
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ بدستور جاری ہے، جو آج 6115ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ کیمپ کی قیادت تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کر رہے ہیں۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس موقع پر وی بی ایم پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات غلام فاروق بھی موجود تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غلام فاروق کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے اجاگر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لاپتہ افراد کے لواحقین خود سامنے آئیں اور اپنے کیسز کے شواہد فراہم کریں۔ ان کے مطابق لواحقین کی عدم موجودگی میں نہ تو قومی سطح پر اور نہ ہی بین الاقوامی فورمز پر ایسے کیسز کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اپیل کی کہ وہ خاموشی ترک کریں اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ثبوت کے ساتھ آواز بلند کریں۔ غلام فاروق نے سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ لواحقین کو سامنے لانے اور اس مسئلے کے حل میں فعال کردار ادا کریں۔
احتجاجی کیمپ میں شرکاء نے جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
