
پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان سرحد کے قریب ہونے والی جھڑپوں میں 30 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے، جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں فوج کے 5 اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 اور 25 اکتوبر کی درمیانی شب افغان سرحد پار سے عسکریت پسندوں نے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ فوج کے مطابق ضلع کرم کے جنرل ایریا غاخی اور شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں عسکریت پسندوں کے دو گروہوں نے دراندازی کی کوشش کی، جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق جھڑپوں میں چار خودکش حملہ آوروں سمیت 25 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، جب کہ پانچ سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ دراندازی اس وقت ہوئی جب استنبول میں پاکستان اور افغان وفود کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ “دراندازی کی یہ کوشش عبوری افغان حکومت کے ارادوں پر سوال اٹھاتی ہے”، اور کابل حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دوحہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
واضح رہے کہ افغان طالبان حکومت ماضی میں بھی پاکستان کی جانب سے لگائے جانے والے دراندازی کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
