
قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کا دھرنا جبری گمشدگی کے شکار سعید بلوچ کی بازیابی کے مطالبے کے ساتھ ساتویں روز بھی جاری رہا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے کیمپس کے اندر احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم نہ یونیورسٹی انتظامیہ اور نہ ہی اسلام آباد انتظامیہ نے ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی عملی اقدام اٹھایا ہے۔
مظاہرین کے مطابق انتظامیہ مسلسل تاخیری حربے اور دباؤ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ رپورٹ جو 28 نومبر 2025 تک بلوچ طلبہ کے سامنے پیش کی جانی تھی تاحال جمع نہیں کرائی گئی، جبکہ سعید بلوچ کے کیس کی یکم دسمبر کو مقررہ سماعت بھی بغیر کسی وجہ کے مؤخر کر دی گئی۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ تاخیر اور رکاوٹیں محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد طلبہ کی آواز کو دبانا ہے۔ کونسل کا کہنا تھا کہ ایسے ہتھکنڈے ان کے حوصلے کمزور نہیں کر سکتے۔
طلبہ نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک یونیورسٹی کی تعلیمی و انتظامی سرگرمیوں کو معمول کے مطابق نہیں چلنے دیا جائے گا اور اس صورتِ حال کی مکمل ذمہ داری قائداعظم یونیورسٹی اور اسلام آباد انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
