نوآبادیاتی عدل کا استعماری فریب!

تحریر۔ رامین بلوچ

تاریخ کے اوراق جب بھی الٹے جائیں، ایک تلخ مگر واضح حقیقت بار بار ابھر کر سامنے آتی ہے کہ نوآبادیاتی عدالتیں اپنی فطرت میں انصاف کے ادارے نہیں ہوتیں بلکہ وہ قبضہ کے اس جال کا مرکزی گرہ ہوتی ہیں جس کے ذریعے قبضہ، تسلط اور استحصال کو قانونی جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ عدالتیں بظاہر قانون کی حکمرانی، غیرجانبداری اور عدل کے اعلیٰ اصولوں کی نمائندہ نظر آتی ہیں، مگر درحقیقت ان کی بنیاد ایک ایسے استعماری ڈھانچے پر استوار ہوتی ہے جن کا مقصد مقبوضہ اقوام کو قابو میں رکھنا اور ان کے زمین اور وسائل پر گرفت مضبوط کرنا ہوتا ہے۔نوآبادیاتی نظام میں “قانون” ایک غیر جانبدار انصاف نہیں بلکہ قبضہ کا ایک آلہ ہوتا ہے۔ جہان قانون خود ایک استعماری بیانیہ (narrative) ہوتاہے جسے ایمپائر قوتیں تشکیل دیتی ہیں تاکہ اپنے جبری قبضہ کو فطری، جائز اور ناگزیر ثابت کیا جا سکے۔ جہاں عدالتیں محض فیصلے سنانے کی جگہ نہیں بلکہ استعماری مشینری بن جاتے ہین جہاں “جرم” اور “انصاف” کی تعریفیں بھی استعمار اور اشرافیہ طے کرتی ہیں۔

نوآبادیاتی عدالتوں کی سب سے بڑی مکروہ خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ نوآبادی کو مجرم اور مزاحمت کو دہشت بنا کر پیش کرتی ہیں۔ جو آوازیں جو تحریکیں ، آزادی، انسانی وقار اور خودمختاری کی باتیں کرتے ہیں، انہیں نام نہاد قانون کی زبان میں فتنہ “فساد”، “غداری” یا “دہشت” کے خانوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح عدالتین انصاف فراہم کرنے کے بجائے ایک ایسا اخلاقی الٹ پھیر (moral inversion) پیدا کرتی ہے جس میں جبر و جارحیت کو قانون و ریاستی اختیار اور مزاحمت کو جرم قرار دیا جاتا ہے۔ بظاہران عدالتوں کے دروازوں پر آویزاں ترازو، اور غیرجانبداری کا دعویٰ سب محض نمائشی ہوتے ہیں، فیصلوں کے پیچھے کارفرما قوت قانون نہیں بلکہ استعمار ہوتا ہے۔ جہان طاقت خود کو قانون کے پردے میں چھپا لیتی ہے، اور جبر کو ایک “قانونی عمل” کا نام دے دیا جاتا ہے۔

نوآبادیاتی عدالتوں کی ماہیت کو اگر واقعی سمجھنا ہو تو اسے محض قانونی ڈھانچے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر استعمار بیانیے کے حصے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ مشعل فوکالٹ کا تصورِ طاقت و علم یہاں بنیادی اہمیت اختیار کرتا ہے، وہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ نوآبادیاتی قانون کسی غیر جانب دار سچائی کا مظہر نہیں بلکہ ایک ایسا آلہ ہے جو استعماری بیانیہ کو “ کوٹا سچ” بناکر پیش کرتاہے۔جہان قانون محض ضابطہ نہیں بلکہ طاقت کے اظہار کا ایک مہذب طریقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوآبادیاتی عدالتیں نوآبادی کو “مہذب” بنانے کے نام پر ایک ایسا قانونی فریم مسلط کرتی ہیں جو دراصل ان کی اپنی تہذیبی برتری کو جائز ٹھہراتا ہے۔

۔نوآبادیاتی سیاق میں یہ عمل اور بھی گہرا اور پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ یہاں قانون ایک ایسے “مہذب کرنے والے منصوبے” (civilizing mission) کا حصہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے نوآبادی کی قانون روایات ادب تاریخ کلچر ، اور خودمختاری کو غیر معیاری اور پسماندہ قرار دیا جاتا ہے۔ فرانز فینن نے اسی پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتاہے کہ نوآبادیاتی نظام محض زمینی یا جسمانی قبضہ نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی تسلط بھی قائم کرتا ہےاور ان کی عدالتیں اس تسلط کی ایک نہایت مؤثر شکلیں ہیں۔ یہ عدالتیں بظاہر غیر جانبداری، ضابطے اور شفافیت کی علامت کے طور پر پیش کی جاتی ہیں، مگر درحقیقت یہ طاقت کے اس ڈھانچے کو برقرار رکھتی ہیں جو نوآبادکار کے مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ قانون کی زبان، اس کی اصطلاحات، اور اس کے طریقۂ کارسب ایسے وضع کیے جاتے ہیں کہ نوآبادی خود کو اس نظام میں اجنبی محسوس کرے۔ یوں یہ عدالتیں انصاف دینے کے بجائے ایک ایسی “معنوی سرحد” قائم کرتی ہے جہاں قابض اور مقبوض کے درمیان خلیج مزید پختہ ہو جاتا ہے۔

چنانچہ یہ کہنا زیادہ قرینِ حقیقت ہے کہ نوآبادیاتی عدالتیں انصاف کی غیر جانب دار فراہمی کے بجائے نام نہاد“نظم و ضبط” (discipline) کے قیام کا آلہ کار ہوتی ہیں۔ یہاں قانون محض قواعد و ضوابط کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ طاقت کے ایک منظم اور مہذب اظہار میں ڈھل جاتا ہے۔اسی تناظر میں نوآبادیاتی عدالتیں جرم کی تعریف بھی خود متعین کرتی ہیں اور سزا کے معیارات بھی خود وضع کرتی ہیں۔یوں ایک ایسا دائرہ (cycle) قائم ہو جاتا ہے جس میں نوآبادی باشندہ پہلے سے ہی ایک “ممکنہ مجرم” کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کی حرکات، اس کی شناخت، حتیٰ کہ اس کی خاموشی تک کو شک کی نگاہ سے پرکھا جاتا ہے۔ نتیجتاً جرم کوئی معروضی حقیقت نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا بیانیہ بن جاتا ہے جسے استعماری طاقت اپنی ضرورت کے مطابق تشکیل دیتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قانون ایک مقدس لبادہ اوڑھ کر استعماری ڈھانچے کی توسیع کرتا ہے۔ جو بظاہر عدل، توازن اور اخلاقی برتری کی نمائندگی کرتا ہے۔ مگر اس تقدس کی حقیقت اس وقت منکشف ہوتی ہے جب اس کے پسِ پردہ کارفرما منطق کو سمجھا جائے: وہ منطق جو انصاف نہیں بلکہ قبضہ، اور تسلط کو یقینی بناتی ہے۔ فرانز فینن کے بقول ، نوآبادیاتی نظام اپنی بقا کے لیے قانون کو ایک ایسے ہتھیار میں بدل دیتا ہے جو محکوم کو نہ صرف قابو میں رکھتا ہے بلکہ اس کی مزاحمت کو بھی جرم میں تبدیل کر دیتا ہے۔

نوآبادیاتی نظام میں عدالت طاقت کے ایک منظم آلے کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہاں قانون کی تشکیل، اس کی تعبیر، اور اس کا نفاذ کچھ ایک ایسے استعمار کے تابع ہوتا ہے جو خود کو “مہذب” اور نوآبادی کو “غیر مہذب” ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے جو فرد اپنے حقِ آزادی، خودمختاری یا اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اسے قانون کی نظر میں باغی، شرپسند یا مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس مین کوئی دورائے نہیں کہ عدالت میں کھڑا نوآبادی فرد در اصل ملزم نہیں ہوتا بلکہ اصل مین انصاف کی کرسی پر بھیٹے نوآبادیاتی آلہ کار (جج)مجرم ہوتاہے لیکن استعماری بیانیے میں نوآبادی کو جو اپنے حق آزادی اور وطن کی دفاع کے لے لڑ رہا ہوتا ہے اس کو مشکوک اور مجرم قرار دیا جاتاہے۔ یہاں اصل سوال جرم کا نہیں بلکہ “جرم کی تعریف” کا ہوتا ہے۔ کون طے کرتا ہے کہ کیا جرم ہے؟ اور کس بنیاد پر؟ نوآبادیاتی طاقت اپنے مفادات کے مطابق مزاحمت کو جرم اور غلامی کو قانون پسندی قرار دیتی ہے۔ اس طرح عدالت ایک ایسا اسٹیج بن جاتی ہے جہاں انصاف کا ڈرامہ تو کھیلا جاتا ہے، مگر اسکرپٹ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔تاریخ میں ہمیں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں، جہاں آزادی کے متوالوں کو عدالتوں میں مجرم بنا کر پیش کیا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی لوگ ہیرو اور مزاحمت کی علامت بن گئے۔

اسی طرح ایڈورڈ سعید کے نظریۂ استشراق کو سامنے رکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی عدالتیں بھی ایک بیانیاتی آلہ ہیں جو “ نوآبادی ” کو ایک غیر مہذب، غیر عقلی اور نظم کے محتاج وجود کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ عدالت کے فیصلے، قوانین کی زبان، اور شواہد کی تعبیرسب مل کر ایک ایسا ڈسکورس تخلیق کرتے ہیں جو استعماری اقتدار کو فطری اور ناگزیر بنا کر پیش کرتا ہے۔
یہ عدالتیں انصاف کے بجائے “قانونی جواز” پیدا کرتی ہیں۔ یہاں انصاف کا تصور خود استعماری مفادات کے تابع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جبری قبضہ ، وسائل کی لوٹ مار، اور سیاسی و اصو لی مزاحمت کی سرکوبیان سب کو قانونی رنگ دینے کے لیے عدالتیں استعمال کی جاتی ہیں۔ اس طرح قانون ایک ایسا پردہ بن جاتا ہے جو ظلم کو نظم اور استحصال کو انصاف کے نام پر چھپا دیتا ہے۔

نوآبادیاتی عدالتوں کا ڈھانچہ ہی اس انداز سے ترتیب دیا جاتا ہے کہ نوآبادی ثقافت، ادب، روایات، زبان، تہذیب اور قانونی شعور کو شعوری طور پر حاشیے پر دھکیل دیا جائے۔ ایک اجنبی زبان، پیچیدہ قانونی اصطلاحات، اور غیر مانوس طریقۂ کار مل کر ایک ایسی علامتی و عملی دیوار تعمیر کرتے ہیں جو انصاف تک رسائی کو نہایت محدود بلکہ ناممکن بنا دیتی ہے۔ یوں قانون، جو بظاہر غیر جانبدار اور آفاقی دکھائی دیتا ہے، دراصل استعمار کے مخصوص مفادات کا ترجمان بن جاتا ہے۔ اس تناظر میں نوآبادیاتی عدالتوں کو محض عدالتی ادارے نہیں بلکہ ایک “ تھیٹر” قرار دینا زیادہ مناسب ہے، جہاں انصاف کی ادائیگی نہیں بلکہ اس کی نمائشی تشکیل ہوتی ہے۔ اسٹیج پر قانون کی بالادستی، شواہد کی جانچ اور عدل کی علامتی زبان دکھائی جاتی ہے، مگر پسِ پردہ فیصلے استعماری ضرورتوں، مقاصد اور طاقت کے توازن کے مطابق طے ہوتے ہیں۔یہ عدالتیں استعماری نظام کو برقرار رکھنے کا نہ صرف ذریعہ اور سٹپنی ہوتے ہیں بلکہ انھیں اخلاقی جواز بھی فراہم کرتے ہیں۔ وہ ظلم کو قانون کا لبادہ پہناتی ہیں اور مزاحمت کو جرم میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ اس طرح نوآبادیاتی عدالت ایک ایسے بیانیے کی تشکیل کرتی ہے جس میں قابض قوت “منصف” اور محکوم “ملزم” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

تاریخ کا مستند سچ یہی ہے کہ جو استعماری ادارے “جرم” کی تعریف متعین کرتے ہیں، وہ خود سب سے بڑے تاریخی جرائم کے معمار نکلتے ہیں۔ نوآبادیاتی عدالتیں اس حقیقت کی زندہ علامت ہے یہ بظاہر یہ ادارے عدل، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے دعوے کے ساتھ قائم کیے جاتے ہیں، مگر درحقیقت ان کی بنیاد ایک ایسے نظام پر ہوتی ہے جو خود جبر، استحصال اور غیر مساوی طاقت کے رشتوں پر قائم ہوتا ہے۔ یہاں قانون ایک اخلاقی اصول نہیں بلکہ ایک سیاسی ہتھکنڈہ بن جاتا ہےایک ایسا نقاب جو سامراج کے چہرے کو مہذب بنا کر پیش کرتا ہے۔

یہ عدالتیں جرم کو اس طرح متعین کرتی ہیں کہ مزاحمت خود ایک “جرم” بن جائے۔ جو فرد اپنے حق، اپنی شناخت، یا اپنی آزادی کے لیے آواز اٹھاتا ہے، اسے قانونی اصطلاحات میں “باغی”، “دہشت گرد” یا “مجرم” قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، وہ قوتیں جو پورے سماج کو غلامی، لوٹ مار اور تباہی کا شکار بناتی ہیں، خود کو قانون کا محافظ ظاہر کرتی ہیں۔ یوں ایک ایسا الٹ نظام تشکیل پاتا ہے جہاں اصل مجرم منصف کے منصب پر بیٹھا ہوتا ہے اور مظلوم کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ عدالتوں سے مختلف فیصلہ سناتی ہے۔ وقتی طور پر شاید استعماری عدالتیں اپنے فیصلوں کے ذریعے ایک بیانیہ مسلط کر دیتی ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی فیصلے تاریخ کے کٹہرے میں چیلنج ہو جاتے ہیں۔ جو کل “مجرم” تھا، آج وہی مزاحمت کی علامت بن جاتا ہے؛ اور جو کل “قانون” تھا، وہ آج جبر کی دستاویز کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔تاریخ کا فیصلہ قانون کی کتابوں سے نہیں بلکہ انسانوں کی جدوجہد، شعور، اور یادداشت سے ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں استعماری عدالتوں کا بنایا ہوا “سچ” ٹوٹتا ہے، اور ایک نیا سچ جنم لیتا ہےوہ سچ جو طاقت کے نہیں بلکہ انصاف کے قریب تر ہوتا ہے۔ تاریخ صرف فاتحین یا قابضین کی لکھی ہوئی کہانی نہیں رہتی، بلکہ محکوموں کی جدوجہد اور ان کے حاصلات بھی وقت کے ساتھ ایک متوازی سچائی تشکیل دیتی ہے۔ نوآبادیاتی عدالتیں اپنے وقت میں فیصلہ صادر کرتی رہیں، مگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ تاخیر سے آتا ہےاور اکثر الٹ ہوتا ہے۔تاریخ کے دھارے میں ہم دیکھتے ہیں کہ نوآبادیاتی عدالتوں نے جن لوگوں کو مجرم قرار دیا، وہی اکثر بعد میں آزادی، خودمختاری اور انسانی وقار کے علمبردار ثابت ہوئے۔ اور جو طاقتیں خود کو قانون کا محافظ کہتی رہیں، وہی تاریخ کے بڑے استعماری جرائم کی ذمہ دار ٹھہریں۔ یہی وہ تاریخی الٹ پھیر ہے جسے مزاحمتی شعور “تاریخی انصاف” کہتا ہے۔
اس پورے نظام کا سب سے گہرا پہلو یہ ہے کہ استعماری عدالت ظلم کو غیر مرئی بنا دیتی ہے۔ وہ تشدد کو “قانونی کارروائی”، قبضے کو “انتظامی ضرورت”، اور غلامی کو “تہذیبی اصلاح” کا نام دے دیتی ہے۔ یوں ظلم اپنی اصلی شکل کھو کر ایک رسمی اور قابلِ قبول حقیقت بن جاتا ہے۔
مگر تاریخ جامد نہیں رہتی۔ محکوم اقوام کا شعور وقت کے ساتھ اس نقاب کو چاک کرتا ہے۔ وہ عدالتیں جو کبھی حتمی سمجھی جاتی تھیں، بعد میں خود تاریخ کی عدالت میں سوال بن جاتی ہیں۔

فیڈل کاسترونے اپنے مشہور عدالتی بیان “History Will Absolve Me” (تاریخ مجھے بری کرے گی )میں یہی دعویٰ کیا تھا کہ استعماری عدالت کا فیصلہ حتمی نہیں اصل فیصلہ تاریخ کرے گی۔ اس وقت انہیں مجرم قرار دیا گیا، مگر بعد میں وہی شخص کیوبا کے انقلاب کی علامت بن گیا۔اسی طرح نیلسن منڈیلا کو جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے دہشت گرد اور ریاست دشمن قرار دیا۔ Rivonia Trial میں انہیں عمر قید سنائی گئی، لیکن تاریخ نے انہیں نہ صرف بری کیا بلکہ وہی شخص بعد میں ایک آزاد قوم کا صدر بنا اور اور انہیں نوبل امن انعام ملا عمر مختیار، جنہیں اطالوی نوآبادیاتی عدالتوں نے باغی اور مجرم قرار دے کر پھانسی دی، آج مزاحمت، وقار اور آزادی کی علامت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح چے گویرا کو مختلف ریاستی بیانیوں میں دہشت گرد کہا گیا، مگر تاریخ نے انہیں ایک انقلابی نظریے، مزاحمت اور عالمی انصاف کی جدوجہد کی علامت کے طور پر محفوظ کیا۔
یہ تمام مثالیں اس بنیادی تضاد کو ظاہر کرتی ہیں کہ تاریخ کا فیصلہ مختلف ہے۔ تاریخ نہ صرف فیصلوں کو ریکارڈ کرتی ہے بلکہ ان کے پس منظر، طاقت کے توازن، اور اخلاقی جواز کو بھی پرکھتی ہے۔ اسی لیے جو فیصلے ایک دور میں “انصاف” سمجھے جاتے ہیں، وہی بعد میں “ناانصافی” کی مثال بن جاتے ہیں۔عدالتوں کے فیصلے وقتی ہوتے ہیں، مگر تاریخ کا فیصلہ طویل اور زیادہ ہمہ گیر ہوتا ہے۔جہاں عدالتیں قانون کی بنیاد پر فیصلہ دیتی ہیں، وہاں تاریخ اخلاق، حقانیت اور انسانی وقار کی بنیاد پر فیصلہ سناتی ہے۔

اس سارے تناظر کو لے کر گزشتہ دنوں بی وائی سی کی رہنما گودی گلزاری بلوچ کی قابض عدالت میں پیشی، اسی تلخ تاریخی اور سیاسی حقیقت کا ایک واضح عکس ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے بیان میں نہ صرف اپنے اور اپنے گرفتار ساتھیوں کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا، بلکہ اس پورے استعماری نظامِ انصاف کی بنیادی ساخت، اس کے طریقۂ کار اور اس کی غیر جانبداری کے دعووں پر بھی سنجیدہ اور اصولی سوالات اٹھائے۔ ان کا یہ موقف محض ایک انفرادی دفاع نہیں تھا، بلکہ ایک وسیع تر قومی وسیاسی تناظر میں استعماری نظام کے خلاف مجموعی بلوچ بیانیہ تھا یہ پیشی دراصل کسی ایک فرد کا عدالتی معاملہ نہیں تھی بلکہ ایک پورے تاریخی و سیاسی پس منظر کی جھلک تھی، جس میں عدالت “غیر جانبدار ثالث” کے بجائے ایک پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کی توثیق کرنے والا ادارہ بن جاتی ہے۔

انہوں نے جن الزامات کو رد کیا، وہ محض دفاعی مؤقف نہیں تھا بلکہ اس پورے استعماری زہنیت پر ہتھوڑا کا ضرب تھا جس میں مقدمہ قائم ہونے سے پہلے ہی جرم کا تصور تیار کر لیا جاتا ہے۔ ان کا مؤقف اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ جب ریاست خود تفتیش، استغاثہ اور بیانیہ تینوں کردار ایک ساتھ ادا کرے تو پھر انصاف کا امکان کم اور جھوٹے فیصلے کی رسم زیادہ رہ جاتی ہے۔گودی گلزاری بلوچ کے الفاظ کہ “ہمیں صاف کہا جاتا ہے کہ ہمیں وہی کرنا ہے جو اوپر سے حکم آئے” محض ایک انکشاف نہیں بلکہ استعمار کے اس مکروہ چہرے کی جھلک ہیں جہاں عدالتیں انصاف کے آزاد ادارے نہیں رہتیں بلکہ ایک رسمی کارروائی میں بدل جاتی ہیں۔ اس نظام میں ججوں کا کردا پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کے مطابق ہوتا ہے، وہ صرف دیے گئے ڈائیلاگ ادا کرتے ہیں۔

تاریخ کا اٹل سبق یہی ہے کہ استعماری یا طاقتور نظام ہمیشہ خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی نظام اپنے ہی تشکیل دیے گئے بیانیے کے اندر پیدا ہونے والے تضادات اور بوجھ تلے کمزور پڑنے لگتے ہیں۔
نوآبادیاتی عدالتیں وقتی طور پر جھوٹے فیصلے سنا سکتی ہیں، مگر وہ تاریخ کے وسیع تر تناظر میں محض عارضی بیانیے ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ کسی ایک لمحے یا ایک فیصلے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو واقعات، جدوجہد اور انسانی شعور کے ارتقاء سے تشکیل پاتا ہے۔ اسی لیے وہ فیصلے جو کسی دور میں حتمی سمجھے جاتے ہیں، وقت کے ساتھ اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتے ہیں اور خود سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔مزاحمت کی تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ سچ کو دبایا جا سکتا ہے، مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔ جب ریاستی بیانیہ اپنی ہی اندرونی کمزوریوں کا شکار ہو جاتا ہے، تو وہی دبائے ہوئےآوازیں نئے امکانات کے ساتھ ابھرتی ہیں۔ یہ آوازیں صرف احتجاج نہیں ہوتیں بلکہ ایک متبادل اخلاقی اور سیاسی تصور کو جنم دیتی ہیں، جو بالآخر تاریخ کے دھارے کو موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
استعمار کا ہر نظام اپنی بقا کے لیے جواز تلاش کرتا ہے، مگر تاریخ کا پیمانہ محض طاقت نہیں بلکہ سچ، انصاف اور انسانی وقار ہوتا ہے۔ اسی پیمانے پر پرکھے جانے کے بعد ہی یہ طے ہوتا ہے کہ کون سا بیانیہ وقتی تھا اور کون سا دائمی۔

گودی گلزاری بلوچ کی پیشی محض ایک فرد کی پیشی نہیں، بلکہ ایک نظریے کی پیشی ہےوہ نظریہ جس میں سچ کو دبایا نہیں جا سکتا، انصاف کو خریدا نہیں جا سکتا، اور مزاحمت کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس پیشی کو صرف ایک عدالتی کارروائی کے طور پر دیکھا جائے تو یہ اس واقعے کی معنوی وسعت کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ درحقیقت، یہ پیشی ایک شخص کی نہیں بلکہ ایک فکر، ایک تحریک، ایک بیدار شعور اور ایک تاریخی سوال کی پیشی ہے۔ وہ سوال جو قابض اور مقبوض کے باہمی تعلق کو چیلنج کر تاہے۔ جہاں کٹہرہ صرف جسموں کے لیے نہیں بلکہ نظریات کے لیے بھی قائم کیا جائے، وہاں انصاف محض ایک عمل نہیں رہتا بلکہ خود ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ اور جب کسی استعماری ادارے میں نظریات کو کٹہرے میں کھڑا کیا جانے لگے، تو انصاف کا مفہوم اپنی معنویت کھونے لگتا ہے۔

تاریخ کا اصول یہ ہے کہ وہ فوری انصاف نہیں کرتی۔ وہ وقت لیتی ہے، بظاہر خاموش رہتی ہے، اور پھر ایک دن ایسا فیصلہ سناتی ہے جو کسی بھی استعماری عدالتی حکم سے زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔ وہی تاریخ، جو کبھی مزاحمت کرنے والوں کو مجرم قرار دینے والے بیانیوں کو عارضی سچ کے طور پر قبول کر لیتی ہے، بعد میں انہی مزاحمت کاروں کو شعور اور آزادی کی علامت بنا دیتی ہے۔
اسی لیے نوآبادیاتی عدالت اور تاریخ کی جیوری اکثر ایک دوسرے کے برخلاف فیصلے دیتی ہیں۔نوآبادیاتی عدالت اور تاریخ کے جیوری کے مابین تصادم دراصل دو مختلف اصولِ انصاف کے ٹکراؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ نوآبادی عدالت ایک مخصوص طاقت کے ڈھانچے کے تحت کام کرتی ہے، جہاں قانون کی تشکیل اور اس کا اطلاق اکثر حکمران قوت کے مفادات سے جڑا ہوتا ہے۔ اس نظام میں انصاف ایک معروضی قدر کے بجائے ایک انتظامی آلہ بن جاتا ہے، اس کے برعکس، تاریخ کا جیوری کسی مخصوص وقت، ادارے یا اقتدار کا پابند نہیں ہوتا۔ یہ ایک طویل المدتی، ارتقائی اور نسبتاً غیر جانبدار عمل ہے، جو واقعات، بیانیوں اور نتائج کو وقت کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ جہاں نوآبادی عدالت فوری فیصلے سناتی ہے، وہیں تاریخ ان فیصلوں کے پس منظر، محرکات اور اثرات کو دیکھتے ہوئے ایک وسیع تر تناظر میں فیصلہ صادر کرتی ہے۔ نوآبادی عدالت اس قانون کی نمائندگی کرتی ہے، جو ریاست بناتی اور نافذ کرتی ہے، چاہے اس میں اخلاقی جواز موجود ہو یا نہ ہو۔ اس کے برعکس، تاریخ کا جیوری "فطری انصاف” (Natural Justice) اور اخلاقی صداقت کے اصولوں کے قریب تر ہوتا ہے، جہاں انصاف کا معیار انسانی وقار، آزادی اور حق پر مبنی ہوتا ہے۔
اسی بنیاد پر یہ تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ نوآبادی عدالت کسی مزاحمتی عمل کو بغاوت یا جرم قرار دے سکتی ہے، کیونکہ وہ ریاستی اختیار کو چیلنج کرتا ہے۔ لیکن تاریخ اسی عمل کو آزادی، یا انصاف کی جدوجہد کے طور پر تسلیم کر سکتی ہے، کیونکہ وہ نتائج اور اصولوں کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہے۔

آج اگر اپنی آزادی اور حق کے لیے جدوجہد کرنے والے مزاحمت کاروں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے تو یہ کوئی نیا منظر نہیں۔ تاریخ اس طرح کے مناظر سے بھری پڑی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہر دور اپنے آپ کو منفرد اور غیر معمولی سمجھتا ہے، حالانکہ اس کے کردار اکثر وہی پرانا اسکرپٹ دہرا رہے ہوتے ہیں۔ مگر اس تکرار کے باوجود ایک حقیقت کبھی تبدیل نہیں ہوتی: مزاحمت کی آوازیں دبائی نہیں جا سکتیں۔ یہ وقت کے ساتھ ختم ہونے کے بجائے مزید پختہ، گہری اور مؤثر ہوتی جاتی ہیں۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نظریات کو پابندِ سلاسل نہیں کیا جا سکتا۔ افراد قید ہو سکتے ہیں، آوازوں پر قدغن لگائی جا سکتی ہے، مگر افکار ہمیشہ اپنا راستہ خود بنا لیتے ہیں۔ یہی نظریات وہ بیج ہوتے ہیں جو وقت کی زمین میں گرتے ہیں اور ایک دن تاریخ کے تناور درخت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

میں فیڈل کاسترو کے الفاظ “تاریخ مجھے بری کرے گی” کو ایک نئے زاویے سے دہراتے ہوئے اسے “تاریخ ہمیں بری کرے گی” کے طور پر بیان کرتا ہوں۔ یہ دراصل وقت کے ساتھ ایک علامتی مکالمہ ہے، جو تاریخی اعتماد (historical confidence) کی ایک صورت ہے اور انقلابی فکر کی بنیادی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔مجھے اس امر پر گہرا یقین ہے کہ قابض طاقتوں کے ادارے تاریخ کے حتمی منصف نہیں ہوتے۔ انسانی آزادیوں کی جدوجہد کی تاریخ میں انصاف فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ یہ وقت کی تہوں میں دب کر آہستہ آہستہ ابھرتا ہے۔وہ کردار جو اپنے عہد میں مجرم، باغی یا ریاست مخالف قرار دیے جاتے ہیں، اکثر آنے والے زمانوں میں مزاحمت، حق اور اجتماعی شعور کی علامت بن جاتے ہیں۔ اسی لیے تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ ایک اخلاقی میزان بن جاتی ہے، جو تاخیر سے ہی سہی مگر اپنا فیصلہ ضرور سناتی ہے۔

یہی وہ تاریخی تناؤ ہے جہاں نوآبادیاتی جھوٹ” اور “تاریخی سچ” ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ یہ دو مختلف زاویے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ “جرم” اور “موقف” کے درمیان ایک نہایت باریک اور پیچیدہ لکیر موجود ہوتی ہے۔ قانون اکثر ریاستی فریم ورک کے اندر کسی عمل کو جرم قرار دیتا ہے، جبکہ تاریخ اسی عمل کو وقت گزرنے کے ساتھ مزاحمت، شعور یا جدوجہد کے تناظر میں دیکھتی ہے۔
اگر اسے ایک بنیادی نکتے میں سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ نہ فاتحین کی اجارہ داری ہوتی ہے اور نہ ہی قابضین کی ملکیت۔ تاریخ دراصل ان اقوام، افراد اور اجتماعی شعور کی تشکیل ہوتی ہے جو اپنے حق، شناخت اور آزادی کے لیے مزاحمت، جدوجہد اور فکری بیداری کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ