
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب شروع ہونے والی جھڑپوں نے دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ دونوں جانب سے جانی نقصانات کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز نے متعدد پاکستانی چیک پوسٹس کو نشانہ بنایا اور بعض پر قبضہ بھی کیا۔ ان کے مطابق کارروائیوں میں پاکستانی فوج کے 55 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ چند اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا گیا۔ طالبان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ حملے رات 12 بجے نائب امیر کے احکامات پر روک دیے گئے تھے۔ طالبان نے اپنے آٹھ جنگجوؤں کی ہلاکت اور 11 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی حکومت نے ان حملوں کو “بلا اشتعال” قرار دیتے ہوئے افغانستان میں جوابی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے، جنہیں “آپریشن غضب للحق” کا نام دیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق کابل، پکتیکا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں افغان طالبان کے 133 اہلکار ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کو “کھلی جنگ” کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ حکام کا مزید دعویٰ ہے کہ طالبان کے دو کور ہیڈکوارٹر، دو اسلحہ ڈپو، ایک لاجسٹک گودام، تین بٹالین ہیڈکوارٹر، دو سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 80 سے زائد ٹینکس تباہ کیے گئے۔
آزاد ذرائع ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔ مبصرین کے مطابق صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ موجود ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
