
بلوچ نیشنل موومنٹ کی مرکزی کمیٹی کا پانچواں اجلاس چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مرکزی کمیٹی کی خالی نشست پر انتخاب، خارجہ ڈیپارٹمنٹ، ہیومن رائٹس ڈیپارٹمنٹ، انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں۔ تنظیمی امور، پارٹی فنانس، بلوچستان اور خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال اور ریاستِ پاکستان کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ اجتماعی سزا کی پالیسی پر تفصیلی بحث و مباحثہ کیا گیا۔ اجلاس میں اہم تنظیمی و سیاسی فیصلے بھی کیے گئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم اس وقت بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ آج پاکستان کی جانب سے بلوچ قوم نسل کشی، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل ( مارو اور پھینکو پالیسی)، اجتماعی سزا، جبری نقل مکانی جیسے مظالم کا سامنا کر رہی ہے۔ پاکستان کے یہ اقدامات محض جبر نہیں بلکہ ایک منظم اجتماعی سزا، قومی وجود کو کمزور کرنے اور قومی تحریک کو کچلنے کی بھیانک حکمت عملی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج سخت ترین حالات کے باوجود بلوچ قوم اپنی قومی تحریک سے وابستگی پر قائم ہے اور مسلسل قربانیاں دے رہی ہے۔ پچیس سالوں سے عسکری طاقت کے بہیمانہ مسلسل استعمال قومی تحریک کو کمزور اور کچلنے میں ناکامی کے بعد ریاست پاکستان اجتماعی سزا جیسے غیر انسانی اقدامات کا سہارا لے رہی ہے۔ اس کا مقصد واضح ہے کہ بلوچ قوم کو کسی بھی قیمت پر قومی تحریک سے دستبردار کیا جائے۔
چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا بلوچ قومی آزادی کے حق میں اور ریاستی دہشت گردی کو عیاں کرنے کے لیے عالمی سطح پر اپنے جاری سرگرمیوں میں مزید شدت لائی جائے، قومی آزادی کے حصول کے لیے عالمی سطح پر سفارتی مہم کو تیز اور بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور پارلیمانی فورمز پر بلوچستان کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کیا جائے گا۔ خارجہ اور ہیومین رائٹس دیپارٹمنٹ سمیت دیگر اداروں کی استعداد کار میں اضافے کیا جائے گا۔
چیئرمین نے کہا کہ ایک قومی سیاسی جماعت ہونے کے ناتے پارٹی پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک طرف اندرونِ بلوچستان منظم مزاحمت اور سیاسی شعور کی بیداری اور دوسری طرف عالمی سطح پر بلوچ قومی مقدمے کی مؤثر ترجمانی۔ لہٰذا پارٹی پروگرام کی تشریح اور اس پر عملدرآمد صرف کابینہ ہی نہیں بلکہ مرکزی کمیٹی اور تمام ذمہ داران کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ موجودہ حالات میں پارٹی کو اپنے دستیاب وقت، وسائل اور توانائی کو مزید منظم اور مربوط انداز میں استعمال کرنا ناگزیر ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات قابل اطمینان ہے کہ بلوچستان میں جنگی حالات میں پارٹی کی سرگرمیاں جاری ہیں اور عالمی سطح پر پارٹی اپنے چیپٹرز اور خارجہ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے سفارتی و سیاسی محاذ پر متحرک ہے۔ آج ہم بین الاقوامی کانفرنسز، سیمینارز اور بڑے ممالک کے آفیشلز سے روابط و ڈرافٹنگ کے ذریعے بلوچ قومی سوال کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل دل مراد بلوچ نے کہا کہ کسی بھی قومی پارٹی کے پالیسیوں کا تعلق محض اپنی پارٹی، مخصوص دورانیہ یا قیادت کی مدت سے وابستہ نہیں بلکہ یہ قومی تحریک اور قومی بقا کے جدوجہد میں پارٹی پالیسیوں کا مظہر ہوتے ہیں۔ گوکہ ہماری موجودہ سیٹ اپ کا دورانیہ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے، مگر آج تشکیل دی جانے والی پالیسیاں کسی ایک سیشن تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ تحریک کے آئندہ مرحلوں کی بنیاد بنتی ہیں۔
انھوں نے کہا میرے لیے ہمیشہ سے اتحاد کا حقیقی مفہوم پارٹی کے اندرونی اداروں، قیادت اور رینکس اینڈ فائل کے درمیان فکری ہم آہنگی اور اعتماد رہا ہے۔ جداگانہ سوچ، الگ نقطہ نظر، اختلافِ رائے کو ادارہ جاتی دائرے میں رکھ کر آگے بڑھنا ہی تنظیمی پختگی ہے، البتہ نظریے پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دل مراد بلوچ نے کہا کہ ہم سب قومی تحریک کا حصہ ہیں۔ موجودہ بلوچ قومی جدوجہد مختلف سیاسی و سماجی اجزاء کے باہمی اشتراک سے تشکیل پانے والی ایک جامع تحریک ہے۔ اس عمل میں شامل ہر پارٹی اور تنظیم اپنی تنظیمی شناخت اور فکری دائرۂ کار کے ساتھ آزادانہ کردار ادا کرتی ہے۔ یہ آزادی ذمہ دارانہ اور باشعور فیصلہ سازی اور بہترین نتائج کا ضامن رہی ہے۔ یہی عمل مضبوط اور بااعتماد تنظیمی کردار کو جنم دیتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سیاسی عمل سمیت ہر شعبۂ زندگی میں باہمی انحصار ایک فطری حقیقت ہے۔ یہ انحصار باہمی احترام، مشاورت اور اعتماد کی بنیاد پر ہونا چاہئے نہ کہ کسی تنظیم یا پارٹی کی خودمختیاری کی قیمت پر، ایسی ہم آہنگی ہی تحریک کو مضبوط بناتی ہے اور تمام اجزا کو مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
دل مراد بلوچ نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی بڑے اسٹریٹجک فیصلے سے قبل تحریک کے مختلف حلقوں اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے لینا سیاسی بصیرت، شفافیت اور اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا ہے۔ ان کے مطابق باہمی مشاورت اور احترام پر مبنی فیصلہ سازی نہ صرف تحریک کے اتحاد کو مستحکم کرتی ہے بلکہ اس کی اخلاقی اور سیاسی ساکھ کو بھی تقویت فراہم کرتی ہے۔
دل مراد بلوچ نے کہا طویل غلامی اور طاقت کے محور پر مبنی پاکستانی ریاستی ساخت نے ہماری سیاست کو بھی متاثر کیا ہے، جس میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ تحریک میں محاذ کے علاوہ دیگر اجزائے ترکبی کی اہمیت ثانوی ہے، یہ نہایت نقصان دہ عمل ہے، جس کا کسی کو بھی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ یہ قومی نقصان کے مترادف ہے۔ تحریک کے اجزائے ترکیبی میں عدم توازن سے عالمی سطح پر تحریک کے شبیہ کے بارے منفی تاثر پیدا ہوگا جس کا بلوچ کسی بھی عنوان پر متحمل نہیں ہو سکتا۔
آخر میں دل مراد بلوچ نے خود احتسابی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنی تنظیمی پوزیشن، ممبرشپ، کیڈر کی سمت اور سیاسی اثر پذیری کا دیانت دارانہ جائزہ لینا ہوگا۔ منظم سیاسی حکمت عملی اور عالمی سطح پر مؤثر سفارتی مہم ہماری قومی ضرورت ہے کیونکہ اس کے لیے دانشمندانہ، متوازن اور دور اندیش سیاسی حکمت عملی ہی تحریک کو محفوظ اور مؤثر سمت دے سکتی ہے۔
