
بلوچستان کے مختلف اضلاع کیچ اور گوادر میں حالیہ موسلا دھار بارشوں نے نظامِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ مغربی ہواؤں کے طاقتور سلسلے کے باعث مکران ڈویژن بھر میں شدید بارشیں ریکارڈ کی گئیں، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، سڑکیں متاثر ہوئیں اور کئی علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
کیچ کے مرکزی شہر تربت میں بارشوں کے بعد جمع شدہ پانی کی نکاسی کے لیے میونسپل کارپوریشن نے ہنگامی بنیادوں پر صفائی اور نکاسیٔ آب کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق عملہ مختلف علاقوں میں مشینری کے ذریعے پانی کی نکاسی، کیچڑ کی صفائی اور سڑکوں کی بحالی میں مصروف ہے، جبکہ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق بارشوں سے متاثرہ سڑکوں کی فوری مرمت بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ڈیٹ فارم تربت کی ٹیموں نے ایئرپورٹ روڈ سے ڈی بلوچ روڈ تک مختلف مقامات پر گڑھوں کو بھرنے اور سڑک کی بحالی کا کام مکمل کیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ترجیح ہے اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ضلع کیچ کے علاقے بہمن میں برساتی نالوں کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا، جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور میونسپل کارپوریشن کی مشترکہ ٹیموں نے ڈنک، بہمن، شاہی تمپ سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور نقصانات کا جائزہ لیا۔
جمعہ 27 مارچ کی بارشوں کے بعد میرانی ڈیم میں پانی کی سطح بڑھ کر 242 فٹ تک پہنچ گئی ہے، جس سے آبی ذخائر میں بہتری کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
تربت کے علاقے واسطو بازار میں شدید بارشوں کے باعث تین فٹ سے زائد پانی جمع ہو گیا، جس سے گھروں اور دکانوں کو نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ علاقہ مکینوں نے فوری نکاسیٔ آب کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب تربت-بلیدہ روڈ بھی متعدد مقامات پر متاثر ہوئی ہے، جہاں لینڈ سلائیڈنگ اور زمین دھنسنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، خصوصاً پلوں کے قریب صورتحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں نے سڑک کی مبینہ ناقص تعمیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادھر گوادر کے علاقوں جیونی، پلیری، پیشکان، چھب ریکانی، سربندن اور شہر میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی۔ پیشکان میں ہوا کی شدت سے گھروں کی چھتوں پر نصب سولر پینل اکھڑ گئے جبکہ کئی مقامات پر بجلی کے کھمبے گرنے سے علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔
محکمہ موسمیات نے پہاڑی علاقوں میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ماہرین کے مطابق طویل خشک سالی کے بعد ہونے والی حالیہ بارشوں سے جہاں ایک جانب مشکلات پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب آبی بحران میں کمی اور زرعی سرگرمیوں میں بہتری کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔
