
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچار 4 مئی 2026 کو واشک میں ایک معمول کے گشت پر تھے کہ اچانک قابض پاکستانی فوج سے ان کا آمنا سامنا ہو گیا۔ سرمچاروں نے فوری طور پر بہترین گوریلا جنگی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے فوراً مختلف دستوں میں تقسیم ہو کر دشمن پر حملہ آور ہوئے۔ سرمچاروں کی مؤثر حکمتِ عملی کے نتیجے میں دشمن فوج کے تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
ترجمان نے کہا کہ دورانِ جھڑپ تنظیم کے ایک سرمچار زخمی ہوئے، تاہم انہوں نے پامردی سے دشمن کا مقابلہ جاری رکھا۔ دو سرمچاروں نے اپنی پوزیشنیں سنبھالے رکھیں اور دشمن کے دستوں کو الجھائے کر ان کی پیش قدمی کو روکے رکھا، تاکہ ان کے دیگر ساتھی جائے وقوعہ سے بحفاظت نکل سکیں۔ ان کی اس بہادرانہ حکمتِ عملی کے بدولت دیگر تمام سرمچار بحفاظت نکل کر اپنے محفوظ ٹھکانے پر پہچنے میں کامیاب رہے۔ دونوں سرمچار آخری گولی اور آخری سانس تک دشمن فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس معرکے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے شہید کیپٹن مختیار بلوچ عرف پیرک بلوچ کا تعلق مشکے کے علاقے کلر سے تھا۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نظریاتی نوجوان تھے جنہوں نے 2012 میں انتہائی کم عمری میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کیا۔ تاہم اس کی کم عمری کے باعث اسے آپریشنل سرگرمیوں سے مندلک نہیں کیا گیا۔ اس دوران اس نے اپنی پڑھائی جاری رکھا اور بلوچستان یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 2021 میں باقاعدہ پہاڑی محاذ پر آپریشنل سرگرمیوں میں شامل ہوگیا۔ وہ اپنی غیر معمولی جنگی صلاحیتوں اور تنظیمی نظم و ضبط کے باعث جلد ہی رخشان ریجن کے کیمپ کمانڈر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف مشکے، آواران اور واشک کے محاذوں پر دشمن کے خلاف کامیاب معرکے لڑے بلکہ ایک بہترین ٹرینر کے طور پر نئے سرمچاروں کی جسمانی اور فکری تربیت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا خاندان تحریکِ آزادی کے لیے درجن بھر سے زائد جانی قربانیاں دے چکا ہے، جو بلوچ قوم کے لیے قابل فخر اور سرمچاروں کیلئےمشعلِ راہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید غریب شاہ عرف عرفان بلوچ ولد ناصر بلوچ، ساکن مشکے گزی, نے مئی 2024 میں بلوچ قومی بقا اور وطن کی آزادی کی خاطر بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ مختصر عرصے میں انہوں نے اپنی جفاکشی، محنت اور فرض شناسی کی بدولت خود کو ایک فعال سرمچار ثابت کیا۔ وہ مشکے اور جھاؤ کے مختلف جنگی محاذوں پر ہراول دستے کا حصہ رہے اور کیمپ میں اپنی تنظیمی ذمہ داریاں نہایت احسن انداز میں نبھائیں۔ 4 مئی 2026 کو واشک کے مقام پر دشمن فوج کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے، وہ اپنے ساتھی کمانڈر کیپٹن پیرک بلوچ کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے ان عظیم شہداء کی قومی خدمات اور بے مثال قربانیوں پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے۔ تنظیم اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ شہداء کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ دشمن یہ جان لے کہ سرمچاروں کی شہادتیں ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہماری طاقت ہیں، جو تحریک کو مزید توانائی اور جلا بخشتی ہیں۔ ہم اپنے شہداء کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قابض ریاست کے خلاف اپنی مزاحمت کو مزید تیز کریں گے۔ بلوچ شہداء کے ارمانوں کی منزل صرف اور صرف ایک آزاد اور خودمختار بلوچستان ہے۔
