
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما سمی دین بلوچ نے کہا ہے کہ ذیشان ظہیر کا ناحق قتل نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے بلوچستان کے لیے صدمے کا باعث بنا ہے۔ ہر گھر غم میں ڈوبا ہوا ہے اور ہر دل افسردہ، یہ سانحہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں، بلکہ انصاف، انسانیت اور امید کے قتل کی ایک المناک داستان ہے۔
سمی دین بلوچ نے کہا کہ ایک گھر جس کا سربراہ، ظہیر بلوچ، گزشتہ دس سالوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہے، اُس گھر کا اکلوتا بیٹا ذیشان، جو اپنے باپ کی بازیابی کے لیے پرامن جدوجہد کر رہا تھا، اُسے بے دردی سے قتل کر دینا محض ایک جرم نہیں بلکہ پورے خاندان کو اجتماعی سزا سزا دینے کا تسلسل ہے۔ ذیشان کے اہلِ خانہ پر جو قیامت گزری ہے، وہ الفاظ سے بیان نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ جہاں ظلم، درندگی اور لاقانونیت کو ریاستی پشت پناہی حاصل ہو، وہاں انسانی زندگی کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر لاشیں ملتی ہیں، اور سوال یہ ہے کہ بلوچ کس کے در پر انصاف مانگنے جائیں؟ کس عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کریں، جب ریاست ہی خود منصف بھی ہو اور ظالم بھی؟
ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل بلوچستان میں معمول بن چکے ہیں۔ ان سنگین جرائم پر نہ کوئی ریاستی ادارہ حرکت میں آتا ہے، نہ کوئی قانون حرکت میں آتا ہے، اور نہ ہی احتساب کا کوئی عمل نظر آتا ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ اس صورتحال پر بے حسی طاری ہے، جو کہ ایک قوم کے لیے انتہائی خطرناک علامت ہے۔

