سانحہ بارکھان: 10 بے گناہ بلوچوں کی ریاست کے ہاتھوں قتل ایک نہایت افسوسناک انسانی المیہ ہے۔ بلوچ وومن فورم

ڈیرہ غازی خان سے موصول اطلاعات کے مطابق بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل بہاولپور کے سابق چیئرمین اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ایم فل پولیٹیکل سائنس کے طالبعلم زبیر بلوچ کو گزشتہ شب پاکستانی فورسز نے ان کے گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

ذرائع کے مطابق زبیر بلوچ کو رات تقریباً ڈیڑھ بجے ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، جس کے بعد سے ان کے اہل خانہ کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔

اہل خانہ نے زبیر بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں ماورائے آئین حراست میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ زبیر بلوچ کو جلد از جلد منظر عام پر لایا جائے۔

واضح رہے کہ بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں کے واقعات پر ماضی میں بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

نوکنڈی: ریکوڈک سائٹ روڈ پر تین گاڑیوں میں تصادم، 3 افراد ہلاک، 18 زخمی

جمعہ اپریل 17 , 2026
بلوچستان کے علاقے نوکنڈی کے قریب ریکوڈک سائٹ روڈ پر تین گاڑیوں کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک جبکہ 18 افراد زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق یہ حادثہ گزشتہ شب پیش آیا، جب تین گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ موقع پر […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ