
بلوچ قومی تاریخ ایک طویل جدوجہد کا تسلسل اور بیانیہ ہے جس میں ظلم اور آزادی، جبر اور مزاحمت، تاریکی اور روشنی ہمیشہ آمنے سامنے رہے ہیں۔ اگر ہم تہذیبوں کے عروج و زوال، سلطنتوں کی وسعت و انحطاط، اور قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایک حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آتی ہے ظلم کی کوئی بھی صورت دائمی نہیں ہوتی۔ جبر کی ہر رات، خواہ کتنی ہی طویل اور مہیب کیوں نہ ہو، بالآخر سحر کی روشنی کے سامنے ماند پڑ جاتی ہے۔
یہ ایک مستند اصول ہے کہ جب جبر اپنے توازن سے تجاوز کر جاتی ہے تو وہ اپنی بنیادوں کو خود کمزور کرنے لگتا ہے۔
تحریکیں جب اٹھتی ہین تو ایک لاوے کا اظہار ہوتی ہیں۔ یہ اچانک پیدا نہیں ہوتیں بلکہ صدیوں کی محکومی،شعوری بیداری اور قومی احساسِ کے ارتقاء کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ جب کسی قوم کے افراد اپنی حالت کو تقدیر سمجھنے کے بجائے اس کا انکار کرنے لگتے ہیں، جب وہ ظلم کو معمول کے بجائے انحراف سمجھنے لگتے ہیں، تو یہی شعور تحریک کی پہلی کرن بنتا ہے۔ ہر تحریک کا سفر یکساں یا ہموار نہیں ہوتا۔ اس میں نشیب و فراز آتے ہیں، کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں شامل ہوتی ہیں، اور بعض اوقات قربانیوں کی ایک طویل داستان رقم ہوتی ہے۔ مگر یہی قربانیاں تحریکوں کو اخلاقی قوت فراہم کرتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنتی ہیں۔ جب ایک فرد یا ایک گروہ اپنے ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر قومی وقار کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو وہ دراصل تاریخ کے دھارے کو موڑنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
یہ کوئی دوسرا پہلو نہیں، بلکہ تاریخ کا پہیہ ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے، اور یہ حرکت آزادی، انصاف اور توازن کی طرف مائل ہوتی ہے۔ ظلم وقتی طور پر اس رفتار کو سست کر سکتا ہے، مگر اسے روک نہیں سکتا۔ سحر کی آمد ایک فطری امر ہے، اور ہر رات کا مقدر ہے کہ وہ ختم ہو۔ یہی امید، یہی یقین اور یہی شعور انسان کو مسلسل جدوجہد پر آمادہ رکھتا ہے۔ چنانچہ جب تحریکوں میں ابھار آتا ہے تو وہ صرف سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ نہیں ہوتا، بلکہ صدیوں کی غلامی کے تحلیل ہونے اور ایک نئے عہد کے آغاز کی نوید بھی ہوتا ہے۔
آج جب تحریکِ آزادی کے ابھرتے ہوئے جوش و خروش کو نگاہوں سے گزرتا دیکھتے ہیں تو امید، یقین کی مضبوط صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ احساس دل میں راسخ ہوتا جاتا ہے کہ اب ظلم و جبر کی زنجیریں ٹوٹ کر بکھر جائیں گی، اور ایک نئی سحر اپنی روشن کرنوں کے ساتھ افق پر نمودار ہوگی۔ وہ ساعت دور نہیں جب کھوئے ہوئے لوگ اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے، ماں کی آنکھوں کے اشک تھم جائیں گے، اور بہنوں کے ادھورے خواب تعبیر کا روپ دھاریں گے۔اب وہ وقت قریب ہے جب بھائی کا کندھا استقامت اور حوصلے کی علامت بنے گا، ہر بچہ اپنے باپ کے سایۂ شفقت میں محفوظ زندگی گزارے گا، اور ہر بیوی کو اس کا بچھڑا ہوا ہمسفر میسر آئے گا۔ گھروں میں ویرانی کی جگہ رونق لوٹ آئے گی، دلوں میں مایوسی کی بجائے امید کے چراغ روشن ہوں گے۔
اب بلوچ اپنے وطن کا خود نگہبان ہوگا؛ اس کی سرزمین کی حفاظت اس کے اپنے بازوؤں کی قوت اور اس کے عزمِ راسخ کی مرہونِ منت ہوگی۔ اب بولان کے شفاف پانیوں تک کسی ناپاک نظر یا ناپسندیدہ قدم کی رسائی نہ ہوگی، بلکہ یہ دھارے اپنی پاکیزگی اور فطری عظمت کے ساتھ رواں دواں رہیں گے۔چلتن کے دامن میں سرخ پھول امید و حیات کی علامت بن کر کھلیں گے، اور ہر شاخ، ہر پتہ آزادی کی خوشبو سے معطر ہوگا۔ ہر پہاڑ کی چوٹی سے ایک وطن زادہ اپنی شناخت اور اپنی وابستگی کا اعلان کرے گا، اور فضائیں حوصلے، یقین اور خودداری کی صدا سے گونج اٹھیں گی۔
خضدار کے آبشاروں کے کنارے ایک نڈر سپاہی اپنی جرات اور بیداری کی علامت بن کر ایستادہ ہوگا، جو اپنے وطن کی حفاظت کو اپنا اولین فرض سمجھے گا۔ سیندک کی سرزمین اب اپنے حقیقی وارث کو پہچان چکی ہے، اور اس کے خزانے اب اس کے اپنے لوگوں کی فلاح کے لیے بروئے کار آئیں گے۔ چاغی کی ویران فضائیں بھی اب زندگی کی رمق سے آشنا ہوں گی، اور خاموشی کی جگہ حرکت اور ارتقاء کا شور سنائی دے گا۔
یہ محض لفاظی نہیں، نہ ہی وقتی جذبات کا اظہار ہے؛ یہ ان لازوال قربانیوں کی صدائے بازگشت ہے جو اپنی سچائی خود منوا رہی ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو لہو سے لکھی گئی، وہ عزم ہے جو آزمائشوں کی بھٹی میں تپ کر کندن بنا۔ ہتم ناز سمالانی ، جس نے پیرانہ سالی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے بھی جوان حوصلوں کی طرح پہاڑ کی مانند استقامت دکھائی، ثابت قدم رہی، اب وہ گھڑی آن پہنچی ہے جب ساحلوں اور شہروں کی نگہبانی اپنے اصل وارثوں کے سپرد ہو رہی ہے۔ اب عورت کی عزت، جو بلوچ سماج کی غیرت کا معیار ہوتی ہے، محفوظ ہاتھوں میں ہوگی، اور خوف کی جگہ اعتماد اور وقار کی فضا قائم ہوگی۔ یہ سب اس خواب کی تعبیر کا پیش خیمہ ہے جو رہبر آزادی بابا خیربخش مری نے دیکھا تھاگوادر کی موجیں، پسنی کے ساحل، قلات کی سرزمین، شال کی فضائیں اور چلتن کے سائےسب اپنے لوگوں کی آغوش میں لوٹنے کو ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس بار بہار ایک نویدِ جاں فزا لے کر آئی ہے؛ جیسے زمین خود اپنی خاموش زبان میں کچھ کہہ رہی ہو، جیسے ہر ذرہ خوشی سے جھوم رہا ہو کہ اس کے محافظ واپس آ گئے ہیں۔
اب ہر سمت ایک نئی ابتدا کی آہٹ سنائی دیتی ہے، ہر دل میں یقین کی شمع فروزاں ہے، اور ہر نگاہ مستقبل کے افق پر ابھرتی ہوئی روشنی کو دیکھ رہی ہے۔یوں لگتا ہے کہ تاریخ ایک نئے باب کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں قربانی، استقامت اور آزادی کی داستانیں ایک نئے عہد کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔ وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب آزادی کی صبح پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوگی، اور بلوچ ایک باوقار، آزاد اور خودمختار قوم کے طور پر دنیا کے افق پر اپنی شناخت قائم کریں گے۔ یہ یقین اب محض خواب نہیں رہا بلکہ ایک قریب الوقوع حقیقت بن چکا ہے۔
