استعماری تعلیم “علم یا غلامی؟تحریر۔ الیاس داد

اوشو کہتا ہے کہ علم کا اصل مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری زندگی کو مسرت کی طرف لے جائے؛ ہم اسی کو علم کہتے ہیں۔پڑھائی انسان کو غلام نہیں بناتی بلکہ آزاد کرتی ہے۔ اگر آپ خوفزدہ ہیں تو علم کے بارے میں کچھ نہ سوچیں، کیونکہ خوف زدہ دماغ کچھ نہیں کر سکتا۔اگر آپ کا دماغ بے کار اور غلام ہے تو آپ خوف زدہ ہیں، اور خوف زدہ انسان مستقبل کے لیے کچھ بھی نہیں سوچتا۔آج کل کے نوجوان یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تو زیرِ تعلیم ہیں، مگر عملاً کچھ حاصل نہیں کر رہے؛ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تعلیم کے باوجود ان کی زندگیاں تباہی و بربادی کی طرف گامزن ہیں۔

ہمارے نظامِ تعلیم کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیں آگے لے جانے کے بجائے پسماندگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہم کوشش تو کر رہے ہیں، مگر یہ ادراک نہیں رکھتے کہ ہم کس مقصد کے لیے اور کس سمت میں جدوجہد کر رہے ہیں، اور ہمارا ذہن کہاں مرکوز ہے۔ تعلیم کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ وہ انسان کو اس کے دوستوں اور تعلقات سے منقطع کر دے؛ ایسی تعلیم نہ علم ہے نہ شعور۔اپنے ذہن کو سکون عطا کیجیے۔ اگر آپ خوف زدہ ہوں گے تو اپنی ہی زندگی کو مسمار کریں گے۔ خوف زدہ انسان نہ صحیح معنوں میں جی سکتا ہے، نہ سیکھ سکتا ہے۔ آج لوگ خود اپنی زندگیوں کو برباد کرنے میں مصروف ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ علم اور شعور کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟ وہاں سے جہاں محبت اور خلوص جلوہ گر ہوں، جہاں دل و دماغ آزاد ہوں؛ وہی زندگی کی حقیقی ابتدا ہے۔ جہاں آزادی نہ ہو، وہاں جینا محال ہو جاتا ہے۔انسان کے اندر شعور تو موجود ہوتا ہے، مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ اسے کہاں اور کیسے استعمال کرنا ہے۔ یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ زندگی کو کس طور جیا جائے۔ ہم پسماندگی کا شکار ہیں اور خود کو اندر ہی اندر مسمار کر رہے ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمارے باطن میں واقعی زندگی موجود ہے یا نہیں، اور آیا ہم اپنے وجود کی حقیقت سے آگاہ ہیں یا نہیں۔

انسان باہر سے ختم ہونا شروع نہیں ہوتا، بلکہ اندر سے مرنا اور خوف زدہ ہونا شروع کرتا ہے۔اکثر ہم یہ ادراک نہیں کر پاتے کہ ہم خود ہی اپنی اندرونی زندگی سے شکست کھا لیتے ہیں اور یوں اپنے وجود کو مسمار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ہماری زندگی کا اختتام اسی لمحے سے شروع ہو جاتا ہے، مگر ہم اُس وقت زندگی کو جاننے اور پہچاننے لگتے ہیں ،یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ زندگی کیا ہے اور اسے کیسے جینا چاہیےتو پھر ہمیں مہلت نہیں ملتی۔

خوشیوں کے بارے میں گفتگو کرنا بھی مشکل ہے، کیونکہ زندگی میں حقیقی خوشی شاذ ہی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ کوئی مستقبل کے غم میں مبتلا ہے، کوئی حال کی پریشانیوں میں گرفتار ہے، اور کوئی ماضی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ممکن ہے کسی نے ماضی میں کوئی غلطی کی ہو اور اسی سبب پریشان ہو؛ کوئی اپنے مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا ہے، اور کوئی اپنے حال میں آسودہ نہیں۔ یوں ہر شخص اپنی زندگی میں کسی نہ کسی فکر میں ضرور مبتلا ہے۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ فلاں شخص کتنا خوش ہے، مگر یہ نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کی بے چینی کا شکار ہے۔
کہا جاتا ہے کہ خوشی بے وفا ہوتی ہے؛ اس لیے اسے مستقل سہارا نہ بناؤ، بلکہ غم کو اپنا ساتھی سمجھو، کیونکہ خوشی ایک لمحاتی کیفیت ہے۔ انسان کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے؛ اس لیے کہ اگر تم خوف زدہ ہو جاؤ گے تو تمہارے لیے مستقبل کے دروازے بند ہو جائیں گے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

خالد جان! واپس آ جائیےتحریر ۔ محبت صدیق

منگل اپریل 28 , 2026
آپ کی موت محض میرا ذاتی المیہ نہیں، بلکہ ایک پورے گاؤں کی ویرانی کا استعارہ ہے۔ آپ اس علاقہ کی رونق تھے، اس کی زیب و زینت تھے۔ آج وہی بستی اداس، خاموش اور پژمردہ کھڑی ہے، گویا اس کی سانسیں بھی آپ کے ساتھ ہی رخصت ہو گئی […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ