
کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے آج 6162ویں روز بھی جاری رہا۔ احتجاجی کیمپ کی قیادت تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد نے کی۔
احتجاجی کیمپ کے دوران جبری لاپتہ فیض بلوچ کے اہلِ خانہ نے وی بی ایم پی کے سیکرٹری جنرل حوران بلوچ سے ملاقات کی اور اپنے پیارے کی بازیابی کے لیے مدد کی اپیل کی۔ لواحقین کے مطابق فیض بلوچ ولد جان محمد، رہائشی ملانٹ، کو یکم مارچ 2020 کو مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز نے گھر سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نہ تو فیض بلوچ کو کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت اور کرب کا شکار ہے۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے سیکرٹری جنرل حوران بلوچ نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ فیض بلوچ کے کیس کو ملکی قوانین کے تحت اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھایا جائے گا اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر ممکن فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔
انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ فیض بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ خاندان کی طویل اذیت کا خاتمہ ہوسکے۔
