
کوئٹہ — بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام احتجاجی کیمپ 6114ویں روز بھی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری رہا۔ کیمپ کی قیادت تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کر رہے ہیں۔
احتجاجی کیمپ کے دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا اور جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔
اس موقع پر نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ملکی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جو اس صدی کے بڑے انسانی المیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان میں ہزاروں افراد لاپتہ ہیں، جس کے باعث متاثرہ خاندان شدید ذہنی و جذباتی اذیت کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون اقدامات کے باعث عوام میں عدم تحفظ بڑھ رہا ہے اور ریاستی اداروں پر اعتماد مجروح ہو رہا ہے، جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا خاتمہ کیا جائے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
آخر میں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
