
بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تربت میں انسانی حقوق کی کارکن سید بی بی بلوچ کے گھر پر چھاپہ مارنا انتہائی قابلِ مذمت اور تشویشناک عمل ہے۔ سید بی بی بلوچ ایک پُرامن سیاسی اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں اور وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی سے وابستہ ہیں، اس کے باوجود ریاستی اداروں کی جانب سے انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سید بی بی بلوچ کا نام پہلے ہی چوتھے شیڈول میں شامل کیا جا چکا ہے، جس کے باعث انہیں سخت نگرانی اور مختلف پابندیوں کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود وہ قانون کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے باقاعدگی سے پولیس اسٹیشن میں اپنی حاضری یقینی بناتی رہی ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کے تعاون اور قانون کی پاسداری کے باوجود سیکیورٹی ادارے ان کے گھر پر چھاپے مار کر انہیں اور ان کے خاندان کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رہے ہیں۔
بلوچ نیشنل موومنٹ اس عمل کو بلوچستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف جاری منظم دباؤ اور ہراسانی کی ایک اور مثال قرار دیتی ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ سیاسی اور سماجی کارکنوں کو خاموش کرانے کی کوشش بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف جاری ایسے اقدامات کا نوٹس لیں اور سید بی بی بلوچ سمیت تمام پُرامن کارکنوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کرایا جائے۔
