
جنیوا: بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی جانب سے عالمی مہم کے سلسلے میں جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے واقع مشہور “بروکن چیئر” کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ اور فوٹو نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ اس مظاہرے کا مقصد بلوچستان میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔
مظاہرے میں بی این ایم چیرمین ڈاکٹر نسیم، مہرا بلوچ، حفیظان وڈھیو، حکیم واڈیلہ، ڈاکٹر لکھو لوہانہ، فہیم بلوچ، اصغر بلوچ اور جمال بلوچ سمیت مختلف رہنماؤں اور کارکنان نے شرکت کی اور خطاب کیا۔
مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، فوجی آپریشنز اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دہائیوں سے جاری ہیں، تاہم عالمی برادری کی خاموشی تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان انصاف کے لیے بین الاقوامی اداروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے احتجاجی مظاہرے بلوچستان کے عوام کی آواز کو عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے ناگزیر ہیں، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرے۔
بی این ایم کے مطابق اس عالمی مہم کا مقصد بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بین الاقوامی فورمز تک پہنچانا ہے، جبکہ جنیوا میں ہونے والا یہ احتجاج اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس میں مختلف ممالک سے آئے کارکنان نے بھی اظہارِ یکجہتی کیا۔
احتجاج کے اختتام پر شرکاء نے کہا کہ “جنیوا کے دل میں، بروکن چیئر کے سائے تلے، بلوچ عوام کی آواز ایک بار پھر دنیا تک پہنچائی گئی۔”
بی این ایم نے اعلان کیا کہ وہ اپنی عالمی مہم کو مزید تیز کرے گی تاکہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کو دنیا بھر میں اجاگر کیا جا سکے۔
