
بلوچستان ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ میں پاکستانی فوجی جارحیت کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق 17 اور 18 اپریل کو مختلف مقامات پر کارروائیوں کے دوران پاکستانی فورسز نے کئی افراد کو حراست میں لیا، جن کے بارے میں بعد ازاں ان کے اہل خانہ کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
لاپتہ ہونے والے افراد میں جبار ولد محمد سکندر، بابو جان ولد سکندر، حسنین، نقیب ولد مولوی علی احمد، زیشان ولد ماسٹر تما خان، زبیر ولد پرویز، عبدلرسول ولد عبدالباقی، طالب علم موہیب ولد عبدالباقی اور بابو سفر خان (لیویز مستونگ) شامل ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے مستونگ کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، جن کے دوران لوگوں کو گرفتار کرنے اور تشدد کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
متاثرہ خاندانوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ زیر حراست افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے اور ان کے بارے میں فوری معلومات فراہم کی جائیں۔
