
تحریر: محمد یوسف بلوچ
ہر قوم کی مزاحمتی تحریک میں قومی پارٹیوں نے اہم کردار ادا کرتےہوئے قومی بقا ، آزادی ، انسانی حقوق اور روشن مستقبل کے لیے مضبوط قومی ادارے تشکیل دے کر اپنا منزل حاصل کیا۔ مگر بلوچ قوم قبائلی شخصیات کے تسلط کے باعث موثر قومی اداروں کی تشکیل میں ناکام رہی ہے۔ پاکستانی قبضے کے خلاف بلوچ قوم کی مزاحمتی تحریک کی ابتداء 15 مئی 1948 کو آغا عبدالکریم کے رہنمائی میں ہوئی۔ باشعور ساتھیوں کی رفاقت میں پاکستانی قبضے کے خلاف شروع کردہ اس مزاخمتی تحریک سے لے کر 1973 تک بھٹو آمریت کی سفاکیت کے خلاف تسلسل کے ساتھ بلوچ قومی تحریک مختلف رہنماؤں کی قیادت میں جاری رہی ، با اثر قیادت لیکن تنظیمی ادارے کمزور ۔ جس سے ہمیشہ قلیل مدت میں ہی یہ تحریکیں دم توڑ دیتیں ۔بلند و بانگ دعوے اور قیادت کے انتہائی فیصلے ان ادوار میں مرکزی قیادت کی تبدیلی کے باجود وقتی ابھار ثابت ہوئے۔
ان ناکام تجربات کے بعد بلوچ آزادی پسند نظریاتی کیڈرز نے شدت کے ساتھ تنظیمی اداروں کی ضرورت محسوس کی۔ گوکہ 1920 میں عبدالعزیز کرد اور یوسف عزیز مگسی جیسے رہنماؤں نے قبائلیت سے آگے بڑھ کر سیاسی سوچ کے ساتھ نئی سیاسی قوت کو منظم کرنے کی کوشش کی تھی ، جس کا حاصل ’ کلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی ‘ تھی۔ 1986 میں بلوچ قومی مزاحمتی تحریک کو انقلابی سیاسی پلیٹ فارم فراہم کر نے انفرادیت پسندی اور شخصی آمریت کے چنگل سے نکالنے کے لیے سیاسی کیڈرز نے عبدالعزیز کرد اور یوسف عزیز مگسی کی فکر کو زندہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سوچ کے روح رواں شہید فدا احمد تھے۔انھوں نے بی ایس او کے سابقہ نظریاتی کیڈرز کو اکھٹا کیا اور 24 دسمبر 1987 کو ’ بلوچ نیشنل یوتھ موومنٹ ‘ ( بی این یم وائی ایم ) کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی ، نیپ کے سایے تلے ہونے کے باوجود یہ فکری حساب سے بلوچ قوم کی پاکستان کے زیرقبضہ دور میں پہلی سیاسی تنظیم تھی۔ بلوچ قومی وحدت کی بحالی اور حق خود ارادیت کا حصول اس تنظیم کے بنیادی ایجنڈے تھے۔
بدقسمتی سے قیادت میں شہید فدا ہی واحد شخصیت تھے جو نہ صرف تنظیم کے مقصد کے حوالے سے واضح موقف رکھتے تھے بلکہ جرات مندانہ اور نظریاتی قیادت کے لیے اہل ترین شخص تھے۔ لیکن بی این وائی ایم کی تشکیل کے ساتھ ہی لیڈر شپ بی ایس او کے روایتی طفیلی قیادت کے ہاتھ چلی گئی ۔جو تنظیم کے اعلی عہدوں میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن قیادت کے جوہر اور دور اندیشی سے خالی تھے۔ بی این وائی ایم کے پہلے صدر ڈاکٹر حئی منتخب ہوئے جو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بلوچ قومی تحریک کی درست سمت کا تعین کرنے میں ناکام رہے اور اندرونی چپقلش میں الجھ کر رہ گئے۔ شہید فدا احمد چاہتے تھے کہ بی این وائی ایم ، پاکستان کی پارلیمانی سیاست سے کنارہ کش ہوکر ایک نظریاتی و انقلابی تنظیم کے طور پر بلوچ سماج کو سیاسی بنیادوں پر منظم کرئے۔
جبکہ ڈاکٹر حئی اپنی ساتھیوں کے ساتھ سیاسی رسا کشی کے کھیل میں مصروف رہے ، انھوں نے غوث بخش بزنجو کی مخالفت کی انھیں بابائے مذاکرات اور سفید ہاتھی کہہ کر قومی تحریک سے منحرف قرار دیا لیکن بالآخر یہی ٹولہ جب پاکستان کی پارلیمانی سیاست کا حصہ بن گیا تو انہی غوث بخش بزنجو کی وراثت کا دعویدار بن گیا۔
شہید فدا احمد اور ان کے حلقہ احباب کو اس بات کا ادراک تھا کہ اگر بی این وائی ایم ، پارلیمانی سیاست میں آلودہ ہوئی یا بڑی شخصیات کے جھنڈا بردار کے طور پر رہی تو یہ ایک قومی نقصان ہوگا اس لیے انھوں نے واضح موقف کے ساتھ پاکستانی فریم ورک کے اندر پارلیمانی سیاست کی مخالفت کی۔27 اپریل 1988 کو کراچی میں بی این وائی ایم کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ’ بی این وائی ایم ‘ کو پارلیمانی سیاست میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ شہید فدا احمد نے اس موقف کی مخالفت کی اور اپنے ساتھیوں سمیت اس اجلاس سے واک آؤٹ کرکے ، کیچ واپس آگئے۔ اس سے بلوچ سیاست میں ’ فکر فدا ‘ کا جنم ہوا ، یعنی بلوچ قومی حق خودارادیت کے حصول کے لیے غیرپارلیمانی سیاست۔ اس سوچ کی مخالفت میں پارلیمانی جھتہ اپنی پوری قوت کے ساتھ متحرک ہوا۔ سازشوں نے جنم لیا ، بلوچ میدان سیاست خانہ جنگی کا شکار ہوا اور 2 مئی 1988 ء کی ایک منحوس شام کو کامریڈ فدا احمد قتل کردیے گئے ۔ بظاہر اس قتل سے ریاست اور مخالفین نے اپنے دامن صاف کرنے کی کوشش کی لیکن سیاسی طور پر فکر فدا کو دفن کرنے والے چہرے تاریخ کے تاریک گوشوں میں آج بھی پہچانے جاتے ہیں۔جنھوں نے قومی تحریک سے انحراف کیا ’بلوچستان نیشنل موومنٹ ‘ بنائی اور پاکستان کی پارلیمانی سیاست کا حصہ بن کر بلوچ قوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔
لیکن شہید فدا احمد کے نظریاتی ساتھی ، اس سیاسی کھیل سے ہرگز مطمئن نہیں ہوئے۔ بلوچستان نیشنل موومنٹ کی قیادت بتدریج اپنے قومی موقف سے دور ہوتے ہوتے ایک سیاسی پارٹی کی بجائے مفاد پرستوں کا ٹولہ بن کر رہ گئی۔ شھید فدا احمد کی شہادت کے 14 سال بعد، 2002 میں پاکستان کے فوجی آمر پرویز مشرف کے پرتشدد آمرانہ دور میں بلوچ تحریک سے منحرف ٹولے نے سیاسی مزاحمت کی بجائے بلوچ تحریک کے خلاف پاکستان کی فو ج اور اس کے آمر چیف آف آرمی اسٹاف پرویز مشرف کا ساتھ دیا۔
رفتہ رفتہ بی ایس او کے سابقہ نظریاتی کیڈرز کو اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ یہ ٹولہ قومی تحریک سے کوسوں دور ہوگئی ہے۔ 9 اکتوبر 2003 کو شھید فدا جان کے نظریاتی شاگرد چیئرمین غلام محمد بلوچ نے ڈاکٹر حئی اور ڈاکٹر مالک کے سیاسی موقف کے خلاف واضح موقف اختیار کرتے ہوئے۔ بی این ایم ( 1989 میں بی این وائی ایم کا نام تبدیل کرکے بلوچستان نیشنل موومنٹ رکھا گیا) کی تحلیل کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی اور اعلان کیا کہ بلوچستان نیشنل موومنٹ ، اپنے آئین اور اساس کے مطابق موجود ہے اور اپنا تسلسل جاری رکھے گی۔ چیئرمین واجہ غلام محمد اور ان کے نظریاتی ساتھیوں نے فکر فدا ، عبدالعزیز کرد اور یوسف عزیز مگسی کے نظریے کو اپنا کر کھٹن محنت اور قربانیوں کے ساتھ ادارہ جاتی بنیادوں پر بی این ایم کو مضبوط کرکے بلوچ قوم کے اعتماد کو بحال کیا۔
سن 2004 کو شال میں واجہ غلام محمد کی قیادت میں ’ بلوچستان نیشنل موومنٹ ‘ کا ساتواں قومی کونسل سیشن ہوا۔ جس میں پارٹی کا نام تبدیل کرکے ’ بلوچ نیشنل موومنٹ ‘ رکھا گیا تاکہ بلوچستان کے جغرافیائی حدود سے باہر رہنے والے بلوچوں کو بھی مںظم کرکے بلوچ قومی تحریک کا حصہ بنایا جاسکے۔
اس سیشن کے بعد بی این ایم پر ریاستی کریک ڈاؤن شروع ہوگیا، ریاستی ادارے پارٹی لیڈر شپ اور کیڈرز کے خلاف متحرک ہو گئے ۔جس کا تسلسل آج تک بلوچ نسل کشی کی صورت میں جاری ہے۔ بی این ایم کی قیادت سے لے کر کارکن تک اس خونی ریاستی کریک ڈاؤن کا نشانہ بن گئے۔ پارٹی کے صدر چیئرمین غلام محمد بلوچ کو 3 دسمبر 2006 کو کراچی سےجبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ۔ آپ نو مہینے سے زائد عرصے تک پاکستان کے خفیہ ٹارچرسیل میں قید رہے ، آپ نے جسمانی اور ذہنی تشدد برداشت کیا لیکن 10 اکتوبر 2007 کو رہا ہونے کے بعد بھی اپنے نظریے اور انقلابی پروگرام پر ثابت قدم رہے ۔
2008 کو بی این ایم کا آٹھواں قومی کونسل سیشن ملیر ، کراچی میں منعقد ہوا ، پارٹی کیڈرز غلام محمد کی قیادت میں مزید متحرک ہوئے۔ سیشن میں پارٹی آئین میں مزید انقلابی تبدیلیاں لائی گئیں ، حق خود ارادیت کی مبہم اصطلاح کی بجائے ’ بلوچ قومی آزادی ‘ کو شامل کیا گیا۔ بی این ایم کے سیاسی کارکنان کو ’ قومی جہدکار ‘ بنانے کے نظریاتی پروگرام کی بنیاد رکھی گئی ۔ جس سے بالآخر بی این ایم اور اس کی قیادت دوبارہ ریاست پاکستان کے لیے خطرہ بن گئے۔ 3 اپریل 2009 کو تربت کے اے ٹی سی عدالت میں پیشی کے موقع پر پاکستانی فوج نے کچکول علی ایڈوکیت کے آفس سے بی این ایم کے صدر غلام محمد بلوچ ، مرکزی کمیٹی کے ممبر لالامنیر اور جمہوری وطن پارٹی کے نائب صدر شیرمحمد بلوچ کو دن کے وقت 12 بجے اغوا کرلیا۔ 6 دن بعد 9 اپرہل 2009 کو ان رہنماؤں کی مسخ شدہ لاشیں تربت سے 15 کیلومیٹر دور ’ مرگاپ ‘ کے مقام سے ملیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق لاشیں چھ دن پرانی تھیں یعنی انھیں اغوا کے دن ہی تشدد کرکے گولی مار کر قتل کیا گیا۔ شہید غلام محمد اور شہید لالا منیر بی این ایم کے غیر پارلیمانی نظریاتی سیاست کے قدآؤر رہنماء تھے لیکن بی این ایم کی قربانیوں کی فہرست محض اتنی نہیں بلکہ اس سیاسی سفر میں بی این ایم کے کئی قائدین ، مرکزی کمیٹی کے ممبران اور نظریاتی کارکنان نے شہادت کا مرتبہ حاصل کیا ۔
واجہ غلام محمد کی شہادت کے بعد بھی قبضہ گیر ریاست نے اپنے پالے ہوئے مفاداتی پارلیمانی سیاستدانوں کے ساتھ مل کر بی این ایم پر کریک ڈاؤن جاری رکھا اور پارٹی کے کیڈرز اور نظریاتی کارکنوں کی تقویت کا عمل جاری رہا۔ اسی دوران بی این ایم کے خلاف مختلف طریقوں سے سازشیں کرکے تحریکِ آزادی کو سبوتاژ کرنے کے لیے شخصی اختلافات پیدا کیے گئے اور تنظیم کے اندر ایسا انتشاری رجحان پیدا کیا گیا کہ انفرادی طور پر شخصی اجارہ داری، طاقت کی کشمکش اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر قیادت سازی کے رجحانات کو ہوا ملی۔ اس عمل نے وقتی طور پر دشمن کو کامیابی کا احساس دلایا، تاہم تنظیم کے نظریاتی کیڈرز اور کارکنوں کی دور اندیشی، محنت اور جدوجہد کے باعث مخلصی اور شعوری فکری پختگی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں ان بحرانی ادوار کو صبر، استقامت اور فکری و نظریاتی بلوغت کے ساتھ عبور کیا گیا اور ان اختلافی و سازشی حربوں کو ناکام بنایا گیا۔
آگے 2010 اور 2014 کی ریاستی جبر اور پرآشوب و پُرخطر ادوار میں جاہو اور مکران میں کونسل سیشن منعقد کرتے ہوئے نئی انقلابی کیڈرز اور نظریاتی دوستوں نے بی این ایم کو ایک بار پھر منظم و مستحکم کرنے کی جدوجہد اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر نئی سمت دی، اور شہداء کے فلسفے کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے خون کی سرخ سیاہی سے اسے عبارت کر دیا۔ اس سیشن کے بعد پارٹی کی کئی مرکزی کابینہ اور سنٹرل کمیٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ کارکنوں کی شہادت اور جبری اغوا کے باوجود پارٹی اپنی انقلابی نظریے کے ساتھ جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور شہداء کے قافلے کو منزل کی جانب رواں دواں رکھا ہے۔
اس دوران غیر جمہوری اور غیر تنظیمی حکمتِ عملی کو اپنی نظریاتی، فکری اور شعوری بنیادوں پر ناکام بنا کر تحریکِ آزادی کے قافلے کو نئی تقویت دی گئی۔ سازشی عناصر نے اپنی ناکامیوں کا ملبہ بی این ایم کی قیادت پر ڈالنے کی ناکام کوشش کی اور میڈیا وار کے ذریعے حقائق کو مسخ کیا، مگر بی این ایم کی باشعور قیادت نے سوشل میڈیا پر غیر ضروری محاذ آرائی اور پروپیگنڈے سے گریز کرتے ہوئے اپنی توجہ اپنے اہداف اور منزل کے حصول پر مرکوز رکھی، اور سازشوں کو ناکام بنا کر منزل کی جانب منظم انداز سے پیش قدمی جاری رکھی
ہر سیشن پارٹی کی کامیابی کا مظہر ہے ، بالخصوص اپریل 2022 کا سیشن ایک سنگِ میل ثابت ہوا، جس میں پارٹی کے باشعور نظریاتی کونسلران نے پارٹی کے آئین اور طریقہ ہائے کار میں نئے تقاضوں کے مطابق بنیادی تبدیلیاں کیں۔
واجہ خیر بخش مری کی ایک بات آج بھی میرے ذہن میں گردش کر رہی ہے کہ اگر بی این ایم غلام محمد کے فلسفہ اور نظریہ پر گامزن رہی تو اسے کبھی قیادت کی کمی محسوس نہیں ہوگی۔اس سیشن نے ثابت کردیا کہ پارٹی کے نظریاتی جہدکار خود کو اور اپنی سیاست کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ باشعور کونسلران نے تنظیمی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو نئے تقاضوں سےہم آہنگ کرکے ایک نئے سفر کی شروعات کی۔اس نئے سفر کے بعد بی این ایم ایک نئی قوت کے ساتھ ابھر کر مزید واضح ، مضبوط اور منظم ہوکر دنیا کے سامنے آشکار ہو رہی ہے۔ انسانی بنیادوں پر بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد بی این ایم کا بنیادی نظریہ اور اساس ہیں ، جس پر بی این ایم کمزور ہونے کی بجائے مزید مضبوط اور مستحکم ہوئی ہے۔ا دارہ جاتی سیاست کے اصولوں کے تحت قلیل مدت میں تنظیم کی کامیابیاں ، نظریاتی قیادت اور کیڈرز کا سرمایہ حیات ہیں ۔
میں امید کرتا ہوں کہ آنے والے سیشن میں بی این ایم مزید نکھر کر ایک بہتر قومی پارٹی کی شکل اختیار کرئے گی۔ یہی وہ سوچ ہے جس کے تحت شھید غلام محمد بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے مراعات یافتہ سیاست کے بجائے قومی انقلابی سیاست کا پرکھٹن راستہ چنا۔ ہر طرح کے سخت حالات اور مشکلات کو دلیری سے برداشت کرتے ہوئے قبضہ گیر دشمن اور سیاسی مخالفین کے سامنے مضبوط چٹان کی ماند جرات کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے انقلابی سلوگن پر قائم رہتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
شھید غلام محمد ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ’’ جب میں بلوچستان کے عظیم شہداؤں کو اسٹیچ پر آکر سرخ سلام پیش کرنے پر فخرمحسوس کرتا ہوں تو اس شہادت کو اپنے لیے کیوں ناپسند کرؤں۔ ‘‘ بی این ایم کے دوستوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ بی این ایم ہر باشعورکارکن اورکیڈرز سے یہی تقاضہ کرتی ہے کہ نظریہ غلام محمد کو اپنا کر بلوچ قومی کارواں کے لیے موت کے خوف سے نکل کر بلوچ نیشنل موومنٹ کے فلسفے کو اپنا لیں اور دشمن پر ثابت کریں کہ ہم شہداء کے حقیقی اور نظریاتی وارث ہیں۔ ہم قابض کے ظلم و جبر سے ڈر کر تحریک آزادی سے ہرگز دست بردار نہیں ہوں گے۔ یہ بی این ایم کے نظریاتی کیڈرز اور شعوری کارکنان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ دنیا اور قبضہ گیر ریاست کی بدلتے ہوئی پالیسیوں اور حالات کا گہرا مطالعہ کریں۔ شعوری و انقلابی سوچ کے ساتھ اپنے درمیان قومی اتحاد و اجتماعی سوچ کو برقرار رکھیں ، قومی تحریک اور پارٹی کو فعال اور نتیجہ خیز بناکر انقلابی اور اداراجاتی بنیادوں میں آگے بڑھائیں ۔
بی این ایم ایک انقلابی سیاسی تحریک ہے اس کا کردار کسی این جی اوز اور پارلیمانی مراعات یافتہ پارٹی جیسا نہیں ہونا چاہیے۔ بی این ایم ایک نظریاتی اور سیاسی انقلابی تحریک کا کردار ادا کرئے ۔ بی این ایم کا کردار بلوچ قوم کے لیے آزاد ریاست کی تشکیل اور نمائندہ قومی جماعت کی حیثیت سے ہونا چاہیے ، جو بلوچستان میں آزادی کا نعرہ لگانے اور نظریاتی پروگرام دینے والی پہلی انقلابی سیاسی پارٹی ہے۔ لہذا ہمیں اپنی پارٹی اور ادارون کو جہموری نظام سیاست کی تحت مضبوط و مستحکم کرنا ہوگا۔ تاکہ آزادی کی بعد ہمارے جہموری نظام کو کوئی آمر یرغمال نہ بناسکے، اور ایسا نہ ہو کہ آزادی کے بعد بھی ہمیں آمریت سے لڑنے کے لیے قربانیاں دینی پڑیں۔
ہمیں اس خدشے پر سنجیدہ ہونا چاہیے کہ ہم میں سے کوئی وار لارڈ بن کر پاکستانی جرنیلوں کی طرح باہر ملکوں میں سرمایہ بنا کر بلوچ آزادی کی قومی تحریک کو آمریت میں بدل نہ دے ۔ آنے والے سیشن کے لیے بی این ایم کے کونسلران کو چاہیے کہ پارٹی پالیسیوں کو واضح اور مربوط انداز میں مرتب کریں تاکہ بی این ایم بلوچ سیاست میں جمہوری اقدار کی پرورش کا موجب بنے۔
جب ہمارا ادارجاتی نظام مضبوط ہو گا تب ہی ہر ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر قومی مفادات کا تحفظ کر پائے گا۔ آج کے حالات اور مستقبل میں آمرانہ سوچ کے راستے روک پائے گا۔ جب ہم اپنے آپ کو بلوچ شہداء کا وارث کہتے ہیں تو ہماری زمہ داری بنتی ہے کہ ہم شہیدوں کے نقش قدم پر چل کر اپنی وراثت کا حق ادا کریں۔ چاہے اس سفر میں ہمارے راستے میں کتنے ہی کانٹے ہوں ہمیں ہر حال میں ثابت قدم رہنا اور تحریک کی کامیابی کے لیے مخلص ہونا ہوگا۔ بلوچستان کی آزادی ہمارا قومی نصب العین اور ایمان ہے۔
