
ڈیرہ غازی خان سے موصول اطلاعات کے مطابق بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل بہاولپور کے سابق چیئرمین اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ایم فل پولیٹیکل سائنس کے طالبعلم زبیر بلوچ کو گزشتہ شب پاکستانی فورسز نے ان کے گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق زبیر بلوچ کو رات تقریباً ڈیڑھ بجے ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، جس کے بعد سے ان کے اہل خانہ کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
اہل خانہ نے زبیر بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں ماورائے آئین حراست میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ زبیر بلوچ کو جلد از جلد منظر عام پر لایا جائے۔
واضح رہے کہ بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں کے واقعات پر ماضی میں بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
