
بلوچ آزادی پسند رہنما اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہ اکہ کوئی بھی شخص تحریک آزادی سے بالاتر نہیں۔ اگر فتنہ الأرض یعنی پنجابی فوج پنجگور جیسے ایک شہر میں 20 بلوچوں کو قتل کر سکتی ہے تو عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو یہ سوال کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں جب بلوچ آزادی پسند پنجاب میں داخل ہوجائیں۔ فتنۃ الارض فوج کے اقدامات نے آزادی پسندوں کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ ہم اپنی ثقافت، شناخت اور وطن کے لیے جانیں قربان کر رہے ہیں۔ اپنی کھوئی ہوئی آزادی کا دفاع کرنا ہمارا جائز حق ہے۔ اس کے باوجود، جب بلوچ نسل کشی پر بات آتی ہے تو عالمی برادری اور پنجابی دانشوروں نے اپنے لبوں پر مہر لگا لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم قریب سے دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح بین الاقوامی ادارے اپنے اتحادی پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اپنی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہیں۔ اب تک ہم نے اپنی جدوجہد بلوچستان تک محدود کر رکھی ہے لیکن جنگ کا تھیٹر پنجاب کے دل میں منتقل ہونے پر کوئی آپشن نہیں بچے گا۔
