بلوچستان میں مسلح کارروائی اور جھڑپیں، مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز پر مزید۔ حملے

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مسلح کارروائیوں اور جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں سی پیک شاہراہ پر ناکہ بندی، فورسز کی گاڑی پر حملہ اور فوجی چوکیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ضلع خضدار کی تحصیل کرخ میں گزشتہ ہفتے ہونے والے حملوں کے بعد ایک بار پھر مسلح افراد علاقے میں داخل ہوئے اور سی پیک شاہراہ پر چیک پوائنٹ قائم کرکے ناکہ بندی کردی۔ اطلاعات کے مطابق ناکہ بندی کے دوران گاڑیوں کی تلاشی لی گئی۔

مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ناکہ بندی کے دوران فرار کی کوشش کرنے والے دو افراد ہلاک جبکہ ایک شخص کو گرفتار کیا گیا، جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کا تعلق مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے تھا۔ تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد پاکستانی فورسز نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی، جس کے دوران فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 4 مارچ کو بھی بڑی تعداد میں مسلح افراد کرخ شہر میں داخل ہوئے تھے اور پولیس تھانوں سمیت بعض سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی، جبکہ حالیہ واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے تجابان میں پاکستانی فورسز کی ایک گاڑی کو دھماکہ خیز مواد کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاع ہے۔ سرکاری ذرائع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایف سی کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو نامعلوم افراد نے حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں گاڑی کو نقصان پہنچا اور دو اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمی اہلکاروں کو قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا جبکہ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے۔

ادھر مند کے علاقوں شیپچار اور اپسی کہن میں بھی پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک فوجی قافلہ جب ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں لینے کے لیے جا رہا تھا تو راستے میں ایک گاڑی آئی ای ڈی سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

مزید اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے دو مزید چوکیوں کو بھی نشانہ بنایا، جہاں تقریباً ایک گھنٹے تک شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی جاتی رہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں اب تک پاکستانی فوج کو بیک وقت پانچ حملوں میں نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں دو فوجی چوکیوں پر شدید نوعیت کے حملے بھی شامل ہیں۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

تربت اور ہیرونک میں پاکستانی فوج پر حملہ کرکے جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ میجر گہرام بلوچ 

پیر مارچ 9 , 2026
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 8 مارچ 2026 کو کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ائیرپورٹ کے مرکزی دروازے کی سیکیورٹی پر مامور فرنٹیر کور اور اے ایس ایف (ASF) کی مشترکہ چوکی پر حملہ کرکے گرنیڈ […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ