بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حملے اور جھڑپیں، سرکاری تنصیبات پر قبضہ متعددد ہلاکتیں

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بدھ کے روز مسلح کارروائیوں اور جھڑپوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سرکاری تنصیبات پر قبضے، بم حملوں اور پاکستانی فورسز کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

خضدار کے علاقے کرخ میں مسلح افراد نے پولیس تھانے، نادرا دفتر اور دیگر سرکاری عمارتوں پر دھاوا بول کر انہیں اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کی گئی جبکہ کرخ کراس اور مولہ کراس پر چیک پوائنٹس قائم کیے گئے۔

مولہ کراس پر قائم پولیس چیک پوسٹ کو قبضے کے بعد نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاع ہے، جبکہ وہاں تعینات اہلکاروں کو حراست میں لینے کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔ بعد ازاں علاقے میں پیش قدمی کرنے والی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات ہیں۔

کرخ کے قریب محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کی گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم سات اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حب چوکی میں پولیس تھانے پر بم حملہ

حب چوکی میں مرکزی شاہراہ پر قائم سٹی پولیس تھانے کو دستی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے کی آواز دور دراز علاقوں تک سنی گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، تاہم ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

سبی کے قریب گلو شہر میں بھی مسلح افراد کی کارروائی کی اطلاعات ہیں، جہاں پولیس تھانے سمیت دیگر سرکاری عمارتوں پر قبضہ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا اور پولیس اہلکاروں کو حراست میں لینے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ لونی روڈ اور ناڑی گاج روڈ پر ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی جا رہی ہے جبکہ مختلف مقامات پر مسلح افراد کی گشت دیکھی گئی ہے۔

کیچ کے علاقے سامی، ہفتاری میں سی پیک روٹ پر فورسز کی گاڑی کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی تباہ ہونے اور اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

گوادر کی تحصیل پسنی میں کسٹمز آفس پر دستی بم حملے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔

تاحال کسی تنظیم کی جانب سے ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ جاری، 5096 دن مکمل

بدھ مارچ 4 , 2026
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام جبری گمشدگیوں کے خلاف قائم احتجاجی کیمپ کو آج کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 5096 دن مکمل ہوگئے۔ احتجاجی کیمپ کے دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کر کے اظہارِ یکجہتی کیا اور […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ