
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 19 مارچ 2026 کو مستونگ کے علاقے شیخ واصل کے مقام پر کوئٹہ-تفتان روڈ پر ناکہ بندی کی۔ یہ کارروائی رات گئے تک جاری رہی، جس کے دوران شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر معطل رکھا گیا۔ اس دوران ہر قسم کی مشکوک گاڑیوں کی کڑی اسنیپ چیکنگ کی گئی اور شاہراہ پر سرمچاروں کا کنٹرول قائم رہا۔
ترجمان نے کہا کہ ناکہ بندی کے دوران وہاں موجود لیویز چیک پوسٹ کو سرمچاروں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ کارروائی کے دوران چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ قابض ریاست کی سہولت کاری کے لیے استعمال ہونے والی اس پوسٹ کو نذرِ آتش کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ حراست میں لیے گئے اہلکاروں کو تنبیہ کے بعد رہا کر دیا گیا کہ وہ قابض قوتوں کے آلہ کار بننے سے گریز کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 18 مارچ 2026 کو ایک منظم کارروائی کے دوران بارکھان اور رکھنی کے درمیانی علاقے سمیت، کوہلو میں شاہراہِ بوڑی عیشانی کے متعدد مقامات پر ناکے لگائے۔ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ناکہ بندی کے دوران تمام گزرنے والی گاڑیوں کی سخت اسنیپ چیکنگ کی گئی۔ ناکہ بندی کے دوران بارکھان پولیس کے ایس پی سعد آفریدی کے اسکواڈ کی دو گاڑیاں ناکہ بندی والے مقام پر پہنچیں، جنہیں سرمچاروں نے رکنے کا اشارہ کیا مگر وہ رکے نہیں بلکہ ناکہ بندی توڑ کر بھاگنے کی کوشش کی جس پر دونوں گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، یہ فائرنگ صرف تنبیہ کے طور پر کی گئی تھی تاکہ انہیں اپنی پالیسی پر نظرثانی کا موقع دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم پولیس اہلکاروں کو سخت وارننگ دیتے ہیں کہ وہ آئندہ سرمچاروں کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی سے گریز کریں، بصورتِ دیگر وہ اپنے جانی و مالی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ اس کارروائی کے دوران حراست میں لیے گئے ایک پولیس اہلکار کو سرمچاروں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا۔
ترجمان نے کہا کہ اسی روز 18 مارچ کی ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے قلات کے علاقے سنگ داس میں آر سی ڈی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے ٹریفک کو معطل رکھا۔ کافی دیر تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں گاڑیوں کی تلاشی لی گئی لیکن دشمن فورسز کے کسی کانوائے، یا مخبر کا گزر وہاں سے نہ ہوا۔ ناکہ بندی کے ذریعے علاقے کے تزویراتی راستوں پر مکمل گرفت حاصل کی گئی۔ ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے عوام کو آزادی کیلئے مسلح جدوجہد کی ضرورت، افادیت، اہمیت اور مقاصد سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں کی مذکورہ کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ تمام کلیدی شاہراہیں اور تزویراتی گزرگاہیں ہماری پہنچ اور براہِ راست کنٹرول میں ہیں۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی یہ ناکہ بندیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ علاقائی جغرافیہ اور مواصلاتی رابطوں پر ہماری گرفت مضبوط ہے۔ دشمن کے سیکیورٹی حصار کے باوجود، سرمچاروں کا دن دیہاڑے اہم شاہراہوں کو بلاک کرنا اور عسکری نظم و ضبط کے ساتھ کئی گھنٹے چیکنگ کا عمل جاری رکھنا ہماری آپریشنل برتری اور زمینی تسلط کی علامت ہے، جسے چیلنج کرنا دشمن کے بس میں نہیں رہا۔
