی کی بندرگاہ سے ملانے کے لیے ایک جدید موٹر وے کی تعمیر کی منظوری دی گئی تھی۔ دبئی بندرگاہ کو اس منصوبے میں شامل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ دبئی بندرگاہ کے مقام پر انڈیا کو بحرِ ہند (Indian Ocean) کے ذریعے اس راہداری سے ملایا جائے۔ اس طرح یہ راہداری ‘انڈیا، مڈل ایسٹ اور یورپ اکنامک کوریڈور’ بن گئی۔
انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور کی منظوری 10 ستمبر 2023ء کو دی گئی تھی اور اس کوریڈور کی منظوری کے ٹھیک ایک مہینے بعد 7 اکتوبر 2023ء کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ وہ حملہ غزه (Gaza) کی سرحدوں سے ملنے والے اسرائیل کے اس علاقے میں کیا گیا تھا، جس علاقے کو ‘کبتزم’ (Kibbutzim) کہا جاتا ہے۔ کبتزم اس علاقے کو کہا جاتا ہے، جہاں زرعی کوآپریٹوز (Agricultural Cooperatives) قائم کر کے جدید طریقے سے زراعت کی جاتی ہے۔ ایسی تقریباً 270 سوسائٹیاں یا کبتزم ہیں، جو اسرائیل کی زرعی پیداوار کا 40 فیصد پیدا کرتی ہیں۔ اس لیے وہ حملہ صرف اسرائیلی علاقوں پر حملہ نہیں تھا بلکہ اسرائیلی معیشت پر بھی حملہ تھا۔ کبتزم میں زرعی فارمنگ کے ساتھ صنعتی زون بھی ہوتے ہیں، اس لیے وہ حملہ اسرائیل کی صنعت اور زراعت پر مشترکہ حملہ تھا۔ چونکہ کبتزم کی یہ پٹی غزه کی سرحدوں سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے دفاعی نقطۂ نگاہ سے وہاں فوجی چھاؤنی بھی قائم کی گئی تھی۔ جس رات حملہ ہوا، اس رات کئی اسرائیلی وہاں فیسٹیول (Festival) منانے آئے ہوئے تھے اور وہاں میوزیکل پروگرام چل رہا تھا۔ اس لیے حماس کے اس حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی مارے گئے اور جو باقی بچے، انہیں یرغمال بنا کر حماس کے گوریلے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ حماس کی طرف سے ہونے والا وہ حملہ اسرائیلیوں کے لیے اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ پورے اسرائیل کے ہوش اڑ گئے تھے۔ اس حملے کے بعد اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے جس درندگی سے غزه پر جوابی حملے کیے، ان حملوں نے وحشیانہ پن کے سب ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ اسرائیل کی طرف سے ہونے والے وہ حملے جو اکتوبر 2023ء سے شروع ہوئے تھے، وہ اکتوبر 2025ء تک جاری رہے اور ان دو سالوں میں اسرائیل نے تقریباً پورے غزه کو تباہ کر دیا۔ ایک اندازے کے مطابق 90 فیصد عمارتیں اور 80 فیصد زرعی زمین تباہ ہو چکی ہے۔ 72,000 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں اور جنگ کے دوران زخمیوں کی تعداد 1,69,000 بتائی جاتی ہے۔ 60 فیصد آبادی مستقل طور پر بے گھر ہو چکی ہے، جو کھلے آسمان تلے رہتی ہے۔ غزه کا 53 فیصد علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں چلا گیا ہے۔
نیتن یاہو نے اتنی بے دردی سے غزه کے فلسطینیوں کو کچلا کہ معصوم بچوں اور عورتوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ یہاں تک کہ جنگ کے دوران زخمی ہونے والے مریض بھی اسرائیلی حملوں سے نہ بچ سکے۔ شہری آبادیوں اور گھروں سمیت اسکولوں اور ہسپتالوں پر بھی بم برسائے گئے۔ معصوم بچوں اور بیماروں کے قتلِ عام کے باعث اسرائیل، دنیا بھر میں نفرت کی علامت بن گیا اور جب ستمبر 2025ء میں نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کی کوشش کی تو تقریباً 77 ممالک نے اس خطاب کا بائیکاٹ کیا۔ وہ بائیکاٹ اسرائیل اور نیتن یاہو سے شدید نفرت کا اظہار تھا۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اس جنگ کا اصل سبب کیا تھا؟
اصل میں اس جنگ کی شروعات اس وقت ہوئی تھی، جب دسمبر 1987ء میں یاسر عرفات نے پی-ایل-او (PLO) کے پلیٹ فارم سے ‘انتفاضہ’ (Intifada) کا اعلان کیا تھا۔ انتفاضہ کا اگر سادہ لفظوں میں ترجمہ کیا جائے تو انتفاضہ کا مطلب ہے مزاحمت۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی شروعات۔ مزاحمت، ہتھیار بند جنگ سے جنم لیتی ہے۔ یاسر عرفات نے مزاحمت کی بات تو کی تھی لیکن اسرائیل کے خلاف ہتھیار بند کارروائیاں نہ کر سکے تھے۔ کیونکہ وہ بچارے عدمِ تشدد کے حامی تھے۔ اس لیے انہوں نے گاندھی کی طرح مزاحمت کے پرامن طریقے اختیار کیے۔ البتہ انتفاضہ کی اس مزاحمتی تحریک سے حماس نے جنم لیا تھا اور اسرائیل کے خلاف ہتھیار بند کارروائیوں کی شروعات کی تھی۔ حماس پر لکھنے سے پہلے یاسر عرفات کے عدمِ تشدد پر لکھنا ضروری ہے۔ یاسر عرفات کا عدمِ تشدد اس معنی میں سمجھ میں آتا ہے کہ یاسر عرفات کی آواز میں طاقت تھی، جو آواز امریکہ کے عالمی ایوانوں تک سنی جاتی تھی۔ عالمی ایوانوں میں مؤثر ہونے کی وجہ سے عرفات کی آواز اسرائیل پر بھی اثر انداز ہوتی تھی۔ اس لیے اوسلو معاہدے (Oslo Accords) کے ذریعے یاسر عرفات اسرائیل سے فلسطین کی محدود خودمختار حکومت تسلیم کرا گئے تھے۔ لیکن سندھ کے وہ قوم پرست جن کا ‘وَٹی’ (گھر کے کِچن کا ایک برتن جس کو سندھی میں ‘وَٹی’ بولتے ہیں) پر بھی نام نہیں، جن کی آواز کو عالمی ایوان تو دور کی بات ہے لیکن اسلام آباد کے ایوانوں میں بھی نہیں سنا جاتا اور جن سے وفاقی حکومت تو چھوڑیے لیکن سندھ کی حکومت بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں، وہ کن بنیادوں پر دعویٰ کرتے ہیں کہ عدمِ تشدد کی بنیاد پر سندھ کے وجود کو بچا لیں گے اور سندھ کی آزادی حاصل کر سکیں گے…..!!؟؟ عدمِ تشدد کے ذریعے تو صرف خیرات ملتی ہے۔ یاسر عرفات کو بھی خیرات ملی تھی۔ اوسلو معاہدے کے تحت مشرقی یروشلم پر پی-ایل-او کی اتھارٹی تسلیم کی گئی تھی لیکن عملی طور پر مشرقی یروشلم فلسطینی حکومت کے حوالے نہیں کیا گیا تھا۔ عملی طور پر مشرقی یروشلم اسرائیل کے قبضے میں رہا تھا اور آج بھی اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ خیرات میں علاقے نہیں دیے جاتے بلکہ خیرات میں صرف کاغذ پر اتھارٹی لکھ کر ہاتھ میں دی جاتی ہے کہ اب اس اتھارٹی کو چاٹا جائے۔ وہی کاغذی خیرات یاسر عرفات کو ملی تھی۔ جس خیرات کو لے کر یاسر عرفات چپ ہو گئے تھے لیکن حماس چپ نہیں ہوئی تھی۔ جب تک یاسر عرفات زندہ رہے حماس، پی-ایل-او کا حصہ رہی۔ یاسر عرفات کی وفات کے بعد جب سال 2006ء میں الیکشن ہوئے تو حماس، پی-ایل-او سے الگ ہو گئی تھی۔ سال 2007ء میں حماس نے غزه پر اپنی خودمختار حکومت قائم کی۔ غزه پر حماس کی حکومت قائم ہونے کے بعد اسرائیل نے غزه کی سرحدوں کی ناکہ بندی کر دی تھی۔
جب 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کیا گیا تو اس کے لیے جواز یہ پیش کیا گیا کہ چونکہ اسرائیل کی طرف سے غزه کی سرحدوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی، اس لیے اس ناکہ بندی کے جواب میں ہم نے اسرائیل پر حملہ کیا ہے۔ دنیا حیران ہے کہ اسرائیل نے ناکہ بندی تو سال 2007ء میں کی تھی لیکن 15 سال گزر جانے کے بعد حماس کو اچانک اسرائیل کی ناکہ بندی کیسے یاد آئی ہے؟
اسرائیل پر حملے کا دوسرا جواز جو حماس کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، وہ یہ تھا کہ مسجدِ اقصیٰ پر اسرائیل قبضہ کیے بیٹھا ہے۔ اسی لیے مسجدِ اقصیٰ پر اسرائیلی قبضے کے خلاف اس حملے کو "آپریشن الاقصیٰ فلڈ (Operation Al Aqsa Flood)” کا نام دیا گیا تھا۔
اسرائیل کا مسجدِ اقصیٰ پر قبضہ کوئی آج کل کا نہیں ہے بلکہ یہ قبضہ تو سال 1967ء سے لے کر برقرار ہے۔ انتفاضہ سے لے کر اگر گنتی کی جائے تو حماس کی عمر 39 سال بنتی ہے۔ مسجدِ اقصیٰ پر قبضے کی جنگ، اس وقت شروع ہونی چاہیے تھی، جب حماس وجود میں آئی تھی یا اس وقت شروع ہونی چاہیے تھی، جب اسرائیل نے مشرقی یروشلم کا قبضہ فلسطینی حکومت کو نہیں دیا تھا۔ اوسلو معاہدے کو بھی 30 سال گزر چکے ہیں۔ ان 30 سالوں کے بعد آپریشن الاقصیٰ شروع کرنا خود حماس اور دنیا کے لیے سوالیہ نشان ضرور بنا ہوا ہے۔ بہرحال اگر حماس دعویٰ کرتی ہے تو وہ حماس کی مرضی، لیکن دنیا پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حماس کی طرف سے اسرائیل پر ہونے والے حملے کا فوری سبب وہ اقتصادی راہداری ہے، جس کا منصوبہ جی-20 کے ممالک نے تیار کیا تھا۔ یہ منصوبہ چونکہ چین کے مفادات کے خلاف تھا، اس لیے قوی امکانات یہ ہیں کہ چین نے حماس کو تیار کر کے اسرائیلی سرحدوں پر حملہ کرایا تھا اور یہ حملہ اس وقت کرایا گیا تھا جب اسرائیل، حیفہ بندرگاہ کو بین الاقوامی بندرگاہ بنانے کے لیے ترقیاتی کام کا ٹھیکہ دے چکا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ حیفہ بندرگاہ کا ترقیاتی کام رولڑے (تعطل) کا شکار ہو جائے اور حیفہ بین الاقوامی بندرگاہ نہ بن سکے۔
اسرائیل کے خلاف ہونے والی جنگ، حماس اور اسرائیل کے بیچ میں ہو یا ایران اور اسرائیل کے بیچ میں ہو، اس جنگ سے فائدہ صرف اور صرف چین کو ہوا ہے۔ کیونکہ امریکہ کی طرف سے پیش کیا گیا اقتصادی راہداری کا منصوبہ بری طرح تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس اس جنگ سے نقصان غزه اور ایران کا ہوا ہے۔ کمایا چین نے، گنوایا حماس اور ایران نے۔ غزه مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور ایران کو شدید فوجی اور معاشی نقصان پہنچا ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ اسرائیل جب غزه پر بم برسا رہا تھا تو چین نے حماس کی ٹکے کی بھی مدد نہیں کی بلکہ غزه کو بری طرح تباہ ہونے دیا۔ اصولاً چین کو غزه کی مدد کے لیے اسرائیل پر حملہ کرنا چاہیے تھا لیکن چین نے اسرائیل پر حملہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ امریکہ کھلے عام اسرائیل کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس لیے چین، اسرائیل پر حملہ کر کے امریکہ سے سینگ لڑانا (مقابلہ کرنا) نہیں چاہتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں چین، عالمی جنگ سے گریز کر رہا تھا۔ یہاں ایک بات بالکل صاف طور پر واضح ہوتی ہے کہ سندھ اور بلوچستان سمیت دنیا میں چلنے والی جو بھی تحریکیں ہیں، وہ کم از کم چین کا آسرا نہ کریں۔ ان تحریکوں کو جو بھی جنگ لڑنی ہے، اپنے بل بوتے پر لڑیں۔ کیونکہ چین اپنے اتحادیوں کی مدد کرنے کے بجائے اپنے دفاع کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ اس لیے جنہوں نے بھی چین کا آسرا کیا، وہ غزه سے زیادہ تباہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
مطلب یہ کہ ایک تو اس جنگ میں چین نے اندرونی طور پر حماس کی مدد کی تھی، دوسرا یہ کہ چین سے بھی زیادہ حماس کی مدد شام اور ایران کے ممالک نے کی تھی۔ اسی لیے امریکہ کا عتاب شام اور ایران پر زیادہ پڑا تھا۔
حماس اور شام:
حماس اور شام کے تعلقات کافی پرانے رہے ہیں۔ حافظ الاسد کے دور میں دمشق کے اندر حماس نے اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کیا تھا۔ حافظ الاسد کے بعد بشار الاسد کے دور میں بھی شام کے اندر حماس کا ہیڈ کوارٹر قائم رہا۔ کسی بھی ملک میں اڈے قائم کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ ملک آپ کو فوجی مدد، جنگی تربیت اور ہتھیار دے رہا ہے۔ شام کی حکومت چونکہ شروع سے لے کر اسرائیل کی مخالف رہی ہے، اس لیے حافظ الاسد اور بشار الاسد کے دور میں حماس کو ہر قسم کی فوجی تربیت اور اسلحے کی مدد ملتی رہی تھی۔ لیکن وہ تعلقات سال 2012ء میں تب خراب ہوئے تھے، جب شام کے باغی گروپوں نے سال 2011ء میں بشار الاسد کے خلاف لڑائی شروع کی تھی۔ اس وقت حماس نے بشار الاسد کے بجائے کچھ باغی گروپوں کی مدد کی تھی۔ جس کی وجہ سے حماس اور بشار الاسد کے بیچ تعلقات خراب ہو گئے تھے۔ لیکن حماس نے سال 2023ء میں اسرائیل پر حملہ کرنے سے پہلے بشار الاسد سے تعلقات کی تجدید کر لی تھی۔ اس لیے جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا تو اس میں شامی حکومت کی مدد بھی شامل تھی۔
چونکہ بشار الاسد، روس کے بہت قریبی اتحادی رہے ہیں، اس لیے حماس کے بھی روس کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں اور حماس کی قیادت نے کافی دفعہ روس کے دورے بھی کیے تھے۔ جہاں دنیا کے دیگر ممالک نے حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا، وہاں روس نے حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔ بشار الاسد اور حماس کے بیچ تعلقات کی تجدید کرانے میں بھی روس کا ہاتھ تھا۔ ایک اور اہم نقطہ یہ ہے کہ شام میں جہاں حماس کے اڈے قائم تھے، وہاں حزب اللہ کے اڈے بھی قائم تھے۔ حالانکہ حزب اللہ، ایران کی حمایت یافتہ تنظیم ہے۔ حزب اللہ کا ہیڈ کوارٹر تو لبنان میں ہے لیکن اس کی عملی قیادت ایران کرتا ہے۔ چونکہ شام میں دونوں حماس اور حزب اللہ کے اڈے شامل تھے، اس لیے دونوں تنظیموں کے بیچ ایک ورکنگ ریلیشن شپ بھی تھا۔ حماس اور حزب اللہ دونوں کا مقصد چونکہ اسرائیل کے خلاف ہتھیار بند لڑائی کرنا تھا اور دونوں تنظیموں کو اس لڑائی میں ایران کے ساتھ شام کی حمایت بھی حاصل تھی، اس لیے اس سچ سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اکتوبر 2023ء میں جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا تو اس وقت اس کے پیچھے حزب اللہ، ایران, شام، روس اور چین جیسی طاقتیں موجود تھیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب اسرائیل نے غزه پر جوابی حملہ کیا تھا تو حماس کے ساتھ کوئی بھی قوت نہیں کھڑی تھی اور حماس کو یہ پوری جنگ اکیلے لڑنی پڑی تھی۔ حماس کے ساتھ کھڑے ہو کر اسرائیل پر کسی نے بھی حملہ اس لیے نہیں کیا تھا کیونکہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کھڑا تھا اور امریکہ سے کوئی بھی مقابلہ کرنا نہیں چاہتا تھا۔
اگرچہ امریکہ سے کسی نے مقابلہ نہیں کیا لیکن امریکہ نے پھر بھی اسرائیل مخالف قوتوں کو ٹارگٹ بنایا۔ روس اور چین تو سپر پاور تھے، اس لیے امریکہ، چین اور روس کے سامنے نہیں آیا البتہ امریکہ نے شام اور ایران دونوں کو اپنا ہدف بنایا۔ شام کو ہدف بناتے وقت امریکہ یا اسرائیل نے شام پر سیدھا حملہ تو نہیں کیا لیکن بشار الاسد کے خلاف باغی گروپوں کی پشت پناہی کی۔ کیونکہ سال 2011ء میں شام کے اندر بشار الاسد کے خلاف بغاوت ہو چکی تھی، جس بغاوت کے نتیجے میں باغیوں نے کافی علاقوں پر قبضہ کیا تھا لیکن روس نے اس بغاوت کو کچل کر ایک دفعہ پھر بشار الاسد کی اتھارٹی پورے شام پر قائم کی تھی۔ البتہ جب سال 2024ء میں وہی بغاوت دوبارہ ابھری اور باغیوں نے شام کے مختلف علاقوں پر قبضے کرنے شروع کیے تو روس، بشار الاسد کی مدد کے لیے نہیں آیا کیونکہ اس وقت امریکہ باغیوں کے پیچھے موجود تھا اور روس، امریکہ سے لڑنا نہیں چاہتا تھا۔ جب اسرائیل نے غزه پر حملہ کیا تو چین پیچھے ہٹ گیا تھا اور جب امریکہ نے شامی باغیوں کی مدد کی تو روس پیچھے ہٹ گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اور روس، یہ دونوں قوتیں عالمی جنگ سے کتراتی ہیں۔ جب روس، بشار الاسد کی مدد کے لیے نہیں آیا تو نتیجے کے طور پر ایک مہینے کے اندر بشار الاسد کی حکومت شام سے ختم ہو گئی۔ شام میں موجود حماس اور حزب اللہ کے اڈے بند ہو گئے اور دونوں قوتوں کے لوگوں کو شام سے نکلنا پڑا۔
2. ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ کا پیش منظر:
اپریل 2024ء تک ایران کی طرف سے اسرائیل پر کوئی بھی سیدھا حملہ نہیں ہوا تھا۔ اس پورے عرصے میں حماس اور حزب اللہ، اسرائیل سے لڑتی رہیں۔ چونکہ ایران کو حماس اور حزب اللہ کی بھرپور حمایت حاصل تھی، اس لیے یہ ایران کی اسرائیل کے خلاف بالواسطہ (ان ڈائریکٹ) جنگ کہی جا سکتی ہے۔ اس بالواسطہ جنگ کے جواب میں اسرائیل نے 1 اپریل 2024ء کو دمشق میں موجود ایرانی سفارت خانے پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے کے جواب میں ایران نے سیدھے طور پر اسرائیل پر حملہ کیا تھا اور سینکڑوں کی تعداد میں میزائل اور ڈرونز فائر کیے تھے۔ ایسے وقت میں جب اسرائیل غزه سے لڑ رہا تھا اور امریکہ کے خوف سے کوئی بھی ملک اسرائیل پر حملہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، اس وقت ایران کا اسرائیل پر یہ سیدھا حملہ یقیناً بہادری اور جرات کا اظہار تھا۔ جب ایران نے حملہ کیا تو جواب میں اسرائیل نے بھی حملہ کیا تھا، نتیجے کے طور پر کچھ وقت کے لیے دونوں ممالک کی طرف سے ایک دوسرے پر میزائل فائر ہوتے رہے اور پھر وہ جھڑپیں بند ہو گئی تھیں۔
ایران پر جون 2025ء میں دوسرا حملہ اس وقت ہوا جب شام کے اندر بشار الاسد کا تختہ الٹ چکا تھا۔ بشار الاسد کا تختہ الٹنے میں چونکہ شام کے باغی گروپوں کا کردار تھا، اس لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ خیال تھا کہ اگر ایران کے باغی گروپوں کو متحرک کیا جائے تو ایران کی موجودہ حکومت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جون 2025ء میں ایران سے جنگ شروع کرنے کے فوراً بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر یہ بیان جاری کیا تھا کہ:
"If the current Iranian Regime is unable to MAKE IRAN GREAT AGAIN, why wouldn’t there be a regime change? MIGA!!!”
ترجمہ:
"اگر موجودہ حکومت ایران کو دوبارہ عظیم نہیں بنا سکتی تو پھر کیوں نہ اس حکومت کو تبدیل ہونا چاہیے؟”
یہ بیان جاری کرنے کے بعد ٹرمپ نے ایک نعرہ دیا تھا، MIGA۔ جس کا مطلب تھا "Make Iran Great Again” (ایران کو پھر سے عظیم بناؤ)۔
دنیا کو معلوم ہے کہ ایران میں خامنہ ای حکومت سے پہلے شہنشاہیت قائم تھی اور ایران پر پہلوی خاندان کا راج تھا۔ ایران کو ایک دفعہ پھر گریٹ (عظیم) بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ایران پر دوبارہ پہلوی خاندان کا راج قائم کیا جائے۔ ایران میں شہنشاہیت ختم ہونے کے بعد پہلوی خاندان نے امریکہ میں پناہ لی تھی۔ جس وقت ٹرمپ اس قسم کے بیان دے رہا تھا تو اس وقت بھی پہلوی شہزادہ رضا پہلوی امریکہ میں موجود تھا۔ ٹرمپ نے سرکاری طور پر تو رضا پہلوی کو ایران کا حکمران مقرر نہیں کیا لیکن ٹرمپ کے اس بیان کے بعد رضا پہلوی نے میڈیا کو جو انٹرویو دیے، ان میں انہوں نے کہا کہ ایران کے اندر ملاں رجیم اپنے خاتمے کے قریب ہے۔ میں ایران میں ایک سیکولر اور جمہوری حکومت کا حامی ہوں اور میرا مقصد شہنشاہیت قائم کرنا نہیں۔ انہوں نے فوج، پولیس اور ریاستی اہلکاروں کو کہا کہ وہ بغاوت کریں اور حکومت مخالف تحریک کا ساتھ دیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے لوگ اسرائیل اور امریکہ کے مخالف نہیں ہیں بلکہ وہ چند ملاں ہیں، جو اسرائیل اور امریکہ کی مخالفت کرتے ہیں۔
ٹرمپ اور رضا پہلوی نے ملاؤں کی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش تو کی لیکن ناکام ہو گئے۔ طاقت بذاتِ خود ایک نشہ ہے۔ امریکہ دنیا کی سپر طاقت ہے، اس لیے ٹرمپ کو غرور تھا کہ وہ طاقت کے زور پر ایران میں رجیم چینج (حکومت کی تبدیلی) کر جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ کچھ فیصلے تاریخ کرتی ہے۔ تاریخ کے سامنے فرد کا اختیار محدود ہوتا ہے۔ اس لیے افراد اپنی پوری طاقت کے باوجود ناکام ہو جاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ایران میں یہ ملاں رجیم 47 سالوں سے قائم ہے اور 47 سالوں سے چلنے والا نظام ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح بدبودار ہو جاتا ہے۔ ایران کے لوگ اس ملاں راج سے بیزار بھی ہیں اور کافی دفعہ اس راج کے خلاف تحریکیں بھی چل چکی ہیں۔ لیکن تحریکیں صرف اس وقت کامیاب ہوتی ہیں، جب ان کے پاس ایسی مضبوط متبادل قیادت ہو، جو نظام سنبھال سکے۔ ایران کے لوگ رضا پہلوی کی قیادت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور دوسری کوئی ایسی متبادل قوت ایران میں موجود نہیں ہے، جو حکومت مخالف تحریک کی قیادت کر سکے۔ اس لیے بغیر متبادل قیادت کے امریکہ تو کیا لیکن کسی کے لیے بھی رجیم تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے۔ امریکہ کی ناکامی کا دوسرا سبب یہ ہے کہ ایران کے لوگ امریکہ اور اسرائیل سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے جب امریکہ سے لڑائی کی بات آتی ہے تو ایران کے لوگ ملاں راج سے سینکڑوں اختلافات کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ان ہی ملاؤں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جب امریکہ کو ایران میں متبادل قیادت اور عوامی ساتھ نہ ملا تو اسے جنگ بند کرنی پڑی اور رجیم تبدیل کرنے والے ایجنڈے کو پیچھے ہٹانا پڑا۔ جون 2025ء میں ایران سے شروع ہونے والی جنگ صرف 12 دن چلی تھی اور 12 دن کے بعد ٹرمپ اس جنگ سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔
12 دن کی اس جنگ میں بھی 10 دن جنگ اسرائیل نے لڑی تھی اور صرف آخری دو دن امریکہ اس جنگ میں شریک ہوا تھا۔ جون 2025ء والی جنگ کا فوری سبب یہ تھا کہ حماس اور حزب اللہ اسرائیل کے خلاف جنگی کارروائیاں کر رہی تھیں۔ حماس غزه میں اسرائیل سے لڑ رہی تھی اور حزب اللہ لبنان کی سرحدوں پر اسرائیل پر حملے کر رہی تھی اور ان دونوں تنظیموں کو ایران کی حمایت حاصل تھی۔ ان تنظیموں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ضروری تھا کہ ایران کی فوجی قوت پر وار کیا جائے۔ اس لیے 13 جون کو اسرائیل نے اچانک ایران پر حملہ کر دیا تھا۔ دراصل وہ حملہ ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ تھا۔ جوہری پروگرام کے علاوہ اسرائیل کی طرف سے ایران کے میزائل بیسز اور ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ 12 دن کی جنگ میں اسرائیل نے ایران کے 10 اہم فوجی کمانڈر اور 16 سائنسدان مار دیے تھے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایران کے 30 سائنسدان مارے تھے، جبکہ عالمی میڈیا کے اداروں کا کہنا ہے کہ ایران کے 20 سائنسدان مارے گئے تھے۔ کیونکہ وہ سائنسدان ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے وابستہ تھے۔ امریکہ کا خیال تھا کہ اسرائیل، ایران کے لیے کافی ہے اور ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ لیکن جب ایران نے اسرائیل پر جوابی کارروائیاں کیں اور اسرائیل کو شدید نقصان پہنچایا تو امریکہ نے یہ محسوس کر لیا کہ ایران کو شکست دینا اسرائیل کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس لیے امریکہ سیدھے طور پر خود جنگ میں شامل ہو گیا اور 22 جون 2025ء کو اس نے ایران کے تین نیوکلیئر بیسز پر حملے کیے تھے۔ امریکی حملوں کے بعد یہ اندازہ تھا کہ وہ جنگ ابھی مزید شدت اختیار کرے گی لیکن 24 جون کو امریکہ نے اچانک جنگ بندی کا اعلان کر دیا اور جنگ بندی کے اعلان کے بعد ٹرمپ خود کو امن کا چیمپئن ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ 22 جون والے حملے کے بعد ٹرمپ کو یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ ایک دو حملوں سے ایران کی نیوکلیئر قوت کو تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کی ایٹمی قوت کو تباہ کرنے کے لیے ایک لمبی جنگ کی ضرورت تھی اور امریکہ لمبی جنگ کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ ہم پہلے بھی یہ جائزہ لیتے رہے ہیں کہ امریکہ کی اقتصادی پوزیش کمزور ہے اور کمزور اقتصادی پوزیشن میں لمبی جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ کیونکہ جنگ بے تحاشا خرچ مانگتی ہے اور اکثر جنگی اخراجات ملکی بجٹ پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ 22 جون والے حملے میں ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کے افزودہ (Enriched) یورینیم کے ذخائر تباہ کر دیے ہیں۔ جو دعویٰ جھوٹا اور غلط ثابت ہوا ہے کیونکہ اگر امریکہ کا افزودہ یورینیم کو تباہ کرنے والا دعویٰ درست ہوتا تو امریکہ کبھی بھی یہ مطالبہ نہ کرتا کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر امریکہ کے حوالے کرے۔ امریکہ کی طرف سے بار بار یہ مطالبہ کرنا کہ ایران افزودہ یورینیم کے ذخائر امریکہ کے حوالے کرے، یہ ثابت کرتا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر محفوظ ہیں اور امریکہ ان ذخائر کو تباہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔
جون 2025ء میں امریکہ کی طرف سے ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد ایران نے فوراً دو کام کیے تھے۔ ایک یہ کہ قطر میں موجود امریکہ کے فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا۔ کیونکہ قطر میں موجود اڈا مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈا ہے۔ دوسرا کام یہ کیا تھا کہ ایرانی پارلیمنٹ نے آئی-اے-ای-اے (IAEA – انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی) کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی کچھ شقیں رد کر دی تھیں۔ وہ شقیں رد ہونے کے بعد یہ واضح تھا کہ ایران اپنی جوہری توانائی بڑھانے سے متعلق بین الاقوامی پابندیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایران کے ان اقدامات کے بعد امریکی انتظامیہ کی مسلسل یہ کوشش رہی کہ ایران، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے وفود کو اپنی جوہری توانائی کے اڈوں کا دورہ کرنے اور اپنے افزودہ یورینیم کو مانیٹر کرنے کی اجازت دے۔ لیکن ایران نے امریکہ کے ان مطالبات کو قبول کرنے کے لیے کوئی آمادگی نہ دکھائی۔
یاد رہے کہ سال 2015ء میں ایران کا جوہری توانائی سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مستقل ممبران امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا تھا۔ جس معاہدے میں سیکیورٹی کونسل کے مستقل ممبران کے علاوہ جرمنی بھی شامل ہوا تھا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایران کو پابند کیا جائے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ اس کے علاوہ ایران کو اس لیے بھی پابند کیا گیا تھا کہ وہ یورینیم کو 3.67 فیصد سے زیادہ افزودہ نہیں کرے گا اور افزودہ یورینیم کا بہت محدود اسٹاک اپنے پاس رکھے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کو یہ بھی کہا گیا تھا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی طرف سے بھیجی گئی انسپکشن ٹیمیں کسی بھی وقت ایران کے ایٹمی پلانٹ اور ایٹمی ذخائر کی جانچ کر سکتی ہیں اور ایران ان ٹیموں کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرے گا۔ ان پابندیوں کے عوض ایران پر لگی اقتصادی پابندیاں ہٹائی گئی تھیں اور اسے اجازت دی گئی تھی کہ وہ اپنا تیل دوسرے ممالک کو فروخت کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے جو عالمی بینکوں میں اثاثے منجمد (فریز) کیے گئے تھے، ان اثاثوں تک ایران کو رسائی بھی دی گئی تھی۔ وہ معاہدہ سال 2018ء تک چلتا رہا لیکن جب پہلی دفعہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بنے تھے تو امریکہ یہ کہہ کر اس معاہدے سے نکل گیا تھا کہ وہ معاہدہ نہ خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر کو روک سکا ہے اور نہ ہی ایران کے میزائل پروگرام پر اثر انداز ہو سکا ہے۔ اس لیے امریکہ نے سال 2018ء میں ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں لگا دی تھیں۔ جب ٹرمپ اس معاہدے سے نکل گئے تو پھر وہ معاہدہ زیادہ وقت برقرار نہ رہ سکا اور آگے چل کر سال 2025ء تک وہ معاہدہ مکمل طور پر غیر مؤثر ہو چکا تھا۔ اس لیے سال 2025ء میں ٹرمپ نے یہ دباؤ ڈالنا شروع کیا تھا کہ ایران نئے سرے سے معاہدہ کرے اور آئی-اے-ای-اے (IAEA) کی ٹیموں کو ایران کے ایٹمی پلانٹ اور افزودہ یورینیم کی نگرانی کرنے کی کھلی چھوٹ دے۔ امریکہ کو شک نہیں بلکہ یقین تھا کہ ایران، یورینیم افزودگی کی مقررہ حد 3.67 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
يورینیم افزودگی کے لیول کو سمجھنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ افزودہ یا رچایا ہوا یورینیم کیا ہے؟
یورینیم کی ابتدائی دو ایٹمی اقسام ہوتی ہیں، ایک U-238 اور دوسری U-235۔ ایٹم بم بنانے کے لیے جو ایٹمی قسم درکار ہوتی ہے، وہ U-235 ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ قدرتی طور پر یورینیم میں U-235 کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ یعنی ایک کلو گرام یورینیم میں U-235 کی مقدار صرف 0.07 گرام ہوتی ہے۔ یعنی یہ مقدار ایک گرام سے بھی کم ہوتی ہے، جبکہ U-238 کی مقدار 99.27 گرام ہوتی ہے۔ اب جب تک یورینیم میں U-235 کی مقدار نہ بڑھائی جائے، وہ یورینیم بیکار اور کسی کام کا نہیں ہوتا۔ اس لیے یورینیم کو استعمال کرنے کے لیے اس کے اندر U-235 کی مقدار بڑھائی جاتی ہے۔ جب یورینیم کے اندر U-235 کی مقدار بڑھائی جائے تو اس عمل کو یورینیم رچانا یا یورینیم کی افزائش (Enrichment) کہتے ہیں۔ جب افزائش شدہ یورینیم میں U-235 کی مقدار 0.07 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کر دی جائے تو وہ یورینیم قابلِ استعمال بن جاتا ہے اور ایسے یورینیم کو بجلی گھروں میں بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ 3 فیصد سے 5 فیصد تک افزودہ یورینیم بجلی گھروں میں استعمال ہوتا ہے۔ البتہ جب یورینیم میں U-235 کا لیول بڑھا کر 20 فیصد کر دیا جائے تو ایسا رچایا ہوا یورینیم سائنسی تحقیقات اور میڈیکل کے شعبے میں علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 20 فیصد تک رچائے ہوئے یورینیم کا استعمال اکثر کینسر کے علاج کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس لیے 3 فیصد سے لے کر 20 فیصد تک افزودہ یورینیم پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، کیونکہ ایسا یورینیم پرامن مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اعتراض اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی ملک 20 فیصد سے اوپر جاتا ہے۔ 20 فیصد کے بعد اگلا لیول 60 فیصد کا ہوتا ہے۔ جب کوئی بھی ملک اس لیول پر پہنچ جاتا ہے تو اس وقت خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو جاتی ہیں اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھونچال مچ جاتا ہے۔ کیونکہ جب یورینیم کا لیول 60 فیصد سے اوپر جانا شروع ہو تو پھر اس یورینیم سے ایٹمی ہتھیار بننے کی ابتدا ہوتی ہے۔ آگے چل کر جب یورینیم کی افزودگی کا لیول 90 فیصد تک پہنچ جاتا ہے تو پھر اس افزودہ یورینیم سے ایٹم بم بنتے ہیں۔ افزودہ یورینیم کا لیول 3، 20 اور 60 فیصد تک پہنچنا کافی حد تک دشوار مرحلہ ہوتا ہے، لیکن جب یہ لیول 60 فیصد تک پہنچ جاتا ہے تو باقی پھر 90 فیصد تک پہنچنے کا مرحلہ نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس لیے جو ملک یورینیم افزودگی کے 60 فیصد والے لیول پر پہنچ چکا ہو، اس ملک کے لیے پکی بات سمجھی جاتی ہے کہ وہ ایٹم بم بنائے گا۔ اس وقت ایران افزودگی کے 60 فیصد والے لیول پر پہنچ چکا ہے اور ایران کے پاس 60 فیصد لیول کے رچائے ہوئے یورینیم کے لگ بھگ 400 کلو گرام تک کے ذخائر موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی نیند اڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کے جو بھی فوجی اور سیاسی نمائندے بار بار مذاکرات کے لیے ایران بھاگے پھر رہے ہیں، ان کی ایرانی قیادت سے منت سماجت لگی ہوئی ہے کہ وہ اپنے رچائے ہوئے یورینیم کے ذخائر واشنگٹن کے حوالے کر دیں۔ پاکستان اس وقت امریکہ کے پاس اپنے نمبر بنانے میں مصروف ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار ایک ثالث سے زیادہ امریکہ کے آلہ کار والا ہے۔ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ایران افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے پر راضی ہو جائے۔ پاکستان اور امریکہ کی بھرپور کوششوں کے باوجود ایرانی قیادت کا ایک ہی جواب ہے کہ افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بہرحال، جون 2025ء میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امریکہ کی یہ بھرپور کوشش تھی کہ ایران پابندیاں قبول کرے۔ جس میں ایک تو وہ اپنی ایٹمی تنصیبات تک انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ماہرین کو رسائی دینے پر راضی ہو اور دوسرا یہ کہ جنگی ہتھیار بنانا بند کرے۔ لیکن ایران کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملنے کی وجہ سے آخر کار امریکہ کی جانب سے 28 فروری 2026ء کو ایران پر خطرناک حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے کی فوری وجوہات بتاتے ہوئے امریکہ نے کہا تھا کہ ہم نے جتنا وقت جنگ کو روکا، اس وقت کے دوران ایران نے اپنی فوجی قوت کو بڑھایا ہے۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ ایران ایک طرف افزودہ یورینیم کی مقدار بڑھا رہا ہے تو دوسری طرف اپنے میزائلوں کے ذخائر میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ ایران کو مزید مہلت دینے کے بجائے اس پر جنگ مسلط کی جائے۔ جبکہ ایران نے امریکہ کے اس موقف کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ کوئی جنگی تیاری نہیں کر رہا تھا بلکہ امریکی حملے کا اصل مقصد ایران کی موجودہ حکومت کو تبدیل کرنا تھا۔ ایرانی موقف اس لحاظ سے بھی درست لگتا ہے کہ 28 فروری کو امریکہ نے ایران پر جو حملہ کیا تھا، اس حملے میں امریکہ نے ایران کی سینئر قیادت کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں ایران کے سپریم کمانڈر علی خامنہ ای سمیت ایرانی قیادت کے 40 سینئر لیڈر مارے گئے تھے۔ جن میں پاسدارانِ انقلاب کے چیف کمانڈر، ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف، ڈیفنس منسٹر اور سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری شامل تھے۔ دوسرے لفظوں میں، اس حملے میں امریکہ نے ایران کی فرنٹ لائن کی تمام قیادت کو ختم کر دیا تھا۔ حملے کے بعد خود امریکی صدر ٹرمپ نے بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم ایران میں رجیم چینج کر چکے ہیں اور تمام اہم اور سینئر قیادت ماری جا چکی ہے۔ ایران کی فرنٹ لائن قیادت کے مارے جانے کے بعد امریکہ کا خیال تھا کہ آنے والی سیکنڈ لائن قیادت امریکہ کے آگے سرنڈر کرے گی اور امریکہ کی شرائط پر ہتھیار پھینک دے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد ایران کی سیکنڈ لائن قیادت، فرسٹ لائن قیادت سے بھی زیادہ جنگی ماہر ثابت ہوئی اور اس قیادت نے حملوں میں مزید شدت پیدا کر دی۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو جو مشترکہ حملہ کیا تھا، اس کے جواب میں ایران کی سیکنڈ لائن قیادت نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت پر حملے کر دیے تھے۔ ایران کا موقف یہ تھا کہ وہ عرب ممالک امریکہ کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ ان ممالک میں امریکہ کے فوجی اڈے موجود ہیں، جن اڈوں سے ایران پر حملے ہوئے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ان اڈوں کو تباہ کرنے کے لیے ہم بار بار حملے کریں گے۔ عرب ممالک کے علاوہ ایران نے اسرائیل پر بھی حملے کیے تھے۔ فرق یہ تھا کہ عرب ممالک پر حملوں کے وقت ایران نے شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا تھا، جبکہ اسرائیل پر حملوں میں ایران نے شہری آبادیوں کو بھی باقاعدہ نشانہ بنایا تھا۔ عرب ممالک میں عام لوگ اکا دکا مارے گئے تھے، جبکہ اسرائیل میں سویلین لوگ ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے تھے۔
ٹرمپ کا اندازہ تھا کہ جنگ زیادہ سے زیادہ 10 دن چلے گی اور دس دن کے اندر ہم ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے، لیکن ٹرمپ کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔ دس دن کے بجائے یہ جنگ 40 دن چلی اور اس 40 دن کی جنگ نے نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ کو بھی تھکا کر رکھ دیا ہے۔ تاریخ میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ طاقتور، کمزور سے مذاکرات اس وقت کرتا ہے جب وہ محسوس کر لیتا ہے کہ وہ کمزور کو شکست نہیں دے سکتا۔ طاقتور ریاستیں بھی اس وقت انقلابی تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتی ہیں جب انہیں یقین ہو جائے کہ وہ طاقت کے زور پر انقلابی قوتوں کو کچل نہیں سکتیں۔ جب دنیا کی کوئی سپر پاور کسی کمزور ملک کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آ کر بیٹھ جائے تو پکی بات سمجھیں کہ اسے جنگ جیتنے کا یقین نہیں ہے۔ امریکہ کا ایران سے مذاکرات کرنا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکہ جو مقاصد جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا، وہ مقاصد اب مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہوئے تھے۔ اسلام آباد چونکہ پاکستان کا دارالحکومت ہے، اس لیے پاکستان کا یہ دعویٰ ہے کہ مذاکرات کرانے میں پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی مرضی جو بھی بکواس کرنی ہو کرے، لیکن ثالث اور سہولت کار میں فرق ہوتا ہے۔ ثالث وہ ہوتا ہے جو پوری ایمانداری کے ساتھ دونوں فریقین کو بٹھا کر انہیں بات کرنے کا برابر موقع فراہم کرے، جبکہ سہولت کار کسی ایک فریق کی طرف داری کر کے دوسرے فریق پر باتیں مڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان کی یہ اوقات ہی نہیں ہے کہ امریکہ کو اس کی مرضی کے خلاف مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے راضی کر سکے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ مذاکرات امریکہ کی خواہش پر ہوئے تھے اور پاکستان کے فوجی و سیاسی سربراہوں نے ایران کو مذاکرات کی میز پر اس لیے لایا تھا تاکہ ایران سے امریکہ کا موقف منوایا جا سکے۔ جب مذاکرات کے دوران ایران نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان ثالث نہیں بلکہ امریکہ کا سہولت کار ہے اور امریکہ کا موقف ہم سے منوانا چاہتا ہے، تو مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں ایران آیا ہی نہیں اور نہ ہی پاکستان کی ہزار منت سماجت کے باوجود ایران کی طرف سے پاکستانی حکمرانوں کو کوئی جواب ملا۔
12 اور 13 اپریل کو جو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے تھے، ان مذاکرات میں امریکہ کی جانب سے یہ نکات رکھے گئے تھے:
1۔ ایران پروکسیز کی مدد کرنا بند کرے۔
2۔ ایران افزائش شدہ یورینیم کے ذخائر امریکہ کے حوالے کرے۔
3۔ ایران، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) والے راستے کا گھیراؤ ختم کر کے اسے تجارت کے لیے کھولے۔
افزودہ یورینیم والے نقطے پر تو ہم پہلے ہی اوپر تفصیل سے لکھ آئے ہیں۔ اب یہاں ہم پروکسیز والے نقطے اور آبنائے ہرمز پر ہونے والے جھگڑے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اصل میں دیکھنا یہ ہے کہ پروکسیز سے امریکہ کی کیا مراد ہے؟ پروکسیز سے امریکہ کی مراد وہ مسلح گروپ ہیں جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔ ویسے تو اس خطے میں ایران کے حمایت یافتہ کئی مسلح گروپ ہیں لیکن ان مسلح گروپوں میں سے اہم تنظیمیں دو ہیں، ایک حزب اللہ اور دوسری حماس۔
حزب اللہ:
حزب اللہ کا تنظیمی دائرہ لبنان میں ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد یہ تنظیم سال 1982ء میں بنی تھی اور شروعات سے ہی اس تنظیم کو ایران کی حمایت حاصل رہی ہے۔ حزب اللہ کا مقصد لبنان کے اندر ایرانی طرز پر اسلامی نظام قائم کرنا ہے۔ حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ ان کا وطن لبنان ہے لیکن ان کی وفاداریاں ایران کے امام خمینی کے ساتھ ہیں۔ حزب اللہ کے منشور کے دو اہم نکات ہیں، ایک مشرقِ وسطیٰ سے بیرونی اثر و رسوخ کو نکال باہر کرنا اور دوسرا اسرائیل کی مکمل تباہی۔ منشور کے ان نکات کی بنیاد پر حزب اللہ کافی وقت سے اسرائیل کے ساتھ برسرِ پیکار ہے۔ حزب اللہ کی اپنی باقاعدہ فوج ہونے کی وجہ سے لبنان کے اندر اس تنظیم کو متبادل ریاست سمجھا جاتا ہے، متبادل ریاست یعنی ریاست کے اندر ریاست۔
حماس:
حماس کے لیے ہم اوپر کہہ آئے ہیں کہ حماس کا جنم فلسطین کی سرزمین پر ہوا تھا اور اس وقت ہوا تھا جب یاسر عرفات نے انتفاضہ کی شروعات کی تھی۔ حماس کا ایران سے براہِ راست تو تعلق نہیں ہے لیکن چونکہ ایران اور حماس دونوں اسرائیل کے بدترین دشمن ہیں، اس لیے دونوں کے درمیان ایک ورکنگ ریلیشن شپ ضرور ہے۔ غزہ کی ماضی قریب میں ہونے والی جنگ میں ایران نے حماس کی بھرپور مدد کی تھی۔ اس مدد میں پیسوں سے لے کر جدید جنگی ہتھیار دینے تک ہر قسم کی مدد اور تعاون شامل تھا۔ ایران کے فوجی حماس کے ساتھ مل کر اسرائیل سے لڑے تو نہیں تھے لیکن حزب اللہ کے جنگجو حماس کے ساتھ مل کر اسرائیل سے ضرور لڑتے رہے ہیں۔
حزب اللہ اور حماس کے علاوہ عراق کے کچھ مسلح گروپ ہیں جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔ ان گروپوں میں سے تین گروپ عصائب اہل الحق، کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء ہیں۔ عصائب اہل الحق اور کتائب حزب اللہ وہ گروپ ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکہ کے فوجی اڈوں اور امریکی سفارت خانوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ اس لیے امریکہ ان دونوں گروپوں کا سخت مخالف رہا ہے۔ حرکت النجباء وہ تنظیم ہے جس کا تنظیمی دائرہ عراق کے علاوہ شام میں بھی ہے۔
اس کے علاوہ یمن میں انصار اللہ گروپ ہے، جنہیں عام طور پر حوثی باغی کہا جاتا ہے، اس تنظیم کو بھی ایران کی طرف سے بھرپور مدد اور تعاون ملتا رہا ہے۔ امریکہ کو شدید اعتراضات ہیں کہ اگر ان گروپوں کو نہ روکا گیا تو وہ اپنا دائرہ پورے مشرقِ وسطیٰ تک بڑھا سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا اور یہ گروپ پورے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا دائرہ بڑھا گئے تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی اتحادی ریاستوں کے لیے شدید خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ اس لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت امریکہ کی تمام اتحادی ریاستوں کا اصرار ہے کہ ان تنظیموں کے بڑھتے ہوئے اثر کو فوراً روکا جائے۔ فی الحال تو یہ مسلح گروپ اسرائیل پر حملے نہیں کرتے لیکن اگر یہ اپنا تنظیمی دائرہ بڑھا گئے تو اسرائیل کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
امریکہ کا یہ مطالبہ ہے کہ ایران ان مسلح تنظیموں کی حمایت ختم کرے اور ان کا قلع قمع کرنے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کرے۔ یہی وجہ ہے جو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ نے یہ نقطہ سرِ فہرست رکھا تھا کہ ایران پروکسیز کی مدد کرنا بند کرے۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو یہ ناممکن نظر آ رہا ہے کہ ایران اپنی بنائی ہوئی تنظیموں کی مدد کرنا بند کر دے گا یا انہیں اسرائیل پر حملے کرنے سے روک دے گا۔ یہ صرف اس وقت ممکن ہو سکتا ہے جب امریکہ ایران کو مکمل شکست دے جائے یا ایران میں ایسی حکومت قائم کرے جو امریکہ کے اشاروں پر چلتی ہو۔ کم از کم ایران کی موجودہ حکومت تو امریکہ کی ایسی خواہشات پر ہرگز بھی چلنے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں چلنے والے مذاکرات امریکہ کے ان بے تکے مطالبوں کی وجہ سے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے تھے۔
آبنائے ہرمز:
آبنائے ہرمز ایک آبی گزرگاہ ہے جو خلیج فارس اور خلیج عمان کو آپس میں ملاتی ہے۔ خلیج فارس اور خلیج عمان پر جتنے بھی ممالک ہیں، ان کے تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عرب تک پہنچتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو خلیج فارس اور خلیج عمان پر موجود ممالک کے بحری جہاز رک جائیں گے اور ان ممالک کے دنیا کے ساتھ تجارتی رابطے ٹوٹ جائیں گے۔ کیونکہ عربوں کے تیل سے بھرے ہوئے جہاز، جنہیں آئل ٹینکر کہا جاتا ہے، وہ آئل ٹینکر آبنائے ہرمز کی گزرگاہ کے ذریعے ہی دنیا میں جاتے ہیں۔ دنیا کو سپلائی ہونے والا 20 فیصد تیل عرب ممالک سے جاتا ہے جو آبنائے ہرمز کی اسی راہداری سے گزرتا ہے اور اس وقت ایران نے آبنائے ہرمز کی اس گزرگاہ کو بند کر دیا ہے۔
جب 28 فروری کو امریکہ نے ایران کے اوپر حملہ کیا تھا، جس حملے میں ایران کے سپریم کمانڈر سمیت ان کی دوسری اہم لیڈرشپ ماری گئی تھی۔ اس حملے کے جواب میں ایران نے دو کام کیے تھے۔ ایک یہ کہ ایران نے امریکہ کے اتحادی عرب ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور دیگر پر جوابی حملے کیے تھے اور دوسرا کام یہ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا، جس کا باضابطہ اعلان اس نے 2 مارچ 2026ء کو کیا تھا۔
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کا راستہ بند کرنے کے بعد امریکہ نے ایک طرف اپنے اتحادی ممالک برطانیہ، فرانس، جنوبی کوریا اور جاپان سے اپیل کی تھی کہ وہ ممالک شپنگ روٹ کھلوانے میں امریکہ کی مدد کریں تو دوسری طرف اس نے ایران پر حملے کرنا شروع کر دیے تھے۔ جس کے جواب میں ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عرب ریاستوں سمیت اسرائیل پر حملے کرنا شروع کر دیے تھے۔ ایران کی طرف سے جو عرب ریاستوں پر حملے کیے گئے تھے، ان میں اس نے امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ اس نے اسرائیل پر جو حملے کیے تھے، ان میں اس نے اسرائیل کے شہروں کو نشانہ بنایا تھا۔ وہ جنگ 40 دن چلی اور ان 40 دنوں میں ایران نے اسرائیلی شہروں حیفہ اور تل ابیب کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس جنگ میں یقیناً ایران کا بھی نقصان ہوا ہوگا لیکن 40 دن کی اس جنگ میں امریکہ نہ ایران کے اندر رجیم چینج کر سکا ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی گزرگاہ کو ایران کے کنٹرول سے آزاد کرا سکا ہے۔ اس کے برعکس ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں اور یہ وارننگ جاری کر دی ہے کہ جو بھی جہاز ایران کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرے گا، وہ بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے راستے سے صرف وہی جہاز گزر سکتے ہیں جو ہماری اجازت سے کراس کریں اور سلامتی کے ساتھ کھلے سمندر میں پہنچ سکیں۔
یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ بات صرف آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی نہیں ہے، بلکہ سب سے اہم یہ ہے کہ اتنے سالوں کی معاشی پابندیوں کے باوجود ایران اتنا اسلحہ، جدید میزائل اور ڈرونز لایا کہاں سے، جو لگاتار اور بغیر کسی وقفے کے 40 دن جنگ لڑتا رہا؟
بہرحال، ایران کی طرف سے اتنے بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور اسلحے کے بعد اس سوال کا ذہن میں آنا لازمی ہے کہ کیا کچھ ایسے ممالک ہیں جو ایران کی مدد کرتے ہیں اور امریکہ کے خلاف اسے اسلحہ سپلائی کرتے ہیں؟ یہ بات ٹرمپ بھی سمجھ رہا تھا لیکن چپ تھا اور چپ رہتے رہتے آخر کار پھٹ پڑا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ چین ایران کو اسلحہ سپلائی کر رہا ہے اور اگر چین نے ایران کی مدد بند نہ کی تو اس کے نتائج چین کو بھگتنا پڑیں گے۔ اب جب تک چین نتائج بھگتے، تب تک امریکہ کے لیے جنگ جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے 8 اپریل 2026ء کو ٹرمپ نے عارضی جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ 8 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان ہوا اور 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہوئے۔ 12 اپریل کو مذاکرات ناکام ہو گئے۔ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ ٹرمپ عارضی جنگ بندی ختم کر کے ایران پر دوبارہ حملہ کرے گا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرنے کے بجائے اپنی طرف سے یکطرفہ جنگ بندی میں توسیع کر دی۔ جنگ بندی میں توسیع کرنا اس طرف اشارہ تھا کہ امریکہ مزید جنگ کرنے کی پوزیش میں نہیں ہے۔ ہم پہلے بھی کہہ آئے ہیں کہ امریکہ اقتصادی طور پر اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ جنگی اخراجات برداشت کرنا اس کے بس میں نہیں رہا۔ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو ناکام ہوئے بھی لگ بھگ دو مہینے ہونے والے ہیں، لیکن ان دو مہینوں کے عرصے میں نہ ایران مذاکرات کی میز پر آتا ہے، نہ آبنائے ہرمز کی گزرگاہ کھولتا ہے اور نہ ہی یورینیم کے ذخائر امریکہ کو دینے پر آمادگی ظاہر کرتا ہے، بلکہ ایران ہر معاملے پر انکار کیے ہوئے ہے۔ ایران کی اس ضد کے باوجود امریکہ میں یہ جرات نہیں ہے کہ وہ ایران پر حملے کرنے کا فیصلہ کر سکے یا دوبارہ جنگ کی شروعات کر سکے۔ امریکہ نے بس اتنا کیا ہے کہ اس سارے عرصے میں پاکستانی حکمرانوں کو دوڑاتا رہا ہے کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے راضی کریں۔ پاکستان نے بہت کوشش کی ہے لیکن ایران اس کی ایک بھی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کی مسلسل ناکامی کے بعد امریکہ کے پاس اس کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن نہیں تھا کہ وہ چین کے پاس چل کر جائے تاکہ چین ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے راضی کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں، ٹرمپ چین کے پاس فریاد لے کر گیا تھا کہ ہمیں آبنائے ہرمز کھلوا کر دو۔ چین کے صدر کے ساتھ جو مذاکرات ہوئے تھے، ان مذاکرات میں ٹرمپ نے شی جن پنگ کے آگے یہ تجویز رکھی تھی کہ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے کھولا جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کوئی حملہ نہ ہو اور وہ سلامتی کے ساتھ گزر جائیں۔ ٹرمپ کی طرف سے دوسری تجویز یہ تھی کہ ایران کو یورینیم کی مزید افزائش کرنے سے روکا جائے اور یورینیم کے موجودہ ذخائر کو یا تو ختم کیا جائے یا امریکہ سمیت کسی دوسرے ملک کے حوالے کیا جائے۔ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ ایران کو پابند کیا جائے کہ وہ ایک امن معاہدہ کرے اور عالمی ٹیموں کو اجازت دے کہ وہ آ کر ایٹمی پلانٹ مانیٹر کر سکیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے فوری جنگ بندی کے معاہدے پر بھی زور دیا تھا۔
حالانکہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی اور امن مذاکرات کے لیے پہلے پاکستان کو آگے کیا گیا تھا تاکہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرا سکے، لیکن لگتا یہ ہے کہ امریکہ پاکستان سے مایوس ہو کر محسوس کر چکا تھا کہ ایران سے معاہدہ کرانا پاکستان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس لیے امریکہ یہی باتیں لے کر چین کے پاس گیا تھا تاکہ ایران کو جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے راضی کر سکے۔
بہرحال، چین کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے واپسی پر ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ اس نے شی جن پنگ سے ایران کو جنگی ہتھیاروں اور اسلحے کی مدد نہ دینے کے متعلق بھی بات چیت کی ہے۔ کیونکہ چین کے دورے پر جانے سے پہلے ہی امریکی انٹیلیجنس اداروں اور میڈیا کی یہ رپورٹیں آ چکی تھیں کہ چین ایران کو ہتھیاروں اور اسلحے کی مدد کرتا رہا ہے۔ یہاں ایک اہم بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ 19 اپریل کو امریکہ کی جانب سے ایران جانے والے ایک بحری جہاز کو روکا گیا تھا، جس میں چین کا مال تھا۔ عام رائے یہ ہے کہ وہ چین کا جہاز تھا لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایران کا جہاز تھا جو چین گیا تھا اور چین سے لوٹ رہا تھا۔ چین سے لوٹتے ہوئے سمندری راستے میں امریکہ نے اس جہاز کو روکا تھا۔ کہا یہ جا رہا تھا کہ اس بحری جہاز میں چین نے ایران کی طرف کچھ تحائف بھیجے ہیں، لیکن جہاز کی تلاشی لینے کے بعد معلوم ہوا کہ چین نے جو تحائف بھیجے تھے، ان میں جنگی ہتھیار اور اسلحہ شامل تھا۔ جو ہتھیار اور اسلحہ مفت میں، بغیر کسی پیسے کے، تحفے کے طور پر ایران کی طرف بھیجا جا رہا تھا۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین واقعی بھی جنگ میں ایران کی مدد کرتا رہا ہے اور بغیر کسی معاوضے کے اسے ہتھیار اور اسلحہ دیتا رہا ہے۔ اس لیے اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ٹرمپ نے شی جن پنگ کو یہ کہا ہوگا کہ چین ایران کو ہتھیار اور اسلحہ نہ دے، لیکن چینی صدر نے کیا کہا، اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ شی جن پنگ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کو ہتھیار اور اسلحہ نہیں دیں گے، لیکن چین کے خبر رساں ادارے اس بات کی تصدیق نہیں کرتے بلکہ چینی اداروں کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں اور اسلحے والے مسئلے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔
اس وقت ایران کی پوزیشن بالکل وہی ہے جو ماضی میں تائیوان کی رہی ہے۔ تائیوان ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن چین جیسی سپر پاور کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ اسی طرح ایران بھی ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن امریکہ جیسی سپر پاور کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ کیونکہ ایران کے پیچھے چین کھڑا ہے، جبکہ تائیوان کے پیچھے امریکہ کھڑا رہا ہے۔ امریکہ چین کے خلاف تائیوان کی مدد کرتا رہا ہے، اس کے جواب میں چین امریکہ کے خلاف ایران کی مدد کر رہا ہے۔
جب ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے تو تائیوان کا بھی ذکر نکلا تھا۔ شی جن پنگ نے ٹرمپ سے کہا تھا کہ امریکہ تائیوان کی مدد نہ کرے اور تائیوان کو اسلحے کی فروخت بند کرے۔ کیونکہ جنوری 2026ء میں امریکی کانگریس نے تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے ہتھیار دینے کا پیکیج پاس کیا تھا، جو پیکیج منظوری کے لیے ٹرمپ کی میز پر پڑا ہوا تھا۔ مئی 2026ء میں چینی صدر سے مذاکرات کے بعد ٹرمپ نے اس پیکیج پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ یہاں ایک بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ٹرمپ نے وہ پیکیج باضابطہ منسوخ نہیں کیا بلکہ وقتی طور پر اس پر عمل روکا ہے۔ یہ سب کچھ چین دیکھ بھی رہا ہے اور محسوس بھی کر رہا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے ٹرمپ سے جو دوسرا سوال کیا تھا، وہ یہ تھا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو کیا امریکہ تائیوان کی مدد کرے گا یا چین کا ساتھ دے گا؟
یہ سوال ایسا تھا جس کا جواب ٹرمپ اپنی پارلیمنٹ سے مشورے کے بغیر نہیں دے سکتے تھے۔ اس لیے ٹرمپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اب جب تک امریکہ چین کے اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ امریکہ چین کے ساتھ دوستی چاہتا ہے یا تائیوان کے ساتھ تعلقات، تب تک چین ایران کے معاملے پر کوئی واضح پالیسی نہیں دے گا۔ اس کے علاوہ جب تک امریکہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت منسوخ نہیں کرتا، تب تک چین بھی ایران کو ہتھیاروں کی سپلائی بند نہیں کرے گا۔ اس لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے مذاکرات اس وقت تک پھنسے رہیں گے جب تک امریکہ تائیوان کے مسئلے پر کوئی واضح پالیسی اختیار نہیں کرتا۔
اس وقت سب سے اہم مسئلہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کا تمام کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تیار نہیں ہے اور چین نے بھی اب تک ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے کچھ نہیں کہا ہے۔ اس لیے ٹرمپ کے چین کے ساتھ کیے گئے مذاکرات بے مقصد ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ اپنی پوری طاقت کے باوجود ایران سے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ ٹرمپ نے صرف اتنا کیا ہے کہ امریکہ کی بحریہ کو بلا کر آبنائے ہرمز کا گھیراؤ کروا دیا ہے اور ایران جانے والے جہازوں کو روک دیا ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ہم نہ تو کوئی بحری جہاز ایران کی بندرگاہوں کی طرف جانے دیں گے اور نہ ہی ایران کے کسی جہاز کو کھلے سمندر میں آنے دیں گے۔ ایران نے عرب ممالک کے راستے بند کیے ہیں اور امریکہ ایران کے راستے بند کر رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی گزرگاہ کا گھیراؤ جاری ہے، لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ نکل کر سامنے نہیں آسکا ہے۔
اگر اس جنگ میں کسی کی جیت یا ہار کے نتیجے پر پہنچا جائے، تو یہ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ یہ جنگ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ہے۔ اس جنگ میں نقصان ایک تو ایران کا ہوا ہے اور دوسرا اسرائیل کا، لیکن اس جنگ میں بغیر کسی نقصان کے صرف چین نے کمایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے حیفہ اور دبئی کی بندرگاہوں کو اپنی اقتصادی راہداری کی بنیاد بنایا گیا تھا۔ اس جنگ میں ان دونوں ممالک یعنی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا گیا ہے جن ممالک میں یہ بندرگاہیں موجود ہیں۔ اسرائیل کتنا ہی دعویٰ کرے کہ حیفہ اور تل ابیب کو جنگ میں بڑا نقصان نہیں پہنچا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران نے حیفہ اور تل ابیب کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اس لیے جنگ ختم ہونے کے بعد بھی 10، 15 سال تک نہ تو حیفہ کی دوبارہ تعمیرِ نو ہو سکے گی اور نہ ہی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی راہداری بن پائے گی۔ اسرائیل کے بعد متحدہ عرب امارات دوسرا ملک ہے جس پر ایران نے سب سے زیادہ میزائل اور ڈرونز فائر کیے تھے، کیونکہ دبئی کی بندرگاہ متحدہ عرب امارات میں ہے اور جنگ کے دوران اسرائیل کے بعد دبئی سب سے زیادہ ایرانی ہدف رہا تھا۔ تیسری بات یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر دی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں پہنچنے والا کوئی بھی مال آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحرِ ہند تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس لیے یہ چین کے مفاد میں ہے کہ آبنائے ہرمز نہ کھلے اور اگر آبنائے ہرمز کھلے بھی، تب بھی ایران کی اجازت کے بغیر کوئی بھی بحری جہاز وہاں سے نہ گزر سکے۔ اگر مستقبل میں ایران کی اجازت کے بغیر کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکے گا تو ایسی صورتحال میں اگر راہداری بن بھی جائے، تب بھی امریکہ کا مال بندرگاہوں پر پڑا رہے گا اور منڈی تک نہیں پہنچ پائے گا، کیونکہ ایران امریکی مال کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ نہیں کر سکتا، اس لیے وہ اپنے اندر کی آگ بجھانے کے لیے جنوبی لبنان میں حزب اللہ پر فضائی اور زمینی حملے کر رہا ہے۔ امریکہ کو ایران پر حملہ کرنا چاہیے تھا، لیکن وہ ایران پر حملہ کرنے کے بجائے اس کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا معاہدہ کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ کبھی پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر ایران کے دورے کر رہے ہیں تو کبھی قطر میں امن معاہدے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ جنگ میں نہیں جانا چاہتا تو اس کے پاس صرف ایک ہی آپشن بچا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کا گھیراؤ جاری رکھے اور ایران کے تیل بردار اور مال بردار جہازوں کو آنے جانے نہ دے۔ امریکہ اگر ایران کے بحری راستوں کی ناکہ بندی جاری رکھتا ہے، ایران کے تیل بردار جہازوں کو عالمی منڈی تک پہنچنے نہیں دیتا اور عالمی مارکیٹ سے آنے والی ضرورت کی اشیاء کو ایران کی بندرگاہوں تک پہنچنے نہیں دیتا، تو ایران میں شدید اقتصادی بحران پیدا ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ چاہتا بھی یہی ہے کہ ایران میں اقتصادی بحران پیدا ہو اور ضرورت کی چیزوں کی قلت ہو تاکہ امریکہ اس بحران کو بنیاد بنا کر ایران میں عوامی بغاوت کو ابھار سکے۔
امریکہ کی جانب سے 13 اپریل کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کی گئی تھی اور اس ناکہ بندی کو بھی اب تک دو مہینے ہونے والے ہیں، لیکن ایران میں عوامی بغاوت کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ ہاں، البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ ایرانی تیل کی عالمی مارکیٹ میں سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ لیکن یہ دباؤ صرف ایرانی معیشت پر ہی نہیں ہے بلکہ عرب ممالک کی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے عرب ریاستوں کے تیل بردار جہاز بھی کھڑے ہیں اور عرب ریاستوں کا تیل بھی عالمی منڈی تک نہیں پہنچ پا رہا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کا 90 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گزر کر ہی عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز جلدی نہ کھلا اور امریکہ اسے کھلوانے میں ناکام رہتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ کی عرب ریاستیں امریکہ سے مایوس ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیں گی۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عرب ریاستیں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرين اور عمان، ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے رابطے کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مصر اور ترکی بھی ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت ٹرمپ اپنی بالادستی (Supremacy) کو بچانے کے لیے مصر اور ترکی سمیت ان تمام ممالک کو ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے کا حکم دے رہا ہے جو ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ممالک ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں یا نہ کریں، لیکن امریکہ اگر جلد آبنائے ہرمز کو نہ کھلوا سکا تو مشرقِ وسطیٰ کے اندر امریکہ کے لیے اپنی برتری کو قائم رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
