عزیز سنگھور

خواتین کی جبری گمشدگیاں صرف افسوسناک نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی حکومتی نظام کے لیے ایک شرمناک حقیقت بنتی جا رہی ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ رکنے کے بجائے مزید پھیلتا جا رہا ہے، اور اب اس کی زد میں وہ خواتین اور طالبات بھی آ چکی ہیں جنہیں کسی بھی مہذب معاشرے میں سب سے زیادہ تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ طاقت کے استعمال، قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرنے اور احتجاج کرنے والے خاندانوں کو مجرم بنانے کا رجحان اس بات کا ثبوت بنتا جا رہا ہے کہ مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے دبانے کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریوں کو اسی طرح نظرانداز کرتے رہے تو یہ نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہوگا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے باقی ماندہ رشتے کو بھی مکمل طور پر ختم کر دے گا۔
21 اپریل 2026 کو داد شاہ بلوچ کو دوسری مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ ان کی گمشدگی کے بعد ان کے اہلِ خانہ شدید اذیت اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں، کیونکہ انہیں اب تک ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ہفتے کے روز کراچی پریس کلب کے باہر ان کے خاندان کے افراد نے پرامن طور پر احتجاج کیا۔ ان کا مقصد صرف اتنا تھا کہ عوام کو داد شاہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے بارے میں آگاہ کیا جائے، کیونکہ انہیں باقاعدہ پریس کانفرنس کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
لیکن اس پرامن احتجاج کو سننے یا اس پر توجہ دینے کے بجائے طاقت کا استعمال کیا گیا۔ آرم باغ تھانے کی پولیس نے احتجاج کرنے والے افراد کو حراست میں لے کر اجتماع کو منتشر کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی داد شاہ بلوچ کی ہمشیرہ، کامریڈ فوزیہ بلوچ، ان کی والدہ اور دیگر اہلِ خانہ کے خلاف ایک ناجائز ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتی ادارے نہ صرف جبری گمشدگیوں کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کی آواز کو دبانے کے لیے قانونی ہتھکنڈے بھی استعمال کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی ایک اور تشویشناک مثال کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خدیجہ بلوچ، جن کا پورا نام خدیجہ پیر جان ہے، ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک کی رہائشی اور کوئٹہ میں زیرِ تعلیم تھیں۔ انہیں 21 اپریل کی رات بولان میڈیکل کالج کے نرسنگ ہاسٹل سے انہیں حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
خدیجہ بلوچ کی حراست کے خلاف بولان میڈیکل کالج کے باہر کئی روز سے دھرنا جاری ہے۔ طالبات، اہلِ خانہ اور سماجی کارکن مسلسل احتجاج کر رہے ہیں، لیکن اب تک انتظامیہ کی جانب سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے نام پر انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، مظاہرین کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے اور پولیس اہلکار ان کی تصاویر لے رہے ہیں، جس سے خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔
اسی دوران خدیجہ بلوچ کے اہلِ خانہ اور ساتھی طالبات نے کوئٹہ میں ایک پرامن احتجاجی ریلی بھی نکالی، جس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے خدیجہ کی فوری بازیابی، خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور حکومتی اداروں کی شفافیت کے مطالبات کیے۔ ان مطالبات میں صرف ایک فرد کی رہائی نہیں بلکہ ایک وسیع تر اصول کی بحالی کی خواہش شامل ہے۔ وہ اصول جس کے تحت کسی بھی شہری کو بغیر قانونی جواز کے حراست میں نہیں لیا جا سکتا۔
بلوچستان میں خواتین کی مبینہ جبری گمشدگیوں میں مسلسل اضافہ انسانی حقوق کے حوالے سے شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ رجحان نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ سماجی سطح پر خوف اور عدم تحفظ میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ خواتین کو نشانہ بنانا بلوچ معاشرتی روایات میں ایک انتہائی حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ روایتی طور پر خواتین کو تنازعات سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس روایت کا ٹوٹنا معاشرتی توازن کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
بلوچ وومن فورم (BWF) نے خدیجہ پیر جان کی جبری گمشدگی کی سخت مذمت کرتے ہوئے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ خدیجہ کے بارے میں فوری اور واضح معلومات فراہم کی جائیں اور ان کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ فورم نے اس عمل کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اس طرح نشانہ بنانا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ فورم نے بی ایم سی کے باہر جاری طلبہ کے دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس پرامن احتجاج کا حصہ بنیں، کیونکہ خاموشی ناانصافی کو مزید تقویت دیتی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے بھی اس حوالے سے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر دھرنے کے کسی بھی شریک کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری براہِ راست کوئٹہ پولیس پر عائد ہوگی۔ تنظیم کے مطابق پولیس نے اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے ہٹ کر عوام کو ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔
کراچی پریس کلب کے سابق صدر سعید سربازی نے پریس کلب کی ناکہ بندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کراچی پریس کلب کے موجودہ صدر فاضل جمیلی، سینئر ممبر کلب عارف بلوچ، سعید جان بلوچ، اختر سومرو، اکرم بلوچ، محمد حفیظ، ابوبکر صدیق اور دیگر کلب کے دوستوں سے رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسئلے کے حل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کے لیے پریس کلب کے دوستوں کا ایک مشاورتی اجلاس بھی طلب کیا جا رہا ہے۔
ادھر بلوچستان کے دیگر علاقوں سے بھی خواتین کی جبری گمشدگیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ نال استخلی میں اورناچ کے رہائشی ثمینہ بنت دوست محمد اور ان کے کزن قمبر ولد عبداللطیف کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے سنگ آباد میں 14 اپریل کو بائیس سالہ گل بانک بنت تاج محمد کو ایک چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا، جو تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں۔ اہلِ خانہ شدید بے چینی اور خوف میں مبتلا ہیں اور ان کی زندگی کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
رواں ماہ بلوچستان سے پانچ بلوچ خواتین کے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ حالیہ مہینوں میں مختلف علاقوں سے تقریباً پندرہ خواتین لاپتہ ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
یہ صورتحال سندھ اور بلوچستان میں قائم حکومتوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر خواتین کی جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ نہ رکا تو اس کے اثرات نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے سندھ کے سماجی اور سیاسی استحکام پر مرتب ہوں گے۔
