
تحریر: دلجان بلوچ
بلوچستان کی سرزمین ہمیشہ ایسے نوجوانوں کو جنم دیتی رہی ہے جنہوں نے اپنے نظریات، قومی احساس اور اپنے لوگوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں۔ انہی نوجوانوں میں ایک نمایاں نام شہید کپٹن سنگت سلال بلوچ عرف میجر نورا کا ہے، جن کا تعلق ڈیرہ غازی خان کے کوہِ سلیمان کے علاقے سے تھا۔ وہ نہ صرف ایک بہادر اور پُرعزم نوجوان تھے بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، باشعور اور جدید علوم سے آراستہ شخصیت بھی تھے۔ ان کی زندگی نوجوان نسل کے لیے شعور، قربانی، نظم و ضبط، تعلیم اور مقصدیت کی ایک مثال کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
شہید کپٹن سنگت سلال بلوچ ولد سہیل انور ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جہاں روایتی بلوچ اقدار، غیرت، سادگی اور اجتماعی ذمہ داری کو اہمیت حاصل تھی۔ کوہِ سلیمان کے دشوار گزار ماحول میں پروان چڑھنے والے نوجوانوں کی زندگی عام شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے۔ یہاں کے لوگ فطرت کے قریب، محنتی اور سخت حالات کا سامنا کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ یہی ماحول سنگت سلال بلوچ کی شخصیت کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ابتدائی تعلیم کے دوران ہی وہ ذہین، سنجیدہ اور اپنے ساتھیوں میں منفرد سمجھے جاتے تھے۔ ان میں سیکھنے کا جذبہ نمایاں تھا اور وہ جدید تعلیم کو قوموں کی ترقی کا بنیادی ذریعہ سمجھتے تھے۔
شہید کپٹن سنگت سلال بلوچ نے بیوٹمز (BUITEMS) یونیورسٹی سے سافٹ ویئر انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ یہ بات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ جدید دنیا کے تقاضوں، ٹیکنالوجی اور علمی ترقی سے مکمل آگاہ تھے۔ سافٹ ویئر انجینئرنگ جیسے جدید شعبے میں تعلیم حاصل کرنا ان کی ذہانت، محنت اور علمی صلاحیت کا ثبوت تھا۔
یونیورسٹی کی زندگی کسی بھی نوجوان کی سوچ، فکر اور شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اسی دوران نوجوان مختلف سیاسی، سماجی اور قومی سوالات پر غور کرنا شروع کرتے ہیں۔ سنگت سلال بلوچ بھی ان نوجوانوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنے معاشرے کے مسائل، محرومیوں اور قومی حالات کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کی۔
وہ صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے اپنے علم کو سماجی شعور کے ساتھ جوڑا۔ یہی فکری شعور بعد میں ان کے عملی فیصلوں کا سبب بنا۔
2022 میں انہوں نے قومی آزادی کی تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ ان کے اس فیصلے کے پیچھے محض جذبات نہیں بلکہ ایک فکری وابستگی اور اپنے نظریات سے گہری کمٹمنٹ شامل تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ نوجوان نسل کو اپنے لوگوں کے مسائل سے باخبر ہونا چاہیے اور اپنے مقصد کے لیے عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔
جولائی 2023 میں وہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے جہاں انہوں نے عملی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ پہاڑی زندگی انتہائی سخت، صبر آزما اور خطرات سے بھرپور ہوتی ہے۔ وہاں رہنے والے افراد کو نہ صرف جسمانی مشقت بلکہ ذہنی دباؤ اور مسلسل غیر یقینی صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں ثابت قدم رہنا مضبوط اعصاب، نظم و ضبط اور غیر معمولی حوصلے کا تقاضا کرتا ہے۔
شہید کپٹن سنگت سلال بلوچ جدید جنگی حکمتِ عملی اور دفاعی مہارت سے واقف تھے۔ ان کے ساتھی انہیں ایک نڈر، منظم اور ذمہ دار فرد کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ وہ صرف عملی میدان میں ہی متحرک نہیں تھے بلکہ اپنے ساتھیوں کی تربیت، حوصلہ افزائی اور تنظیمی نظم و ضبط پر بھی توجہ دیتے تھے۔
ان کی شجاعت، مخلصی اور صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں کپٹن کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ کسی بھی تنظیم میں ذمہ داری حاصل کرنا صرف بہادری کی وجہ سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے اعتماد، نظم، قربانی اور مسلسل کارکردگی ضروری ہوتی ہے۔
ان کی قیادت کا انداز سختی کے بجائے رفاقت، ذمہ داری اور عملی مثال پر مبنی تھا۔ وہ نوجوان ساتھیوں کو تعلیم، مطالعہ، نظم و ضبط اور فکری پختگی کی تلقین کرتے تھے۔
شہید کپٹن سنگت سلال بلوچ کی شخصیت کے کئی پہلو ایسے تھے جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتے تھے۔
وہ سادہ طرزِ زندگی کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کے نزدیک اصل عظمت انسان کے کردار اور عمل میں تھی، نہ کہ ظاہری نمود و نمائش میں۔
وہ کتابوں، تاریخ اور سیاسی و سماجی موضوعات میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ بغیر شعور کے کوئی بھی جدوجہد دیرپا نتائج حاصل نہیں کر سکتی۔
ان کے ساتھی انہیں مخلص، نرم گفتار اور تعاون کرنے والا انسان قرار دیتے تھے۔ وہ مشکل حالات میں بھی اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بلند رکھتے تھے۔
ان کی زندگی میں وقت کی پابندی، ذمہ داری اور تنظیمی نظم نمایاں تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ کسی بھی اجتماعی مقصد کے لیے نظم بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
شہید کپٹن سنگت سلال بلوچ کی زندگی نوجوانوں کے لیے کئی اہم اسباق رکھتی ہے۔
انہوں نے ثابت کیا کہ جدید تعلیم اور قومی شعور ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان معاشرے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
زندگی میں واضح مقصد انسان کو مضبوط بناتا ہے۔ وہ اپنی سوچ اور نظریے کے ساتھ مخلص رہے اور آخر تک اپنے فیصلے پر قائم رہے۔
نوجوانوں کو صرف جذبات پر نہیں بلکہ علم، تحقیق اور شعور پر اپنی رائے قائم کرنی چاہیے۔
مشکل حالات میں ثابت قدم رہنا آسان نہیں ہوتا۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ مضبوط کردار انسان کو ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھتا ہے۔
انہوں نے اجتماعی مفاد کو ذاتی آرام پر ترجیح دی۔ نوجوان نسل کو بھی اپنے معاشرے کے مسائل سے لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔
شہید کپٹن سنگت سلال بلوچ نے اپنی زندگی اپنے نظریات اور مقصد کے لیے وقف رکھی۔ ان کی شہادت ان کے ساتھیوں اور جاننے والوں کے لیے ایک گہرا صدمہ تھی، لیکن ان کی یاد، کردار اور جدوجہد آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے۔
کسی بھی شخصیت کی اصل طاقت اس کی فکری وراثت ہوتی ہے۔ سنگت سلال بلوچ کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان جب شعور، نظم اور مقصد کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو وہ اپنے معاشرے پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
شہید کپٹن سنگت سلال بلوچ عرف میجر نورا کی زندگی ایک باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور نظریاتی نوجوان کی داستان ہے۔ انہوں نے جدید تعلیم حاصل کی، اپنے حالات کا شعوری مطالعہ کیا اور اپنے یقین کے مطابق زندگی گزاری۔ ان کی شخصیت میں علم، حوصلہ، نظم و ضبط، سادگی اور رفاقت جیسے اوصاف نمایاں تھے۔
آج نوجوان نسل کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی زندگی سے مثبت پہلو سیکھے، خصوصاً تعلیم، شعور، کردار سازی، مطالعہ اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو اپنائے۔ قوموں کی ترقی صرف جذبات سے نہیں بلکہ علم، فکری پختگی، اخلاقی مضبوطی اور مسلسل جدوجہد سے ممکن ہوتی ہے۔
شہید کپٹن سنگت سلال بلوچ کی یاد ہمیشہ ان لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گی جو تعلیم، شعور، کردار اور مقصدیت کو انسانی زندگی کی اصل طاقت سمجھتے ہیں۔
