
اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں کا پرامن احتجاجی دھرنا 49ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنماؤں کو رہا کیا جائے اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
گزشتہ 48 دنوں سے خواتین بچے اور بزرگ سخت موسم، شدید بارشوں اور تپتی دھوپ کا سامنا کرتے ہوئے احتجاج پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ تاہم حکومت اور مرکزی دھارے کے میڈیا کی خاموشی برقرار ہے۔ اس سب کے باوجود اہلخانہ کا عزم کمزور نہیں پڑا اور وہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ثابت قدم ہیں۔
اس موقع پر جیئند لیاقت کی بہن، سمیرین بلوچ نے بھی اسلام آباد کے جاری احتجاجی کیمپ میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنے بھائی کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے۔
سمیرین بلوچ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کریں اور اُن خاندانوں کا ساتھ دیں جو اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں۔
اس حوالے سے سمی دین بلوچ نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔
سمی دین بلوچ نے کہا کہ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔
