
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جبری گمشدگیوں کے واقعات کی اطلاعات بدستور سامنے آرہی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد افراد کو گھروں اور مختلف مقامات سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق 10 مارچ کی شب ضلع گوادر کے علاقے پانواں جیونی سے کمبر ولد امام بلوچ کو پاکستانی فورسز نے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا اور بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ اسی روز اسی علاقے سے زیم ولد محمد رحیم کو بھی حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیے جانے کی اطلاع ہے۔
اسی طرح 11 مارچ کو ضلع کیچ کے علاقے جوسک سری کہن، تربت سے خالد حبیب ولد حبیب اللہ کو بھی پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
مزید اطلاعات کے مطابق ضلع پنجگور کے علاقے تسپ سے جاسف ولد عارف کو بھی حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا۔
کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی سے نبی بخش بلوچ ولد بہرام بلوچ کو گھر سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاع ہے، جبکہ ضلع نوشکی کے علاقے کلی جمالدینی سے مدثر ولد فیض اللہ کو بھی حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جبری گمشدگی کا شکار پانچ افراد کی بازیابی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بازیاب ہونے والوں میں کلیم اللہ ولد اسد اللہ، سکنہ خداآباد پنجگور شامل ہیں جنہیں حراست میں لینے کے بعد 12 مارچ 2026 کو حب چوکی کے مقام پر رہا کیے جانے کی اطلاع ہے۔
اسی طرح زاہد ولد عبدالرحمان، سکنہ جیونی کو حراست میں لینے کے بعد 26 فروری 2026 کو رہا کیے جانے کی اطلاع ہے۔ جبکہ عدنان ولد دل مراد اور احسن ولد دل مراد، سکنہ جیونی کو حراست کے بعد رواں سال 3 اور 9 مارچ کو رہا کر دیا گیا۔
مزید برآں عبدالوہاب ولد عبدالغنی، سکنہ گریشگ، خضدار کو حراست میں لینے کے بعد 10 مارچ کو پنجاب کے شہر لاہور میں رہا کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
متاثرہ خاندانوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کا نوٹس لیں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
