
افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیور سرحد کی طویل بندش کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ 12 اکتوبر سے جاری کشیدگی کے بعد سرحد بند ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں کنٹینرز اور دیگر گاڑیاں علاقے میں پھنس کر رہ گئی ہیں۔
ڈرائیوروں کے مطابق مسلسل تاخیر کی وجہ سے ان کے پاس رقم ختم ہو چکی ہے اور وہ کھانے پینے کی بنیادی اشیا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ گاڑیوں میں گھی، چینی اور دیگر پرچون کا سامان لوڈ ہے اور یہ سامان افغانستان کے سرحدی شہر سپین بولدک پہنچانا تھا، مگر بارڈر بند ہونے کے باعث ترسیل ناممکن ہے۔
35 روز سے زائد عرصہ سے پھنسے ڈرائیور ملت خان نے بتایا کہ ان کا واحد مطالبہ ہے کہ دونوں حکومتیں فوری طور پر راستہ نکالیں تاکہ وہ اس اذیت ناک صورتحال سے باہر نکل سکیں۔
ایک اور ڈرائیور نعیم شاہ نے بتایا کہ گاڑیوں پر 50 سے 60 ٹن تک وزن ہے جس کے باعث ٹائروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بروکرز سے رقم مانگنے پر جواب ملتا ہے کہ ان کے پاس بھی فنڈز نہیں۔
ڈرائیور عصمت اللہ نے بتایا کہ گزارے کے لیے انہیں اپنی گاڑی میں موجود ڈیزل فروخت کرنا پڑا۔ ان کے مطابق کراچی سے چمن تک اب تک فی گاڑی ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
بلوچستان حکومت کے حکام نے معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا تاہم ایک انتظامی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرحد کھولنے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔
چمن سرحد بھی خیبر پختونخوا کے طورخم کی طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بڑی تجارتی گزرگاہ ہے۔ سرحد کی بندش نے نہ صرف دونوں ممالک کے تاجروں کو بڑے معاشی نقصان سے دوچار کیا ہے بلکہ وہ ہزاروں افراد بھی متاثر ہوئے ہیں جن کا روزگار بارڈر ٹریڈ پر منحصر ہے۔
ڈرائیوروں نے ایک بار پھر حکومت پاکستان اور افغانستان سے اپیل کی ہے کہ صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں۔
