تحریر: محمد یوسف بلوچ

دنیا میں ہمیشہ معروف مفکر و دانشور طبقہ تنقیدی عمل کو ایک ایسا عمل تصور کرتا ہے کہ تنقید فرد پر بھی ہو سکتی ہے اور کسی تنظیمی ادارے یا لیڈر شپ پر بھی۔ تنقیدی عمل دراصل سمندر کی مانند ہوتا ہے جو ہر گند اور کچرے کو اپنے اندر سے نکال کر سمندر کو پاک کر دیتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر فکری و شعوری انداز میں تنقیدی عمل کو مخلصانہ طریقے سے جاری رکھا جائے تو معاشرے میں گندگی کے رجحانات پیدا ہونا ممکن نہیں رہتا، کیونکہ ہر فرد شعوری انداز میں بلا خوف و خطر تنقیدی عمل کو اپنا کر تنقیدی اصولوں کی پاسداری کرے گا۔
تنقید سے مراد یہی ہے کہ یہ احتسابی عمل کے لیے موزوں ہے، جو ہر تحریک کے انقلابی جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں، پارٹیوں اور مسلح تنظیموں کی فعالیت، وابستگی اور کردار کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتا ہے۔ اگر اسی عمل کو مخلصی کے ساتھ ہمارے کیڈرز انقلابی اداروں میں اپنا لیں تو تنقیدی عمل کے ذریعے تحریکوں، پارٹیوں یا تنظیمی ڈھانچوں میں شفافیت، مخلصی اور سیاسی و نظریاتی بلوغت کی رجحان پیدا ہوگی، جس سے بلوچ قوم کی آزادی کے سفر میں سرگرم سیاسی و مسلح جدوجہد کرنے والے ادارے اپنے قومی مقاصد و اہداف حاصل کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہو کر تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تنقیدی عمل انا پرستی، آزاد خیالی یا عدم برداشت کے دائرے میں ممکن نہیں۔ اس کے لیے دور اندیشی، برداشت، استقامت، مخلصی اور ایمانداری کا موجود ہونا لازمی شرائط ہیں، جو آج کل ہمارے غلامانہ سماج میں انقلابی اکابرین، دوستوں، تنظیمی قیادت اور اداروں میں ناپید ہیں۔
ہر ایک اپنی خواہشات کی چار دیواری میں انا پرستی کے خول میں قید ہے۔ یہی رویہ دشمن کے اداروں کی طرح ہماری تنظیموں میں بھی اپنے مفادات کی زینت بن چکا ہے۔ یہی رجحان اور رویے ہمیشہ کسی بھی تحریک کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ہماری تحریکیں اپنے قومی مقاصد کے حصول میں قاصر رہتی ہیں۔
ہم اپنی تحریکی جدوجہد کے طویل دورانیے میں اکثر یہ دیکھتے اور محسوس کرتے آئے ہیں کہ ہماری تحریک میں مثبت، شعوری تنقید اور خود تنقیدی کو یا تو ذاتی اختلافات، کردار کشی، انا پرستی اور عدم برداشت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے یا پھر اسے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں باہمی فاصلے اور اختلافات پیدا ہو کر تنظیمی اور تحریکی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
یوں تحریک کو بالآخر ذاتی مفادات اور شخصی وابستگیوں سے جوڑ دیا جاتا ہے، اور ناکامیوں و نقصانات کا بوجھ ایک دوسرے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ہر کوئی خود کو بری الذمہ قرار دے کر مطمئن ہو جاتا ہے، بلکہ بعض اوقات اس پر فخر بھی محسوس کیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں تحریک میں دی گئی تمام قربانیاں ضائع ہونے کا سبب بنتی ہیں۔ یہ صورتحال تحریکی پیش رفت اور پائیداری کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔
ج کی پُرآشوب تحریکی دورانیہ جس کی بنیاد تحریک میں نظریاتی کیڈرز، مخلص مسلح جہدکاروں اور سیاسی ورکروں کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم نے اپنے لہو سے پروان چڑھائی، جس کو اکثر و بیشتر آج ہم شعوری سیاسی و انقلابی فلسفہ قرار دیتے ہوئے خوش فہمی میں مبتلا ہو رہے ہیں، اس میں بھی ہمیں فرسودہ قبائلی رویہ یا لاشعوری سوچ کے ساتھ دشمن کی جارحانہ پالیسیوں اور رویوں کی جھلک دیکھنے اور محسوس کرنے کو مل رہی ہے۔
جس کی اصلاح کرنا ہمارے مخلص فکری قائدین، نظریاتی دانشور ساتھیوں اور مفکر دوستوں کے ساتھ ساتھ مسلح جہدکاروں کی قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ سابقہ ناکام تحریکوں کے نقصانات و ناکامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تاریخی غلطیوں، کمزوریوں اور رویوں کا ازالہ کریں، اور تنقیدی و خود تنقیدی فلسفے پر عمل درآمد کرتے ہوئے احتسابی عمل کو جاری رکھیں۔
اور بلوچ تحریک کو مخلص و حقیقی انقلابی تحریک کے سانچے میں ڈھال کر ایک مضبوط اور نظریاتی و فکری انقلابی سیاسی پارٹی کی شکل دیں، جس میں مضبوط ادارے اور مخلص قیادت ایماندارانہ نظریاتی بنیادوں پر قیادت فراہم کریں، تاکہ ہماری تحریک آزادی اپنے قومی اہداف حاصل کر سکے۔
کیونکہ ہماری تحریک کا مقصد صرف قابض دشمن کی غلامانہ گرفت سے آزادی نہیں بلکہ قومی نفسیاتی و فرسودہ سماجی غلامانہ سوچ سے مکمل آزادی بھی ہے، تاکہ ایک سیکولر، غیر آمرانہ بلوچ قومی ریاست کی تشکیل ہو سکے اور ایک باوقار قوم کی حیثیت سے آزاد زندگی گزارنے کا حق حاصل کیا جا سکے۔
ایک ایسی ریاست جو امن و امان اور خوشحالی کے ساتھ ترقی یافتہ ہو کر دنیا کے نقشے پر اپنا وجود قائم رکھے۔ جو ماضی کی جذباتی اور وقتی ردعمل کی تحریکوں میں قبائلی سوچ اور رویوں کے باعث وجود میں نہ آ سکیں اور جس کے نتیجے میں بلوچ قوم مایوسی کی دلدل میں دھکیل دی گئی اور زیرِ زمین چلی گئی۔
اس حالیہ جاری قومی تحریکِ آزادی کی پذیرائی کے لیے ہماری موجودہ قیادت اور کیڈرز کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی سیاسی بصیرت اور قومی فرائض کو قومی جذبے کے سانچے میں ڈھال کر نبھائیں، تاکہ تاریخِ عالم میں بلوچ قوم اپنی قومی تحریکِ آزادی کو بامقصد بنا کر قومی اہداف و مقاصد حاصل کرنے میں سرخرو ہو سکے، اور اپنی آزادی کو سیاسی بصیرت اور بلوغت کے ساتھ باوقار بنا سکے، اکثر اوقات ہم اپنی صفوں میں تنقید کرتے رہے ہیں لیکن وہ تنقیدی معیار اور اصولی تنقید کے برخلاف، لاشعوری طور پر جہالت، انا پرستی، پسند و ناپسند یا ذاتی مفادات کی بدبو دار اختلافی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
تنقید برائے تنقید نہ ہو، بلکہ تنقید برائے تعمیری اصولوں پر ہو تو یہ پائیدار بن کر تحریک کو منزل پانے میں کامیابی فراہم کر سکتی ہے، اور یوں قومی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے۔
مجھے خود یاد ہے کہ جب پارٹی ورکروں یا پارٹی ذمہ داران پر کوئی ممبر یا جہدکار تنقید کرتا تو بدلے میں اسے تنقید کا نشانہ بنا کر تنقید سے روکنے اور خاموش رہنے کی کوشش کی جاتی رہی، جو پارٹی، تنظیمی اور تحریکی بنیادی مفادات کے برخلاف تھا۔
اکثر اوقات ہم ریجن، یونٹ یا نیٹ ورک کے عہدیداروں اور ہمسفر ساتھیوں پر تنقید کرنا چاہتے تو ہمیں جواب میں تنقید کا نشانہ بننے کی دھمکی دی جاتی۔ اسی طرح اگر سی سی میٹنگوں میں، جو پالیسی ساز ادارہ ہے، کوئی ممبر تنقید کرنے کی جرأت کرتا تو لازمی طور پر اسے دوسری میٹنگ میں بے جا تنقید کا نشانہ بنا کر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ یہ رویہ دراصل تنقید کے سامنے رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے جو تنظیمی اور تحریکی اصولوں کے منافی ہے۔
یہ چند حقائق ہیں جو عام ورکروں اور دوستوں کو تنقید سے روکتے ہیں۔ یہ رجحان ہماری انقلابی تحریک کی سیاسی ساکھ اور مسلح جدوجہد کے لیے تاریخی طور پر نقصان دہ ثابت ہوا ہے اور تحریک کے لیے فائدہ مند نہیں۔
اس رجحان کی بنیاد پر کوئی بھی ممبر یا جہدکار کسی سیاسی یا مسلح لیڈر، ان کے طریقہ کار یا رویوں پر تنقید کرنے کی جرات نہیں کر سکتا، اور نہ ہی کسی سیاسی کارکن، لیڈر شپ، مسلح تنظیمی کمانڈرز، جہدکاروں یا ذمہ داران پر تنقید کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔
یہی سوچ اور رویہ تحریکِ آزادی کے لیے رکاوٹ بن کر ناکامی کی پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اب اپنی ماضی کی کوتاہیوں، کمزوریوں کے ساتھ ساتھ انا پرستی، جابرانہ رویوں اور تاریخی غلطیوں سے سبق لینا چاہیے اور اپنی قومی تحریک کو حقیقی سمت فراہم کرنی ہوگی، جس کی ہماری تحریک کو اشد ضرورت ہے، تاکہ تحریک کو کامیابی کی جانب گامزن کیا جا سکے کیونکہ آزادی کی کامیابی ایک مضبوط نظریاتی، فکری اور قومی انقلابی پارٹی کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ایک مضبوط پارٹی اور مضبوط اداروں کے بغیر تحریک ناممکن اور نامکمل نظر آتی ہے۔ جس سے تحریک اپنے اصل مقاصد حاصل کرنے میں دشواری محسوس کرتی ہے اور دیرپا نہیں رہتی۔ اس کی ذمہ داری لیڈرشپ، سیاسی کارکنوں، مرکزی اداروں، اور سپریم کونسل پر عائد ہوتی ہے، جو پالیسی ساز ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلح جہدکاروں پر بھی مشتمل ہے، کیونکہ جب پارٹی اور ادارے مضبوط نہ ہوں تو احتسابی عمل ناممکن ہو جاتا ہے۔
کیا آج کے اس خونی اور پُرتشدد تحریکی جدوجہد میں بھی ہمارے قائدین اور آزادی کے رفقائے کار دوست دیوتا بن کر بلوچ قوم کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں گے؟ نہیں، اب ہمیں اپنی اپنی سمتیں درست کر کے ماضی کی خوش فہمیوں کے خول سے نکلنا ہوگا۔
مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ایک ملاقات میں واجہ خیر بخش مری نے اپنی جدوجہد کی ناکامیوں کی داستان سناتے ہوئے کہا کہ "تحریک کی ناکامی کے بعد جب ہم کابل سے واپس کوئٹہ پہنچنے والے تھے تو مجھے (خیر بخش مری) خوف و ڈر تھا کہ کہیں بلوچ قوم ہماری ناکام واپسی پر گندے انڈوں اور ٹماٹروں سے ہمارا استقبال نہ کرے۔ مگر پہنچتے ہی معلوم ہوا کہ اس وقت بھی بلوچ قوم لاشعور تھی اور ہمارا استقبال پھولوں اور ہاروں سے کیا جا رہا تھا۔ وہ یہ سوچ بھی نہ سکے کہ ہماری لیڈرشپ ناکامی کے بعد واپس آ رہی ہے۔”
میں نے ہنستے ہوئے نواب صاحب سے کہا "معذرت نواب صاحب، آج 90ء کا دور نہیں بلکہ 2010 ہے۔ آج سیاسی پارٹیوں کی وجہ سے بلوچ قوم کا بچہ بچہ باشعور ہو چکا ہے اور یہ تحریک اب باشعور و تعلیم یافتہ نوجوانوں، شیر دل ماؤں اور بہنوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔”
میں نے مزید کہا کہ "آپ لوگوں نے سیاست کو پسِ پشت رکھ کر اپنے قبائلی نظام کو ایک فولادی دیوار سمجھ لیا اور صرف مسلح جدوجہد اور بندوق کی بیرل سے نکلی ہوئی گولی کی آواز کو طاقت سمجھ کر آزماتے رہے۔ جس کی پاداش میں قومی تحریک بلوچ عوام میں جڑ نہیں پکڑ سکی اور عوامی آواز سے محروم ہو کر ناکام ہوئی۔”
لیکن اس جاری تحریک میں سیاسی بلوغت کے شعوری دائرے کے اندر مسلح دوستوں کے ساتھ سیاسی لیڈرشپ، نظریاتی کارکنان اور بلوچ شیر دل ماؤں اور بہنوں کی سرخ لہو کے ساتھ ساتھ سیاسی آوازوں نے تحریک کو بلوچ کے ہر محلے، گاؤں اور بستی میں جنم دیا اور بیرونی دنیا تک اپنی آزادی کے پیغامات پہنچائے۔ جس سے بندوق کے بیرل سے نکلنے والی آواز کو بھی عوامی حمایت میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
اگر خدا نخواستہ اب ایسا مرحلہ آیا تو بلوچ قوم اپنی فرزندوں کے بہتے ہوئے لہو، ماؤں کے آنسوؤں اور بہنوں کے کھینچے ہوئے دوپٹوں کی لاج کی اُن سے حساب لے گی۔ وقت بدل چکا ہے، بلوچ لیڈروں اور جہدکاروں کو خود کو بدلنا ہوگا کیونکہ آج کی جاری تحریک عام بلوچ عوام کے شعور میں پیوست ہو چکی ہے۔ تاریخ کی بے رحم تلوار اُن کے سروں پر لٹک رہی ہے۔
وقت اور حالات کا یہی تقاضا ہے کہ ہم آزادی پسند جہدکار اور لیڈرشپ اپنے اپنے سمت درست کریں اور تحریکِ آزادی کو فطری، فکری اور نظریاتی بنیادوں پر از سرِ نو تشکیل دیں تاکہ اپنے قومی اہداف و جہات کو منزل تک پہنچانے میں مخلصی اور ایمانداری کے ساتھ کردار ادا کر سکیں، تاکہ ہم تاریخ کے صفحات میں بلوچ قوم اور تحریکی شہداء کے مجرم نہ ٹھہرائے جائیں۔
