تحریر: نصیر بلوچ

ہر سال 8 جون کو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) ’’بلوچ مسنگ پرسنز ڈے‘‘ (جبری لاپتہ افراد کا دن) مناتی ہے۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ہزاروں بلوچ خاندانوں کے درد، انتظار اور بے یقینی کی علامت ہے۔ اس دن کی نسبت بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO) کے سابق وائس چیئرمین ذاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی سے جڑی ہوئی ہے، جنہیں 8 جون 2009 کو پاکستانی فوج نے اغوا کیا تھا، اور آج سترہ برس گزر جانے کے باوجود ان کے اہلِ خانہ ان کی قسمت سے لاعلم ہیں۔ ذاکر مجید صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ان ہزاروں بلوچ مردوں، عورتوں اور نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو برسوں سے لاپتہ ہیں اور جن کے خاندان انصاف اور سچائی کے منتظر ہیں۔ 8 جون کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جبری گمشدگی صرف ایک فرد کی آزادی سلب کرنے کا عمل نہیں بلکہ پورے خاندان کو ایک دائمی اذیت میں مبتلا کر دینے کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال یہ دن بلوچ قوم کے لیے اپنے لاپتہ پیاروں کی یاد، انصاف کے مطالبے اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش بن کر سامنے آتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کا قیام دراصل اس امید کے ساتھ عمل میں آیا تھا کہ دنیا میں طاقت کے بجائے قانون کی حکمرانی ہوگی، چھوٹی اور کمزور اقوام کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، اور کسی بھی قوم کو اس کی مرضی کے خلاف محکوم بنا کر نہیں رکھا جائے گا۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں بار بار انسانی وقار، بنیادی حقوق، انصاف اور اقوام کے حقِ خود ارادیت پر زور دیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب انہی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہو تو پھر اس عالمی ادارے کی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہو جاتی ہے؟ اگر کسی خطے میں لوگوں کو جبری گمشدگیوں، سیاسی جبر، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا ہو، اور اگر ایک قوم مسلسل اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کر رہی ہو، تو کیا عالمی برادری کی خاموشی خود ایک اخلاقی سوال نہیں بن جاتی؟ تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور ریاستیں اکثر اپنے مفادات کے تحت قوانین کی ایسی تشریحات کرتی رہی ہیں جو کمزور قوموں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں، مگر انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تمام اقوام اور ریاستوں کے لیے ایک ہی معیار اختیار کیا جائے۔ بلوچستان کے مسئلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہاں صرف زمین، وسائل یا سیاسی اقتدار کا سوال نہیں بلکہ انسانوں کی زندگیوں، ان کی شناخت، ان کے بنیادی حقوق اور ان کے مستقبل کا سوال بھی درپیش ہے۔ جب کسی قوم کے افراد اپنے دکھ، محرومی اور شکایات کو بار بار دنیا کے سامنے پیش کریں اور اس کے باوجود انہیں مؤثر توجہ نہ ملے تو ان کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر عالمی انصاف کا معیار کیا ہے؟ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے لیے یہ محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اپنی ہی قائم کردہ اقدار اور اصولوں کی ساکھ کا امتحان بھی ہے۔ اگر انصاف واقعی عالمگیر ہے تو اسے طاقتور اور کمزور، بڑے اور چھوٹے، سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ ورنہ مظلوم اقوام کے دلوں میں یہ سوال ہمیشہ زندہ رہے گا کہ کیا بین الاقوامی قوانین صرف کمزوروں کے لیے ہیں یا ان کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے؟ یہ سوال آج بھی موجود ہے، اور شاید اس وقت تک موجود رہے گا جب تک دنیا کے ہر انسان اور ہر قوم کو وہی حقوق، عزت اور انصاف میسر نہیں آتا جس کا وعدہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں کیا گیا ہے۔
دنیا کے مختلف خطوں میں ہر روز کوئی نہ کوئی خوشی منائی جاتی ہے۔ کہیں یومِ آزادی منایا جاتا ہے، کہیں قومی تہوار، کہیں مذہبی عیدیں اور کہیں تاریخی فتوحات کی یاد میں تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ مختلف قومیں اپنے قومی دنوں پر پرچم لہراتی ہیں، گیت گاتی ہیں، ایک دوسرے کو مبارک باد دیتی ہیں اور اپنی اجتماعی کامیابیوں پر فخر کا اظہار کرتی ہیں۔ مذہبی تہواروں کے مواقع پر بھی ایک ہی عقیدے سے تعلق رکھنے والے لوگ، خواہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں، یکساں جذبات کے ساتھ خوشیاں مناتے ہیں۔ گھروں میں چراغاں ہوتا ہے، مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں، بچے نئے کپڑے پہنتے ہیں اور معاشرے میں خوشی اور امید کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ یہ منظر انسانی زندگی کا ایک خوبصورت پہلو ہے، کیونکہ خوشی صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ اجتماعی اطمینان، تحفظ اور وقار کی علامت بھی ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم آزادی، امن اور انصاف کے ساتھ زندگی گزار رہی ہو تو اس کے تہوار صرف رسمی تقریبات نہیں رہتے بلکہ اس کی اجتماعی کامیابیوں کا جشن بن جاتے ہیں۔
مگر اسی دنیا میں کچھ قومیں ایسی بھی ہیں جن کے نصیب میں مسلسل غم، بے یقینی اور محرومی لکھی گئی ہے۔ ایسی قومیں جن کے لیے خوشی ایک عارضی لمحہ نہیں بلکہ ایک خواب بن چکی ہے۔ انہی قوموں میں بلوچ قوم بھی شامل ہے، جو گزشتہ آٹھ دہائیوں سے سیاسی جبر، معاشی محرومی، سماجی ناانصافی، جسمانی و نفسیاتی تشدد، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور مسلسل عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ ایک غلامانہ زندگی گزار رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی طاقتور ریاست کسی کمزور قوم پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ صرف عسکری قوت پر انحصار نہیں کرتی بلکہ معاشی دباؤ، نفسیاتی خوف، سیاسی پابندیوں اور سماجی کنٹرول جیسے مختلف ذرائع بھی استعمال کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکوم قوموں کی زندگی اکثر ایک مسلسل آزمائش میں تبدیل ہو جاتی ہے، جہاں ہر دن بقا کی ایک نئی جنگ بن کر سامنے آتا ہے۔
بلوچستان کے بے شمار خاندان ایسے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔ بے شمار مائیں اپنے بیٹوں کی راہ دیکھتے دیکھتے بوڑھی ہو چکی ہیں، اور کئی بچے اپنے باپوں کی شفقت سے محروم ہو کر جوان ہوئے ہیں۔ ہر شہر، ہر قصبے اور ہر گاؤں میں ایسی داستانیں موجود ہیں جو دکھ، انتظار اور بے بسی کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بلوچ خاندانوں کے لیے خوشی کا تصور رفتہ رفتہ ایک اجنبی احساس بنتا جا رہا ہے۔ جہاں دنیا کے مختلف حصوں میں تہواروں کے دن خوشی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، وہاں بہت سے بلوچ خاندان ایسے مواقع پر بھی اپنے کسی عزیز کی یاد، جدائی یا کسی نئے سانحے کے غم میں مبتلا رہتے ہیں۔ جب کسی معاشرے میں خوف، غیر یقینی اور مسلسل اضطراب روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں تو خوشی کے لمحے بھی مکمل خوشی میں تبدیل نہیں ہو پاتے۔ ظاہری طور پر تہوار آتے ہیں، کیلنڈر پر تاریخیں بدلتی ہیں، مگر دلوں کے موسم ویسے ہی اداس رہتے ہیں۔
آج بلوچ معاشرے کی ایک بڑی تصویر یہ ہے کہ احتجاج، انصاف کی تلاش اور اپنے پیاروں کی خبر حاصل کرنے کی جدوجہد بہت سے خاندانوں کی روزمرہ زندگی بن چکی ہے۔ تصاویر اٹھائے ہوئے مائیں، بہنیں اور بچے صرف اپنے کسی عزیز کی تلاش نہیں کر رہے ہوتے بلکہ وہ دراصل اپنی انسانی شناخت، اپنے وقار اور اپنے بنیادی حقوق کی بازیابی کی جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ المیہ ہے جو ایک قوم کی اجتماعی نفسیات کو متاثر کرتا ہے۔ جب ایک نسل مسلسل خوف میں پروان چڑھے، جب بچے دکھ اور محرومی کو معمول سمجھنے لگیں، اور جب خوشی کے دن بھی غم کے سائے میں گزرنے لگیں، تو قوم کے اجتماعی شعور پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں خوشی صرف ایک تہوار کا نام نہیں رہتی بلکہ انصاف، امن اور انسانی وقار کے قیام سے مشروط ہو جاتی ہے۔
شاید اسی لیے آج بہت سے بلوچوں کے لیے اصل خوشی کسی تہوار، تقریب یا جشن میں نہیں بلکہ اس دن میں پوشیدہ ہے جب خوف کی جگہ تحفظ، ناانصافی کی جگہ انصاف، محرومی کی جگہ برابری اور غم کی جگہ سکون لے لے۔ کیونکہ ایک قوم کے لیے سب سے بڑی خوشی صرف جشن منانے کا حق نہیں بلکہ عزت، آزادی اور اطمینان کے ساتھ جینے کا حق ہوتا ہے۔ اور جب تک یہ حق مکمل طور پر میسر نہیں آتا، تب تک بلوچ قوم کی کہانی صرف محرومی کی داستان نہیں بلکہ صبر، استقامت اور اپنے وجود کے تحفظ کی ایک مسلسل جدوجہد کی داستان بھی رہے گی۔
شاید 8 جون کا اصل سوال یہی ہے کہ دنیا کب ان ماؤں کے انتظار کو سنے گی، کب ان خالی کرسیوں کو دیکھے گی، اور کب ان لاپتہ انسانوں کے بارے میں سچ جاننے اور انہیں انصاف دلانے کی اپنی اخلاقی ذمہ داری پورے کرے گی۔
