
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ رات سے شروع ہونے والے مسلح حملوں، ناکہ بندیوں اور دھماکوں کے سلسلے نے سیکیورٹی صورتحال کو کشیدہ بنا دیا ہے، جبکہ کئی اہم شاہراہوں، پولیس چوکیوں، ریلوے ٹریکس اور بجلی و گیس تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈھاڈر تا سوران مرکزی شاہراہ پر نامعلوم افراد کی جانب سے ناکہ بندی قائم کی گئی، جہاں گاڑیوں کی تلاشی لی گئی۔ اسی نوعیت کی ناکہ بندی گزشتہ روز سوراب کے علاقے میں بھی رپورٹ ہوئی تھی۔ ان واقعات میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اتوار کے روز ضلع کیچ کے علاقے شاپک میں پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ پر مسلح افراد نے حملہ کیا، جہاں تقریباً 30 منٹ تک شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسی دوران ضلع واشک کے علاقے بسیمہ، روتینکو میں بھی ایک فوجی چوکی پر 45 منٹ سے زائد عرصے تک حملہ جاری رہا، تاہم نقصانات کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
سبی کے علاقے کٹ منڈائی میں مسلح افراد نے دو گھنٹوں سے زائد عرصے تک مرکزی شاہراہ پر کنٹرول حاصل کیے رکھا اور گاڑیوں کی اسنیپ چیکنگ کی۔ دوسری جانب مستونگ کے علاقے کانک میں ایک پولیس چوکی پر قبضہ کر کے اہلکاروں کا اسلحہ ضبط کیا گیا اور ایک سرکاری گاڑی کو نذر آتش کر دیا گیا، تاہم ان واقعات میں بھی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
نوشکی کے علاقوں احمدوالد اور گومازی میں ریلوے ٹریک کو مختلف مقامات پر دھماکوں سے تباہ کیا گیا، جبکہ کوئٹہ کے قریب تیرہ میل اور ایری گیشن کالونی کے علاقوں میں بھی ریلوے لائن اور پل کو نقصان پہنچا۔ ان دھماکوں کے باعث ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔
ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں محمد کالونی کے قریب گیس پائپ لائن کو بھی بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ نصیر آباد کے قریب ڈیرہ مراد جمالی میں پنجاب جانے والی بجلی کے مرکزی ٹاورز پر حملوں کے نتیجے میں دو ٹاور زمین بوس اور متعدد متاثر ہوئے۔ سبی کے قریب بھی بجلی کے ٹاورز کو نقصان پہنچایا گیا۔
کوئٹہ کے علاقوں سریاب، اغبرگ اور ولی جیٹ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو مختلف حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جہاں فائرنگ اور دستی بم حملوں کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ایف سی کے تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی زخمی بتایا جاتا ہے۔
تاحال ان حملوں اور کارروائیوں کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔
