
بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بولان میڈیکل کمپلیکس (بی ایم سی) کے سامنے نرسنگ طالبہ خدیجہ بلوچ کی رہائی کے لیے جاری دھرنا آج ساتویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔
بی وائی سی کوئٹہ زون کے مطابق خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی بلوچ نسل کشی کے تسلسل کا حصہ ہے، اور آج ان کی حراست کو سات دن مکمل ہو چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ خدیجہ ایک طالبہ ہیں اور ان کے امتحانات بھی آج سے شروع ہو چکے ہیں، تاہم وہ گزشتہ سات دنوں سے حراست میں ہیں۔
دھرنے میں شریک خدیجہ بلوچ کے اہلِ خانہ ساتویں روز بھی احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی فوری اور بحفاظت رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ خدیجہ بلوچ کو تاحال کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، جس پر انہیں شدید تشویش ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں قانونی کارروائی کے بجائے ممکنہ طور پر میڈیا ٹرائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ خدیجہ بلوچ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لا کر قانون کے مطابق پیش کیا جائے۔
