
بلوچ وومن فورم کے ترجمان کے جانب جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بی ڈبلیو ایف بلوچستان میں بلوچ خواتین کی پے در پے جبری گمشدگیوں، بالخصوص کوئٹہ سے نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ کے لاپتہ کیے جانے، پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔ خواتین کو اس طرح نشانہ بنانا نہ صرف آئین و قانون کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق، وقار اور سماجی اقدار پر ایک سنگین حملہ بھی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ہم واضح طور پر یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ بلوچ معاشرے میں خواتین کا احترام ایک بنیادی اصول ہے، اور انہیں نشانہ بنانا پورے معاشرے کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہیں بلکہ یہ پہلے سے محرومی اور عدم اعتماد کا شکار خطے میں مزید بے چینی، اشتعال اور ردِعمل کو جنم دیتے ہیں، جس کے اثرات دیرپا اور نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ وومن فورم اس امر پر زور دیتا ہے کہ ریاستی ادارے اپنی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا سنجیدگی سے ادراک کریں۔ نرسنگ طالبہ خدیجہ بلوچ کو فی الفور بازیاب کیا جائے، جبری گمشدگیوں کے سلسلے کو فوری طور پر روکا جائے، اور ایسے تمام واقعات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ ذمہ داران کو قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کا احترام، قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی ہی کسی بھی معاشرے میں پائیدار امن، استحکام اور باہمی اعتماد کی بنیاد ہوتی ہے۔ ان اصولوں سے انحراف نہ صرف ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کو بڑھاتا ہے بلکہ مجموعی طور پر معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
