
کوئٹہ میں جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری احتجاجی سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کا احتجاجی کیمپ آج 6135ویں روز میں داخل ہو گیا۔ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی بے حسی برقرار ہے اور متاثرہ خاندانوں کو تاحال انصاف نہیں مل سکا۔
کیمپ کے دورے کے دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کی اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر خاندان شدید ذہنی و جذباتی اذیت کا شکار ہیں۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل نہ صرف آئین پاکستان بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک مائیں، بہنیں اور بچے انصاف کے لیے در بدر ہوتے رہیں گے۔
نیاز محمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ قانونی تقاضے پورے ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وی بی ایم پی کی پرامن جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک لاپتہ افراد کو انصاف نہیں ملتا اور ملک میں آئین و قانون کی بالادستی قائم نہیں ہو جاتی۔
