کیا بی بی سی پاکستانی بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے ؟ تحریر: دل مراد بلوچ

بلوچ اگر کسی بھی نشریاتی ادارے پر بھروسہ کرتے ہیں، سنتے ہیں تو وہ بلاشبہ بی بی سی ہے، جب تک ریڈیو کی سانسیں باقی تھیں، بی بی سی کا پروگرام سیربین بلوچ سیاسی حلقوں میں فرض کی طرح سنا جاتا، سوشل میڈیا کی عفریت میں جب سیربین نگل لیا تو بھی بی بی سی سنا، دیکھا اور پسند کیا جاتا ہے۔
بی بی سی نہ ماضی میں غیرجانبدار تھا نہ آج ہے، بی بی سی کا بیانیہ اور ترجیحات زیادہ تر ریاستی موقف سے قریب ہوتے ہیں اور تجزیہ کار بھی وہ لیے جاتے ہیں جنہیں ریاست ناپسند نہ کرتا ہو، بی بی سی کم ہی غیر جانبدار یا فریق ثانی سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کاروں کو موقع دیتا ہے۔

دو تین دن پہلے بی بی سی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی ہیومین رائٹس کونسل کے ایک سیشن میں عمران خان کے بیٹے قاسم خان کی موجودگی کو نہ صرف نمایاں طور پر رپورٹ کیا بلکہ اس پر پاکستانی تجزیہ کاروں سے تفصیلی گفتگو بھی کی حالانکہ اسی سیشن کے مرکزی مقرر بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ تھے، جنہوں نے ایک طویل اور مدلل تقریر میں نہ صرف بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس کی شرائط اور ریاستی جبر پر کھل کر بات کی بلکہ قاسم خان کی موجودگی میں یہ بھی کہا کہ آج عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اسی عمران خان کے دورِ حکومت میں بلوچوں کے خلاف ریاستی زیادتیاں کسی طور کم نہیں تھیں۔

علاوہ ازیں بی این ایم کے نمائندوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مختلف اجلاسوں میں باقاعدہ شرکت کی، وہاں پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے تقاریر کیں اور اپنی میزبانی میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس بھی منعقد کی لیکن مجال ہے کہ بی بی سی نے ان سرگرمیوں پر ایک سطر بھی رپورٹ کی ہو۔ کیوں؟ کیونکہ ہیومین رائٹس کونسل کے اجلاس میں قاسم خان کی موجودگی پاکستان کے لیے ناپسندیدہ اور گھریلو مارکیٹ میں بکنے والا موضوع ہے جبکہ بی این ایم کی سرگرمیوں کا اعتراف کرنا پاکستان کے اس خدشے کو بڑھا دیتا ہے کہ بلوچ آزادی پسند تحریک مقامی اور عالمی میڈیا میں شاید جگہ حاصل کرلیں گے اور بی بی سی ۔۔۔۔بی بی سی بھی بالکل اسی پاکستانی بیانیے کے ساتھ خاموش کھڑا نظر آتا ہے۔

ایک اور موضوع

حال ہی میں بی بی سی نے بلوچ آزادی پسند جہدکاروں کی عید کے اجتماعات میں عوام سے خطاب کی چند ویڈیوز کو بنیاد کر بلوچ سماجی بُنت یا سوشل فیبرک کا تجزیہ پیش کیا ہے، ویڈیو اصلی، لوگ اصلی اور اگر بی بی سی ذرا زحمت کرتا تو میں گارنٹی دیتا ہوں کہ انہیں آزادانہ ذرائع سے تصدیق بھی بہت آسان تھا لیکن رپورٹ میں جا بہ جا "مبینہ” یا "آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہ ہوسکی” جیسے الفاظ و جملے ملتے ہے، اس سے یہ ظاہر کرنا مقصد ہے عبد کے اجتماعات سے جہدکاروں کی ملنا یا خطاب کرنا ایسی انہونی کام ہے کہ ایسے واقعات کئی سالوں بعد شاز و نادر ہوتے ہیں۔

بی بی سی اچھی طرح جانتا ہے کہ ایسے ملن اب تو روز کا معمول ہیں، لیکن رپورٹ کا انداز ایسا ہے کہ بلوچ جہدکار اور عوام کے درمیان ملنے جلنے اور رشتے کو کم سے کم دکھایا جائے، رپورٹ سے ایسا لگتا ہے کہ جہدکار صرف اسی عید کو لوگوں کی اجتماعات میں ملے ہیں اور بس، بی بی سی کو بخوبی اندازہ ہے کہ جہدکار اور عوام کبھی ایک دوسرے سے دور یا جدا نہیں ہوتے ہیں، اگر دور ہوتے یا دوری ہوتی تو یہی عوام سے ان کی رازیں فاش کرتا اور ریاست کے لیے انہیں کچلنا آسان ہوجاتا۔

وائسرائے سرفراز بگٹی جب بار بار دہائی دیتے ہیں کہ "ہم گرے میں آپشن کر رہے ہیں” اس کا مطلب ہی یہی ہے کہ عوام نے جہدکاروں کو سینے سے لگا رکھا ہے۔

بی بی سی ایک اور احسان کرکے ‘بلوچ سماجی بُنت’ یا فیبرک کے بارے میں لاہور کے کسی پنجابی کے زبان سے یہ کہلواتا ہے کہ "بلوچ مذہبی ہیں” آیا بلوچ سماجی بنت کے تجزیے کے لیے بی بی سی کو ایک بھی بلوچ تجزیہ کار نہیں ملا، بھائی صاحب، بلوچستان میں بالکل قحط الرجال نہیں، یہاں ڈاکٹر شاہ محمد مری، أنور ساجدی ایسے جیئد دانشور، صحافی، محقق اور تجزیہ کار اچھے خاصے تعداد میں موجود ہیں، لیکن سماجی تجزیے کا استحقاق بھی یہاں صرف پنجاپی کو حاصل ہے، اس کا سہرا بی بی سی کو جانا چاہئے

سالوں پہلے بی بی سی نے غلطی سے بلوچ اور فرقہ واریت (ہزارہ اہل تشیع کے قتل) کے بارے میں شاید مرحوم صدیق بلوچ یا انور ساجدی سے سوال کیا تھا، وہ جواب مجھے آج بھی یاد ہے کہ انہوں نے کہا” بلوچ مذہبی بالکل نہیں ہیں، عام بلوچ دیگر فرقہ واریت تو کجا شیعہ اور سنی میں فرق نہیں کرتا”، آج اگر أنور ساجدی سے پوچھا جاتا تو کیا ان کا جواب کچھ مختلف ہوتا یا بی بی سی مع ریاستی بیانیے کی تصدیق کرتا، میرے خیال میں قطعی نہیں، لہٰذا بلوچ کو نظر انداز کرو۔۔۔کیا فرق پڑتا ہے، لیکن فرق پڑتا ہے، بی بی سی کی قارئین و سامعین کی آج بھی اچھی خاصی اکثریت بلوچوں پر مشتمل ہے۔

بلوچ کتنے مذہبی ہیں یا نہیں، یہ الگ بحث ہے لیکن یہ طے ہے کہ بلوچ کو کبھی شناخت کو بحران درپیش نہیں رہا، پارلیمانی سیاسی جماعت کا سیاستدان ہو، انقلابی لیڈر، جہدکار ہو، سرمچار ہو، مسیت کا پیش امام ہو یا سرکاری آلہ کار، کارندہ، یہ سب اپنے بلوچ ہونے پر فخر کرتے ہیں، یہ امتیاز پورے خطے میں صرف بلوچ کو حاصل ہے۔

بلوچ کی مزاج سیکولر ہے، سیکولر کا معنی قطعاََ لادینی نہیں ہے بلکہ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی کسی سیکولر تحریک کا نظریہ مذہبی عقائد کے بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے تاریخ میں پیوست ہوتا ہے جیسا کہ بلوچ قوم پرست تحریک بنیادی طور پر سیکولر ہے کیونکہ اس کی بنیاد قومی شناخت پر ہے، مذہبی عقائد پر نہیں۔ دنیا میں ایسے سینکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ کسی بنیاد پرست مذہبی ریاست کے مقابلے میں سیکولر ریاست یا قوم میں مذہبی آزادیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں لیکن مذہبی فرقہ واریت کے نام گردنیں کاٹنے کا حق کسی کو نہیں دیا جاتا۔

پاکستان بلوچ کی اس تشخص کو ختم کرنے کے لیے ہزاروں حربے آزما چکا ہے لیکن قومی مزاج رچی بسی اس نظریے کو ختم کرنا پہلے ہی آسان نہ تھا، اب یہ نظریہ خون سے سیراب ہو رہا ہے، بلاشبہ پاکستان اور پاکستانی بیانیے کی تشہیر پر مامور بی بی سی جیسے ادارے اپنا زور آزمائیں لیکن خون سے کھنچی گئی لکیریں غیر کے الفاظ سے مٹائی نہیں جاسکتی ہیں۔

بی بی سی جیسے بادشاہ ادارے سے التجا ہے کہ اگر وہ بلوچ قوم میں اپنی احترام برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اپنے اس رویے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

BBC URDU

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

گوادر میں فائرنگ سے 3 افراد ہلاک

بدھ اپریل 1 , 2026
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے علاقے پلیری لنک روڈ میں فائرنگ کے واقعے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ صدر گوادر کی حدود میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے تینوں افراد کو قتل کیا اور فرار ہو گئے۔ ہلاک […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ