
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک مبینہ فضائی حملے کے نتیجے میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو شدید نقصان پہنچنے اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
طالبان حکومت کے مطابق اس حملے میں 200 سے زائد مریض جاں بحق جبکہ تقریباً 200 دیگر زخمی ہوئے ہیں، اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں جو علاج کی غرض سے مرکز میں موجود تھے۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کیا گیا، جس میں افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کابل میں واقع بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو افغانستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ حملہ بین الاقوامی انسانی اصولوں اور قوانین کے منافی ہے اور اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
